سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(38) اہل حدیث امام مولانا عبد الوہاب کے بعیت میں آکر..الخ

  • 3616
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-06
  • مشاہدات : 1002

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

2 اہل حدیث امام مولانا عبد الوہاب کے بعیت میں آکر ان کے استنباط کئے ہوئے  مسائل پر عمل ہوا تو ان کی تقلید ہوگئی۔جب تقلید کی گئی تونام آپ کا مقلد ہوا۔جیسا کہ ابو حنیفہ کی تقلید کی گئی توآپ کا نام مقلد ہوا۔جیساکہ امام ابو حنیفہ کی تقلید کرنے سے حنفی ہوجاتا ہے۔اور مالک سے مالکی اور شافعی سے شافعی حنبلی وغیرہ ایسا ہی آپ لوگ بھی وہابی بن گئے۔اور یہ پانچواں مذہب بنا اب اسلام میں یہ مذہب ہوئے حنفی ۔مالکی۔شافعی۔حنبلی۔صدری وہابی  چودہویں صدی کی ایجاد باقی سوال ٹھرا اہل حدیث مذہب کاتو آئمہ اربعہ خود بھی اہل حدیث تھے۔جب وہ ہاہمارے  امام اہل حدیث ہیں۔تو ان ک مقلد بھی اہل حدیث ہوگئے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مولانا عبد الوہاب صاحب  ؒ خدا کے فضل سے اپنے وقت کےامام تھے ۔انہوں نے کبھی نہیں لکھا  اور نہ کہا کہ جو میرے بعیت نہیں کرےگا۔وہ کافر  مرے گا۔یہ صریح جھوٹ اور تہمت ہے۔فتاوی ٰ ستاریہ کا حوالہ ص97 دیا ہے وہ صریح بلکہ جو حدیث شریف میں ہے  وہی ہے۔یعنی جو بغیر بعیت کئے  مرگیا وہ جہالت کی موت مرا۔ یہ لکھا او ر صحیح لکھا کیونکہ حدیث کے مطابق لکھا اور یہ کوئی مولانا مرحوم کی بات نہیں بلکہ خدا اوررسول ﷺ کا فرمان ہے۔اور اللہ اور رسول کا کہاماننا عین ایمان ہے۔پھر تی تقلید کہاں سےہوئی تقلید تو یہ ہے کہ اللہ اور اس کارسولﷺ ایک بات حکمدیں کرو  اور امت میں سے کوئی کہے نہ کرو۔اب خدا اوررسولﷺ کے حکم کو چھوڑ کر امتی کا حکم ماننا بس یہ تقلید ہے اورحرام ہے۔(فتاویٰ ستاریہ جلد صفحہ 104)


فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 11 ص 146-147

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ