سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(33) کیا واقعی اب ہر قسم کے اجتہاد کا دروازہ بند ہے ۔؟

  • 3611
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-06
  • مشاہدات : 548

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا واقعی اب ہر قسم کے اجتہاد کا دروازہ بند ہے ۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

۔ اجتہاد ملکہ کسبی ہے۔اس لئے یہ بند نہیں خود حنفیہ کی تصریح ہے کہ شیخ ابن ہمام شارح ہدایہ درجہ اجتہاد کو پہنچا ہوا تھا۔(فتاویٰ ثنائیہ)

شرفیہ

اجتہاد جاری ہے۔اور قریب قیامت رہے گا رسو ل اللہ ﷺ نے یوم النحر میں جو خطبہ دیا اس میں فرمایا تھا۔

فليبلغ الشاهد الغائب فرب مبلغ اوعي من سامع متفق عليه(مشكواة) ص233 ج1)

اوردوسری روایت میں ہے۔

قال رسول الله صلي الله عليه وسلم فصر الله عبدا سمع مقالتي فحفظها ووعاها فرب حامل فقه غير فقيهورب حامر الي منهو افقهمنهالحديث

(شافعی۔بیہقی۔احمد۔ترمذی۔ابن دائود۔ابن ماجہ ۔دارمی  مشکواۃ ج 1ص35)

وقال رسول الله صلي الله عليه وسلم لا يزال من امتي امة قائمة بامراللهلايضرهم منخذ لهم ولا من خالفهم حتيياتي امر الله وهم علي ذلك

(مشکواۃ ج2 ص583)ان احادیث سے ثابت ہوا کہ صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین  نے آپ کے حخؐ سے تابین کو احکام شریعت پہنچائے انہوں نے آگے اپنے شاگردوں کو علی ہذا القیاس تا قیامت یہ سلسلہ رہے گا۔اور ہر زمانہ میں پہلوں سے بھی بعض افقہ ہوں گے اور قیمات تک بسبب تفقہ حق پر رہے گا۔پس ثابت ہوا کہ قیامت تک اجتہاد جاری رہے  گا۔اس لئے کہ تمام جزیئات کتاب وسنت میں  مصرحہ نہیں پس سوائ اجتہاد کے کوئی چارہ نہیں او یہ امر بدہیی ہے  کوئی جاہل مطلق ہی اس سے انکار کر سکتا ہے۔اور مقدین کا دعویٰ انقطاع اجتہاد اور رجمابالغیب اورقول باطل بلادلیل ہے۔(فتاویٰ ثناییہ)


فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 11 ص 142-143

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ