سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(80) ہندوستان میں مسلک عمل بالحدیث تاریخ کی روشنی میں

  • 3637
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-06
  • مشاہدات : 550

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہندوستان میں مسلک عمل بالحدیث تاریخ کی روشنی میں


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بہت سے بھولے بھٹکے عوام اور جعلی مولویوں کا ایک گروہ یہ کہتا رہتا ہے۔ کہ مسلک اہل حدیث ایک نو پیداشدہ مذہب ہے۔جو اس کی  تکرار ماضی قریب میں پیدا ہوا تھا۔ جس کے جوابات ہمیشہ ہمارے جماعت کے عالم قدیم اسلامی لٹریچر سے دیتے رہتے ہیں۔اس کی اس قدر تکرار کئ گئی ہے۔اور اتنی کتابیں اس مضمون پر لکھی گئی ہیں۔کہ ہم ان  کی تعداد کا اپنے ذہن میں  تصور بھی نہیں لاسکتے مگر  پھر بھی کہین نہ کہیں سے کوئی ن کوئی  مولوی اورپیر بول ہی پڑتے ہیں۔اور اس پرانے جھوٹ کا اعادہ کرتے رہتے ہیں۔اس لئے آج کی صحبت میں پھر ہم اس پر کچھ لکھنا چاہتے ہیں۔ اورایسے لوگوں سے اللہ کا واسطہ دے کر یا باادب درخواست کرتے ہین۔کہ جن کو مسند عالم پر بیٹھ کر جماعت اہل ھدیث اور علمائے محدثین پر ہمیشہ غلط اور پر فریب الزام لگانے کی عادت ہوچکی ہے۔کہ وہ اللہ سے ڈریں۔اوریوم الحساب کا تصور کریں۔کہ جب بارگاہ الٰہی میں جھوٹے اور  پر فریب الزامات کے مقدمات پیش ہوں  گے اور عاملین بالحدیث اور علماء محدثین بارگاہ الٰہی میں یہ فریاد کریں گے ۔کہ اے ہمارے پاک مولا ان ہمارے بھایئوں نے ہمارے سیدنا محمد رسول اللہﷺ کے صحیح طریقہ پر عمل کرنے کی وجہ سے ہم پر جھوٹے الزامات لگائے۔بہتان بازیاں کی تھیں۔صرف تیرے نبی کریمﷺ کی سنتوں پر عمل کرنے والوں کو یہ دستار علمدین  باندھنے والے گمراہ و بے دین کہا کرتے اور اپنے ر ائے قیاس والے معمولات و محدثات کو عوام میں پھیلانے کے لئے لمبی لمبی تقریریں کیا کرتے تھے۔ اور مسند تعلیم پر بیٹھ کر اپنی پر ہیچ تاویلوں اورلطیفوں اور حیلہ جویئوں سے حدیثوں کو رد کر دیتے تھے۔ اور اپنے احبار و رھبان کے مذاہب کو رواج دینے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایاکرتے تھے۔آج جب کہ پریس و طباعت کی آسانیوں وسائل کی سہولتوں اور دیگر آمد و رفت کے ذرائع پونے چودہ سو سالہ اسلامی لٹریچر کو جمع کردیا ہے۔کوئی بات اندھیرے میں نہیں رہی بلکہ نقلی اور عقلی علوم جو اب تک نوشتوں کی شکل میں ملتے تھے۔قطعی طور پر اب سارے کے سارے انسان کے سامنے آچکے ہیں۔ہم نہیں جانتے کہ ایسا کہنے والے اور غلط الزام لگانے والے کیونکر ایسی جراتیں کرتے رہتے ہیں۔اور حقائق پر پردہ ڈالنے کے لئے کس لئے اس قسم کی بدعنوانیاں اور غلط بیانیاں کرتے رہتے ہیں۔کیا اب بھی ان کی توقع یہ ہے کہ وہ غلطی خورہ اور فریب خوردہ لوگوں  کو اپنا کر عوام کو اس کا وعدہ دیتے چلے جایئں گے۔اور  پھر اس کوان سے منوا لیں گے۔ ایک دانشمند اور زی علم انسان سے تو یہ کام نہیں ہوسکتا۔کہ وہ ایسی جرات کرے بلکہ ہر عقل مند انسان اس بات کو بخوبی سمجھ سکتا ہے۔ کہ آج  تاریخ کا ریسرچ ہورہاہے۔اور قدیم تاریخ کو کھوج لگایا جارہا ہے۔جملہ پیروان مذہب اپن مذہبوں کی تحقیقات کررہے ہیں۔اور اپنے اسلاف کے غلط معتقدات و محدثات کو چھوڑ کر اپنے مذہب کے صحیح حقائق کوتلاش کر رہے ہیں۔پیر پرستیاں امام پرستیاں خویش پرستیاں اور رواج پرستیاں ختم ہو رہی ہیں۔اورعنقریب مذاہب کی ان غلطیوں کا راز فاش ہو جائے گا۔جو جماعت اپنے منہ سے  ہر وقت اور ہر موقع پر

خير الحديث كتاب الله وخير الهدي هدي محمد صلي الله عليه وسلم وشر الامور محدثاتها وكل محد ثة بدعة ضلا لة وكل ضلالة في النار

نکالتی ہو اور اس  پر اس کا عمل بھی ہو۔تو وہ جماعت کیونکر نو پیداشدہ خیال کی جاسکتی ہے۔کیا آج یہ نعرہ کسی عامل بالھدیث نے وضع کیا ہے۔بڑے ہی شرم کی بات ہے کہ جس جماعت کا عمل کتاب وسنت پر ہواس کو نو پیداشدہ بتلایا جائے اور جو مذاہب کتا ب اللہ کے نزول و تکمیل دین سے صدیوں بعد وضع کیا جائے اور ان کی نسبتیں صدیوں بعد کے  امتیوں س جوڑی جایئں۔ ان کو اصلی و قدیم بتایا جائے۔کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ  امام ابوحنیفہ کا مذہب دوسری صدی میں ان کے شاگردوں نے وضع مدون کیا۔اور صدیا علماء اور فقہاء کے ر ائے قیاس اس میں شامل کئے گئے پھر اس کی سند کا بھی کوئی الزام نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے اس میں صدہا عالموں نے اپنی رائے قیاس اور فتویوں کو شامل کردیا۔اس کو توصحیح اسلام قرار دیا جائے۔اور جس مذہب کا ڈھانچہ کتاب اللہ اور صحیح احادیث سے تیار کیا گیا ہو۔ جس کی صحت اور سند کا التزام اس قدرحزم و استیاط اور صحیح نقل کے ساتھ کیا گیا ہو۔ کہ اس سے زیادہ صحت اور سند کا التزام آج  تک انسانی دنیا نہ کر سکی ہو۔اس کو نیا جعلی اور بناوٹی مذہب قرار دیا  جائے۔اس موقع پرہم نواب محسن الملک سید محدی علی خاں بہادر مرھوم کی مشہور کتاب تاریخ            تقلید اور عمل بالحدیث سے تھورا سا نقل کرتے ہیںجو عمل بالھدیث اور جدید مذاہب کے حقائق پر روشنی ڈالنے کے لئے کافی ہے۔

مذاہب اربعہ کے رواج اور ترک اجتہاد کاسبب

تبع تابعین کے زمانے میں حدیث و فقہ کی تعلیم کی صورت تو وہی تھی جو تابعین کی تھی۔لیکن اس وقت میں بسسبب کثرت مسلمانوں کے اور شروع ہونے                                                                      ۔اور جھگڑے اور فساد اور  جاہل ہونے خلفاء وقت کے اور شائع ہونے جھوٹ اور اختراع کے اور واقع ہونے اختلاف کے خدا نے لوگوںکو مسائل جمع کرنے اور اصول و قواعد کو منضبط کرانے اور ارکان و آداب و عبادت کی تشریح اور اجتہاد اور استنباط اور استخراج کے قاعدے ترتیب دینے والے راھب کیا اس وقت کے نیک اور پاک لوگوں کو حدیث و فقہ کی تدوین کا شوق دیا چنانچہ دوسری صدی کے اوسط سے جس شہر میں جو نامی اور عالم تھا۔ان میں بعض نےحدیث کی تالیف  اور تدوین پرکمر باندھی اور مسائل کا جمع کرنا شروع کیا۔چنانچہ مکہ میں ابن جریج اور ابن عینیہ نے اورمدینہ میں امام مالک نے اور محمد بن عبد الرحمان ابن ابی زہب نے اورکوفہ میں ثوری نے اور بصرہ میں ربیع ابن صبیح نے اول اول حدیث میں تالیف کی۔اور امام ابو حنیفہ اور امام مالک نے فقہ کی تدوین شروع کی سب سے پہلے حنفی مذہب کی بنیاد پڑی۔اس لئے کہ امام ابو حنفیہ کو اللہ نے اجتہاد اور استنباط مسائل اور استخراج فروعات کی ایک خاص قسم کی استعداد دی تھی۔ اور وہ زہد رع میں بھی کامل تھے۔ پس انھوں نے اپنے شہر کے امام فقہیہ ابراہیم نخعی کی احادیث و اقوال و روایات پر  اپنے مذہب کی بیناد قائم کی۔ چنانچہ یہ امر بخوبی اسف شخص پر ظاہر ہے کہ جس نے امام محمد کی کتاب الآثار اور جامع عبد الرزاق او ر مصنف ابی شیبہ کو دیکھا ہے۔اور پھر  ابراہیم نخعی کے اقوال کو امام ابو حنیفہ کے مذہب سے ملایا ہے۔ غرض جب امام  ابو حنیفہ نے اس طور پر فقہ کی تدوین شروع کی تب لوگوں نے ان کی طرف رغبت کی اور ان  کے اصول و فروع کو پسند کر کے ان سے سیکھا۔اور فقہاء کوفہ نے ان کے اجتہادکوقبول کیا۔جب قاضی ابو یوسف اور امام محمد دوشاگران کے ہو گئے  تب پہلے شاگر د کی  عمارت اور فقہاء کے سبب سے اور دوسرے شاگر کے علم  اور تالیف کی برکت سے امام کا مذہب سارے عراق اور خراسان ما وراء النہر میں پھیل گیا۔ حنفی مذہب کے بعد بنیاد مالکی مذہب کی پڑی۔امام مالک نے حدیث اورفقہ وزہد و تقویٰ میں بہت مشہور تھے۔ان کو احادیث نبوی بہت سی یادتھیں۔اور وہ ان کے ضعف و قوت سے بھی بخوبی واقف تھے۔چنانچہ انہوں نے نہایت عمدہ اور صحیح اور جامع کتاب حدیث کی لکھی جس کا  نام موطا ہے۔اس کی مقبولیت اعلیٰ درجے پر پہنچی۔اور ہزاروں آدمیوں نے امام مالک سے حاصل کیں۔پس امام مالک کی اس کتاب  کی برکت سے ایس فائدہ لوگوں نے پایا کہ جس کا کچھ بیان نہیں ہوسکتا پسف جہاں جہاں ان کے اصحابرضوان اللہ عنہم اجمعین  اور شاگرد پہنچ ان کی کتاب کو لوگوں نے دیکھا اور ان کے مذہب پر عمل کرناشروع کیا۔پھر تو ان کے بعد ان کےمذہب کے اصول اور دلائل کو  تریب دیا۔اور ان کی کتاب کے خلاصے کیے۔ ان کےکلام اور فتووں کی شرح کی یہاں تک کہ آخر ان کا بھی ایک جدا مذہب قرار پایا۔اور نواح مغرب کی طرف جہاں ان کے تلامذہ زیادہ ہوئے مالکی مذہب پھیل گیا ان دونوں مذہبوں کی بنیاد پڑ چکی تھی۔کہ امام شافعی پیدا ہوئے انہوں نے دونوں مذہبوں کے اصول و فروع کو دیکھ کراور ان کے کلیات و جزیئات پر نظر کر کے ان باتوں کو جو ان مذہبوں میں ناقص تھیں۔پورا کیا اور نئی طور سے اصول و قواعد کو تریب دیا امام شافعی نے سب سے اول ایک کتاب اصول کی تالیف کی اور اس میں احادیث مختلف کے جمع کرنے کے قائد ے کیے۔اور احادیث مرسل اور منقطع پر استثناد کرنے کا بغیر پائے جانے کے اس کی شرائط کا التزام ترک کیا ۔انتھیٰ کلامہ۔

یہ تو تھا مذاہب اور تقلید کے متعلق ہمارے زمانے کے مورخ کا بیان اب زرا ایک پرانی تاریخ کا بیان بھی ملاحظہ کیجئے۔278ھ؁ عیسیٰ بن مالک نامی ایک بادشاہ بڑی سلطنت والا ابو حنیفہ کے مذہب پر تھا۔اور پرلے درجے کا متعصب تھا۔کتاب مسعودی اس کو  تمام یاد تھی۔لوگوں کو حنفی مذہب اختیار کرنے کی ترغیب دیتا تھا۔ اور کہتا تھا کہ سب کے سب امام ابو حنیفہ کے اقوال پر ہی عمل کرو۔صاحبین یعنی ان کے شاگردوں کےاقوال  پر بھی عمل نہ کرو۔اور اس کے حکم کے موجب فقہیوں نے ایک ایسی کتاب اس کو بنا دی تھی۔جس میں بجز اقوال ابو حنیفہ کے اور کسی کا بھی حکم نہ تھا۔اس کو بھی اس نے یاد کر لیا تھا۔اوربسبب تعصب اپنے مذاہب کے جس قدر شافعی مذہب والے اس ملک میں تھے سب کو قتل کر ڈالا تھا۔انتہا مخلصا ۔۔۔تاریخ ابن خلکان

حضرت شاہ ولی اللہ ؒ محدث دہلی کا معتبر بیان ملاحظہ  ہو

آپ تحریر فر ماتے ہیں۔

اعلم ان الناس كان قبل المائة الرابعة مجمعين علي التقليد الخالص لمذهب واحد بعينه

ترجمہ ۔تم اس بات کا یقین کرلو کہ مسلمان چوتھی صدی سے پہلے کسی خاص مذہب کی تقلید پر متفق نہ تھے۔)

مختصر ان حوالہ جات سے یہ بات بخوبی روشن ہوتی ہے۔ کہ مذاہب اربعہ کا رواج کب ہوا اور کس طرح ہوا۔اب زرا مسلک عمل بالحدیث کی دردناک داستان ملاحظہ ہو۔حضور پاک ﷺ کی زندگی میں ہی آپﷺ نے لوگوں کے دلوں اور دماغوں میں یہ بات سمو دی تھی کہ میں دوچیزیں تمہارے لئے چھوڑے جا ئوں گا۔کتاب اللہ و سنت چنانچہ فرمایا!تركت فيكم امرين كتاب الله وسنتي

اور قرآن مجید کا یہ حکم ہرمسلمان سن چکا تھا۔کہ ۔۔۔قرآن ۔۔۔۔اس پر تمام مسلمان اور صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین  عمل پر تھے۔اور مسائل دینی میں صرف کتاب اللہ و سنت رسول اللہ ﷺ کو حجت سمجھا جاتا تھا۔چنانچہ ہمارے زمانے کے مشہور مورخ مولانا اکبر شاہ خاں صاحب نے قول الحق میں تحریر فرماتے ہیں۔جو احقاق حق اور اظہار صداقت کےلئے مرھوم نے تصنیف فرمائی تھی۔گزشتہ صدی میں اگرچہ دوسرے علوم اور قرآن مجید کے سوا دوسری کتابوں کے لکھنے اورپڑھنے کی طرف مسلمان متوجہ ہوچکے تھے۔لیکن آپ ﷺ کی حدیثوں کے متعلق ابھی تک یہی دستور چلاآتا تھا۔کہ تابع اورتبع تابعی احادیث کو اپنے حافظے میں محفوظ رکھتے۔اور  زبانی ہی اپنے شاگردوں کو یاد کراتے اور لوگوں کو سناتے تھے۔اجتہادی مسائل میں علماء کے فتوے مختلف ہو جاتے تھے۔یہ اختلاف تو کبھی حدیثوں کے مطالب مختلف ہونے کی وجہ سے ہوتا تھا۔یعنی ایک عالم ایک حدیث کو اپنے فتوے کی بنیاد قرار دیتا اور دوسرا عالم دوسری ھدیث کو اختیار کرتا۔ اس قسم کا اختلاف صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین  کے زمانے سے موجود تھا۔اور اس کو مسلمانوں کے لئے رحمت بتایا گیا تھا۔مسلمان اس کو رحمت سمجھتے بھی تھے۔ایک دوسرے پرنہ معترض ہوتا اور نہ اس کو خطا کار اورگناہ گار  خیال کرتا۔کبھی یہ اختلاف ایک ہی حدیث سے دو قسم کے مطالب اخذ کرنے پر  واقع ہوتا تھا۔مثلاً ایک عالم نے ایک نتیجہ اخذ کیااور دوسرے نے دوسرا نتیجہ نکالا۔اس طرح دو مختلف فتوے صادر ہوئے کہ یہ اختلاف بھی اس پہلی قسم کا اختلاف اور مسلمانوں کے لئے رحمت تھا کبھی اختلاف کی وجہ یہ ہوتی کہ ایک عالم کو ایک حدیث پہنچی۔تو اس نے اس حدیث کے موافق فتویٰ دیا۔اور دوسرے عالم کو وہ حدیث نہیں پہنچی۔تو اپنے اجتہاد کی بنیاد پر فتویٰ صادر کردیا۔یہ اختلاف بھی مسلمانوں کے لئے رحمت اور ازیت کا موجب نہ  تھا۔ کیونکہ جو شخص ھدیث کی غیر موجودگی میں رائے قیاس سے کوئی فتویٰ دیتا تو یہ شرط لگاتا کہ اگر حدیث مل جائے تو میرا فتویٰ چھوڑدیتا۔اورحدیث پر عمل کرنا فتویٰ دیتے وقت مذکورہشرائط کا لگانا اس لئے ضروری سمجھا جاتا تھا۔ کہ ان لوگوں کو معلوم تھا۔کہ آپ ﷺ کی ایہ احادیث جو صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین  کے ذریعے روایت ہوکرلوگوں کو پہنچی ہیں۔وہساری کی ساری ایک جگہ مجتمع نہیں ہیں۔بلکہ مختلف شہروں اور مختلف عالموں تک پہنچ  چکی ہیں۔دوسرے شہروں میں جانےاور دوسرےعالموں سےملاقات کرنے سے واقفیت بڑھتی رہتی ہے۔کہ مدینہ۔دمشق۔قاہرہ ۔کوفہ۔بصرہ۔وغیرہ صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین  کے بھی قیام گاہ رہے ہیں۔اور ان مقامات میں ان کے شاگرد یعنی تابعی لوگ اور تابعیوں کے شاگر تبع تابعین موجود تھے۔جن جن صحابیوں رضوان اللہ عنہم اجمعین  کی روایت کردہ احادیث لوگوں کو زیادہ یاد تھیں۔اورانھیں احادیث کا زیادہ چرچاتھا۔اور انھیں صحابیوںرضوان اللہ عنہم اجمعین  اور ان کے شاگردوں کے اجتہادی مسائل زیادہ مروج تھے۔اور انھیں پر قیاس کر کے نئے نئے اجتہاد بھی کئے جاتے تھے۔اور اس دوسی قسم کے تمام مسائل فروعی ہوتے تھے۔ باوجود اس اختلاف کے کوئی تفریق اور کوئی گروہ بندی نہ تھی۔مدینے  والے مکہ والوں کو کوفہ والے بصرہ والوں کو کسی الگ مذہب کا متبع اور دوسے فرقے کا پیرو نہین سمجھتے تھے۔بلکہ وہ لوگ اختلاف کے اس ناگزیر سبب سے واقف تھے۔ایک کے زریعے دوسرا اپنی واقفیت کو وسیع کرنا چاہتا تھا۔اورسب کا ایک ہی اسلام تھا۔جس کے عقائد نہایت ہی صاف اور سادہ اور اعمال نہایت ہی آسان تھے۔دماغ کو پریشان کرنے والی موشگافیاں اور پیچیدگیاں  اعمال و عقاید میں مطلق نہ تھیں۔ان کا قبلہ قرآن مجید اور اس کے بعد احادیث نبویﷺاورآثار صحابہرضوان اللہ عنہم اجمعین  تھے۔کتاب وسنت کے سوا وہ لوگ اسلام کے لئے اور کسی چیز کو ضروری اور لازمی نہ سمھتے تھے۔(فتاویٰ ثنائیہ جلد 1 ص 146)


فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 11 ص 183-189

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ