سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(30) کتب فقہ حنفیہ میں جو احادیث مذکورہ ہیں ان کی حیثیت استناد کیسی ہے ؟

  • 3608
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-06
  • مشاہدات : 2217

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا فرماتے ہیں علماء حدیث ا س مسئلہ میں کہ حنفیہ عمل بالحدیث کے قائل ہیں یا نہیں کتب فقہ حنفیہ میں جو احادیث مذکورہ ہیں ان کی حیثیت استناد کیسی ہے ؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا فرماتے ہیں علماء حدیث ا س مسئلہ میں کہ حنفیہ عمل بالحدیث کے قائل ہیں یا نہیں کتب فقہ حنفیہ میں جو احادیث مذکورہ ہیں ان کی حیثیت استناد کیسی ہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ کا شاگرد عنایت اللہ صدیقی بلتستانی لاہور اقول و باللہ التوفیق حنفیہ عمل بالحدیث کی نعمت سے محروم ہیں کیوں کہ حنفی بھائی مقلد ہیں او رمقلد کے لئے اپنے مقلد  کی تقلید اصول فروع میں مکلف ہونے سے لے کر تادم واپسیں ضروری اور فرض ہوتی ہے۔اور مسلمان کسی وقت بھی زنا ر  تقلید کو اتار پھینکنے کا مجاز نہیں ہے۔کیوکہ اس کےلئے اس کے امام کا قول ہی شرعی حکم ہے۔اوربس  اما المقلد فمستند ه قول مجتهده (مسلم الثبوت ص7 رشیدیہ دہلی)یعنی مقلد  کے لئے اس کے امام کا قول ہی شرعی دلیل ہے او ر بس چونکہ حنفی بھایوں نے تقلید کے لئے حضرت امام ابو حنیفہ کو چنا ہوا ہے اور ایسی  صورت میں حدیثوں پر عمل کرنے کا سوال پی پیدا نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک تلخ حقیقیت ہے۔کہ ہمارے ان قابل احترام بزرگوں نے تقلید شخصی کے تحفظ کے لئے ایسے ایسے فرضی اور خانہ ساز اصول ترتیب دے رکھے ہیں جن کی اوٹ میں پوری  بے باکی کے کیا ساتھ احادیث صحیح کا برملا انکار کر دیتے ہیں۔چنانچہ شاہ عبد العزیز محدث دھلوی مرحوم نے فتاویٰ عزیزی کے اندر ان نو اصولوں کازکر فرمایا ہے۔ارور یوں انکارحدیث کی شناخت سے بچے رہنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔اور وہ فرضی شکلیں اور دھکوسلے ہیں۔

انکار حدیث اور نوفرضی اشکلے

1۔خاص ۔خاص کے بارے میں حکم کہ وہ صاف طور پر بیان کیا ہواہے۔تو اس معنی کے سوا دوسرا کوئی معنی نہیں کیا جاسکتا۔

2۔زیادت کتاب  پر بمنزلہ نسخ کے ہے تو یہ زیادت نہ ہوگی مگر آیت صریح یا حدیث مشہور صریح ہے۔

3۔حدیث مرسل مانند حدیث مسند کے ہے۔

4۔ترجیح نہ ہوگی کسی حدیث کوبسبب کثرت راویوں کے بلکہ ترجیح بسبب فقہ راوی کے ہوگی۔

5۔جرح قابل قبول نہ ہوگی مگر جب اس کی تفسیر کیجائے۔

6۔امام ابن ہمام نے اپنی بعض کتابوں میں لکھا ہے  کہ جس روایت کو امام بخاری اور مسلم نے اور ان لوگوں نے جو ان کے مانند ہیں۔صحیح کہا تو ہم لوگوںپرواجب نہیں کہ ہم لوگ اس کو قبول کریں۔

7۔کہا بعض صاحب فتاویٰ نے کہ جسب کسی مسئلہ میں قول اامام اعظم اورصاحبین کا ہوا اور اس میں کوئی حدیث بھی ہو اور اس حدیث کے بارہ میں حکم صحت دیاگیا ہو و واجب ہے کہ اماما اعظم اور صاحبین کے قول کی اتباع کی جائے نہ حدیث کی۔

8۔جس روایت کو راوی غیر فقیہ نے روایت کیا ہوا او وہ ایسی روایت ہو کہ اس میں رائے کو دخل ہوسکے تو اس کو قبول کرنا واجب نہیں۔

9۔عام قطعی ہے مانند خاص کے تو تخصیص نہیں ہوسکتی عام میں خاص کے  زریعے فتاویٰ عزیزی صفحہ 389۔390۔391 ایچ۔ایم سعید کمپنی کراچی

امام کرخی اور کتاب اللہ کا انکار

امام کرخی کی تلفی کا یہ عالم ہے کہ موصوف نے تقلید کے نشے میں قرآن و حدیث کے انکار سے بھی گریزنہیں کیا۔فرماتے ہیں۔

الاصل ان كل اية تخالف قول اصحابنا فانها تحمل علي  النسخ او علي النزجيح والاولي ان تحلعلي التاويل من جهة التوفيق

(اصول کرخی ملحق باصول بزددی ص373 نور محمد کراچی)یعنی جو آیت پاک ہمارے آئمہ کے قول کے خلاف ہوگی یا تو ہم اسے منسوخ قرار دیں گے یا اس کی تاویل کریں گے۔

امام کرخی اور انکار حدیث

الاحمل  ان كل خبر يجي بخلاف قول اصحابنا فانه يحل علي النسخح  او علي انه معارض بمثله ثم صار الي دليل اخر او ترجيح فيه بما يترحج به اصحابنا من وجوه الترجيح او يحمل علي التوفيق

اصول بزدودی صفحہ 373 مطبوعہ نور محمد کراچی یعنی ہر وہ حدیث جوہمارے اماموں کے خلاف پڑتی ہے ہم اس کو منسوخ قرار دیں گے۔یااس کا معارض تلاش کریں گے۔یا اس کی ہمیں ایسی توجیح کرنی ہوگی جس سے ہمارے اماموں کا مسلک محفوظ ہو جائے اور بظاہر انکار حدیث سے بھی بچ جایئں۔

امام کرخی اور انکار اقوال صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین

الاصل ان الحديث اذا ورد عن الصحابي مخالفا يقول اصحابنا فان كان لا يصح في الاصل  لفينا معونة جوابه وان كان صحيحا في مورده فقد سبق ذكر اقسامه الا ان احسن الوجوه والبعد ها عن الشبه انه اذا ورد حديث الصحابي في غير موضع الاجماع ان يحمل علي التاويل او المعارضة بينه وبين صحابي مثله

اصول بزدودی صفحہ 375 کسی صحابی کی کوئی حدیث اگر مذہب حنفی کے خلاف ہو تو حدیث اگر صحیح نہیں تو جواب کی ضرورت نہیں اگ صحیح ہو تو اس کے رد کرنے اقسام (اور صورتیں)گزرچکی ہیں۔یعنی یا تو اس کی تاویل کی جائے گی۔یا منسوخ کہا جائے گا۔ یا اس کا معارض تلاش کیا جائے گا۔

حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندی کا طرز عمل

 اس اصولی انکار حدیث کے ثبوت کے بعد عملی طور پر انکار حدیث کے نمونے پیش کرنے کی ہم چنداں ضرورت محسوس نہیں کرتے تاہم حضرت شیخ الہند کے غلو  تقلید کی داد دئے بغیر بھی نہیں رہ سکتے۔حضرت شیخ الہند فرماتے ہیں کہ حضرت شاہ ولی اللہ حنفی نے بھی احادیث صحیحہ اور نصوص واضحہ کی بنا امام شافعی کے مسلک کو ترجیح دی ہے۔اور پھر خود (شیخ الہند) فرماتے ہیں کہ حق اور انصاف بھی یہی ہے۔کہ امام شافعی کا مسلک راحج ہے۔ہم چونکہ حنفی مقلد ہیں۔اس لئے احادیث صحیحہ اور  نصوص واضحہ کے علی الرغم ہم پرامام ابو حنیفہ کی تقلید واجب ہے۔

نہ رکھ تقلید کی کچھ سندپھر اس پر اڑتے ہیں       عجب وانا مقلد ہیں کہ بے ہتھیار لڑتے ہیں۔

ان اغلوطات مخترعات خانہ ساز قواعد  اور ہٹ دھرمیوں کی نشان دہی سے  حنفیہ کے ان خالی خولی قوی دعادی کا نہ صرف پول کھل جاتا ہے۔بلکہ ان کی حدیث دشمنی اور  حامل شریعت او ر محبت وحی ﷺ کے ساتھ نام نہاد عقیدت اور وابستگی کی حقیقت بھی طشت از بام ہو جاتی ہے۔بلکہ حقیقت یہ ہے  ۔کہ اصول فقہ کے موجودہ دفاتر در اصل انکار حدیث کے اسفار اور ماخذ ہیں چنانچہ مولانا مودودی صاحب نے بھی بعض احادیث کے انکار میں اسی لٹریچر سے دھوکا کھایا ہے۔

فقہاء

احادیث کتب حنفیہ کی حیثیت استناد

جواب جز 2۔واضح ہو کہ کتب فقہ حنفی کے اندر ہمارے ان واجب الاحترام فقہا عظام نے اپنے قیاسات اور آرائ کی تایئد او تشبیہ میں جن احادیث اور  روایات کو درج فرمایا ہے۔وہ اکثر یا و موضوع اور خانہ ساز ہیں۔یا ضعیف اور متکلم فیھا ہیں۔جیسے حضرت فقہاء محدثین اور علمائے اصول حدیث نے وضاحت فرمائی ہے۔

احادیث عراق ناقابل قبول ہیں۔

بانی اصول فقہ حضرات امام شافعی فرماتے ہیں۔

كل حديث جاء من العراق وليس له اصل في الحجاز فلا يقبس وان كان صحيحا

(تدریب الراوی)ہر وہ حدیث جو اہل عراق سے مروی ہو اور اہل حجاز کے ہاں اس کی اصل نہ ملے وہ اگرچہ صحیح بھی ہو پھر بھی قابل قبول ہے۔

فقہاء حنفیہ کا کورا پن

حضرت  امام احمد بن حنبل ؒ فرماتے ہیں۔

هولاء اصحاب ابي حنيفه ليس لهم بصر بشئ  من الحديث ما هو الا الجراة

(قیام الیل مروزی ص124) یہ ہیں اصحاب ابی حنیفہ ؒ جن مین ماسوائے جرات وجسارت کے حدیث میں کچھ مہارت نہیں ہے۔

فقہا کوفہ اور جابر کذاب

حضرت اماموکیع (حنفی) کی تصریح کچھ اس طرح ہے۔

ابو عيسي سمعت الجار ود يقول سمعت وكعا لولا جابر الجعفي لكان اهل الكوفة بغير حديث ولو لا حماد لكان اهل الكوفة بغير فقه

حضرت امام وکیع (حنفی ) فرماتے ہیں۔کہ اگرجابر جعفی (کذاب بقول امام ابو حنیفہ ) نہ ہوتا تو اہل کوفہ حدیث سے قطعاً مرحوم رہتے اور اگر حماد نہ ہوتے تو اہل کوفہ فقہ سے بھی ناآشنا ہوتے (وضاحت)حضرت امام وکیع جو حضرت امام شافعی کے استاد محترم ہیں۔شہرہ آفاق فقیہ نامور محدث اور عامل بالحدیث تھے مگر احناف کو دعویٰ ہے کہ وہ حنفی بذرگ تھے۔اسلئے میں نے موصوف کوولو سلمنا وفرضنا کے تحت حنفی لکھ دیا ہے۔

ورنه بينه وبين الحنفيه خرط القتاد

مقلدین حنفیہ کو صحیح اور غیر صحیح حدیث میں امتیاز نہ تھا۔

الاصلاح والایضاح کے مولف علامہ ابن کمال پاشا حنفی رقم طراز ہیں۔

والطبقة السابعة وهي طبقة المقلدين الذين لا يقدرون علي ما ذكر وا ولا يفرقون بين الغثاوالسمين ولا يميزون بين الشمال واليمين يحفظون ما يجدون كحاطب ليل فالويل لهم ولمن قلعهم كل الويل

عمدۃ الرعایہ حاشیہ شرح وقایہ صفحہ 8 کراچی نافع کبیر مقدمہ جامع صغیر صفحہ 4فقہا حنفیہ کا ساتواں طبقہ ان مقلدین پرمشتمل ہے جنھیں نہ تو اپنی نقل کردہ روایات  پرقدرت ہوتی ہے۔نہ غث وسمیں میں فرق کر سکتے ہیں۔اور نہ دایئں بایئں میں امتیاز انہیں جو کچھ مل جاتاہے۔ بس اندھا دھند یاد کرنے چلے جاتے ہیں پس ان کے لئے مع ان کےلائی لگ ٹولے کے سخت خرابی ہو۔

ہدایہ کاقرآن اور ادھام کا طوفان

علامہ ابو الحسنات لکھتے ہیں۔کہ حضرت علامہ شیخ عبد القادر حنفی نے ہدایہ کے اوہام کثیرہ کا اپنی کتاب عنایہ میں خوب پوسٹ مارٹم کیا ہے۔اصل الفاظ یہ ہیں۔فی طبقات القاری ۔

قد وقع  في الهداية اوهام كثيرةقد نقلهاالعلامةالفهامة الشيخ عبد القادر الحقب القرشي في كتاب المسمي بالعناية

(الفوائد الفہمہ ص100 عبد الئی )یعنی ہدایہ کالقران میں ایسی بہت سی وہمی روایات ہیں اور مسائل ہین جن کوعلامہ فہامہ شیخ عبد القادر حنفی نے اپنی عنایہ نامی تصنیف میں تفصیل سے زکر کیا ہے۔

کتب حنفیہ اور من گھڑت حدیثیں

رکن الاسلام حضرت امام زادہ حنفی کی تحقیق انیق بھی پرھتے جایئے موصوف کنز العباد مطالب المومنین وغیرہ کتب پرتبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

نافع کبیر ص12 نافع کبیر کنز العباد مطالب المومنین اورایسی دوسری کتب رطب دیا بس سے بھری پڑی ہیں۔علاوہ ازیں ان میں بناوٹی اور اختراعی اھادیث اوراخبار مختلفہ بھی بکثرت موجود ہیں۔

کنز العباد کی احادیث کا سماع حرام ہے۔

علامہ جمال الدین مرشد حنفی کا بے لاگ تبصرہ یہ ہے ممدوح کنز العباد پرتنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

فيه احاديهجة موضوعة لا يحل سما عها د نافع كبير ص12 )

اس کتاب ک اندر ایسی بودی نکمی اور  خانہ ساز حدیثیں ہیں جن کا سننا بھی حرام ہے چہ جا جایکہ ان سےا ستدلال لایا جائے۔

حضرات حنفیہ کی حدیث کے ساتھ سرد مہری

حضرت امام شاہ ولی اللہ حنفی ؒ علم حدیث کےمتعلق حنفیہ کی بے توجہی اور بے اعتنائی کچھ اس طرح آشکار فرماتے ہیں۔

واشتغا لهم بالحديث قليل قديما وحديثا

(الانصاف مع ترجمہ کشاف صفحہ 77 محمد حسن نانوتوی حنفی ان الفاظ کا  یوں ترجمہ کرتے ہیں۔حنفی علماء کا مشغول ہونا علم حدیث پہلے اور حال میں کم رہا ہے۔حجتہ اللہ البالغہ ص135 ج1 مصری میں لکھتے ہیں فقہا اور صوفیہ اور مورخین کی زبانوں پر ان کی شہرت ہےاوران چاروں طبقوں میں ان کی کچھ اصل نہیں ان میں سے بعض ایسی بھی ہیں۔جن کو ایسے لوگوں نے موضوع کہا ہے جو بے دین تھے اور زبان عربی میں خوب ماہر تھے۔آیات کاملہ صفحہ 307 ج1

روایات حنفیہ اور زنادقہ

علم حدیث کی غیر متد اول کتب سے حدیث لینے سے منع کرتے ہوئے سرخیل حنفیہ حضرت ملاعلی قاری موضوعات مین لکھتے ہیں۔

ان نقل الاحاديث النبوية لا يجوز الا منالحتب المتداولة لعدم الاعتماد علي غيرها من وضع الزنادقة والحاق الملاحدة

(موضوعات کبیر صفحہ 87 مجتبائی دہلی)

علم اور حدیث ک مشہور متد اول ذخیروں (صحاح ستہ وغیرہا)سے باہر کی حدیثوں کو نقل کرنا جائز نہیں ہے۔کیونکہ کتب صحاح کے علاوہ دوسری کتابیں قابل اعتماد نہیں ہیں۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ زندیقوں اور ملحدوں نے بہت سی حدیثیں وضع کر کے غیر مشہور کتابوں میں سمو دی ہیں۔

شارحین ہدایہ محدث اور مخرج نہ تھے۔

حضرت ممدوح حنفی کتب کی حقیقت اور اصلیت کے متعلق  موضوعات کبیر ص74 اور و عمدہ الر عاۃ  صفحہ  13 پر لکھتے ہیں۔نہایہ اور ہدایہ کی دوسری شرحوں کی نقل کردہ حدیثوں کا کچھ اعتبار نہیں ہے کیونکہ یہ شارحین محدث نہ تھے۔ اورنہ ہی انہوں نے ان روایتوں کے ماخذوں کا حوالہ دیا ہے۔

جامعین کتب حنفیہ حدیث میں سہل انگار تھے۔

حضرت مولانا عبد الحئی صاحب حنفی جو دراصل ترجمان حنفیہ کہلانے کے مستحق ہیں۔قابل اعتماد کتب حنفیہ کی استنادی حیثیت کے متعلق  نافع کبیر صفحہ نمبر 13  پرتحریر فرماتے ہیں۔کہ ہمارے بڑے بڑے فقہاء نے بہت سی ایسی کتابوں پراعتماد کرلیا ہے جو من گھڑت اور دناسپتی حدیثوں سے اٹی پڑی ہیں۔خصوصا کتب فتاویٰ اور یہ حقیقت ہمیں کثرت مطالعہ سے واضح ہوئی کہ اگرچہ ان کتابوں کے مولف اپنے دفن فقہاء میں کامل تھے۔تاہم اخبار و احادیث کی نقل میں اناڑی اور سہل انگار تھے۔

کتب حنفیہ موضوعات کا پلندہ ہیں۔

علامہ عبد الئی صاحب کا اعلان حق پڑھیے اور ایمان تازہ کیجئے۔اگرچہ فقہی ذخیرے فروعی مسائل میں معتبرہ ہیں اور ان کے مولف بھی قابل اعتبار اور کامل فقیہ تھے۔تاہم ان کی نقل کردہ احادیث پر  محض اس لئے کہ وہ احادیث ان کی کتابوں میں موجود ہیں کلی طورپراعتماد نہیں کیاجاسکتا (کہ وہ صحیح ہونگی)کیونکہ ان کتابوں کے اندر بہت سی ایسی مندرج ہیں۔جوخود ساختہ اور مختلف فیھا ہیں۔

فقہاء حنفیہ حدیث میں ماہر نہ تھے۔

حضرت ابوالحسنات موصوف لکھتےہیں۔

ومن الفقها من ليس لهم حظ الاضبط المسائل الفقيهة لمزدون المهارت في الرواية الحديثة

(عمدۃ لرعایۃ ص13)فقہاء کرام میں بہت سے ایسے بذرگ بھی تھے جن میں ماسوائے فقہی مسائل کے ضبط کے روایت حدیث میں قطعا مہارت نہ تھی۔

ہدایہ کی حدیثیں بے ثبوت ہیں۔

علامہ لکھنوی حنفی فقہاء حنفیہ کی حدیث دانی کاپول یوں کھولتے ہیں۔

''حنفیوں کے علامہ مرغینانی صاحب ہدایہ اور شافعیوں کے علامہ رافعی اگرچہ گنتی کے جلیل القدر فقہا میں سے دوبزرگ ہیں اور بڑے بڑے نامور علماء اورفقہا ان دونوں پر اعتماد کرتے چلے آرہے ہیں۔لیکن جلالت فقہ مذہب کے با وصف حقیقت حال یہ ہ کہ ان ہر دو بزرگوں نے اپنی کتابوں کے اندر ایسی من گھڑت اور بناوٹی حدیثیں لکھ ڈالی ہیں۔جن کا کسی بھی عام حدیث کے ہاں کچھ کھوج اور نشان نہیں ملتا۔

حنفی فقہاء کے فرضی مسائل

چونکہ فقہ حنفی کے فرضی مسائل کا زکر چل نکلا ہے۔لہذاترجمان حنفیہ علامہ عبد الحئی حنفی کے ریمارکس پیش خدمت ہیں ان پر بھی ایک نظر ڈالتے چلئے اوران بے سرو پا اور نام بہاد مجتہدات کی صداقت کی داد بھی دیتے چلئے فرماتے ہیں۔

والخامسة لم يدل دليل شرعي لا كتاب ولا حديث ولا اجماع ولاقياس مجتهد جلي اوخفي لا بالصراحت ولا بالد لالة بل هي مخترعات المتاخرين الذين يلدون طرق اباءهم ومشائخهم المتقدمين وحكمه الطرح والجر ح

(نافع کبیر ص9 دہلی)فقہ حنفی کے مسائل کی پانچویں قسم وہ ہے جن کی دلیل قرآن میں ہے۔نہ حدیث میں نہ اجماع میں نہ کسی مجتہد کے قیاس جلی میں نہ حنفی میں صراحت کے ساتھ نہ دلالت کیساتھ بلکہ یہ مسائل دراصل ان متاخرین کے ڈکھوسلے اوراشکلے ہیں جو اپنے آباءواجداد اور مشائخ  کے ٹھیٹ مقلد ولائی لگ تھے اور یہ مسائل ردی کی ٹوکری میں ڈال دینے چاہیں۔

مقلدین حنفیہ میں جانچ پرکھ نہ تھی۔

مولانا اعزاز علی دیو بندی حنفی فرماتے ہیں۔

الطبقة السادسة المقلدين الذين لا يقدرون علي ما ذكر والا يفرقون بين الغث والشمين ولا يميزون الشمال عن اليمين بل يجمعون ما يجدون كحاطب الليل فالويل لهم ولمن قلدهم كل الويل

(تمہید التمارق مقدمہ کنز الدقائق صفحہ 9 مطبع کراچی)فقہاء حنفیہ کا چھٹا طبقہ ان مقلدین پرمشتمل ہے جنھیں زکر کردہ اقوال میں جانچ پرکھ کی مقدرت ہے اور رطب دیا بس میں فرق معلوم ہے او ر نہ چپ وراست میں امتیاز اور  رات کے اندھیرے میں لکڑیاں  اکھٹی کرنے والے کی مانند انہیں جو مہیا ہوجاتا ہے جمع کرتے چلے جاتے ہیں۔خدا ان کو معہ ان کے ٹولے کے ٖغارت کرے۔ان بزرگوں کے علاوہ مولانا اشرف علی تھانوی نے فتاوی امدادیہ فقہاء کی ان کمزوریوں کا رونا رودیا ہے ان تصریحات  واضح اعلانات اور حنفی بزرگوں کے برملا اعترافات سے یہ بات محقق ہو جاتی ہے کہ ہمارے حنفی علماء حدیث میں بے بضاعت او کم مایہ تھے اور جو روایات ان فقہاء نے اپنے مجتہدات کی  تایئد میں فقہی دفاتر میں درج فرمائی ہیں محقیقین حنفیہ کے مطابق موضوع اورمختلف فیھا میں اوربقول علامی جمال الدین مرشد حنفی  کے ان کا سماع بھی حرام ہے شریعت کے احکام کا مدار ہونا تو بہت دور کی بات ہے۔

لعل فيه كفاية لمن له دراية

تقلید کا آ خری سانس

سوال۔تقلید کی چار دیواری سے نکلنے دینے کی کوشش عجب عجب پر وہ داریوں سے نئی نئی صورتوں میں انوکھی انوکھی کی جارہی ہیں۔جن میں سے ایک جو اس وقت عام زبانوں پر چڑ گئی ہے اور جسے بہت زور کے ساتھ عوام میں جاری کی جارہی ہے اور جسے ایک زبردست دلیل تقلید کی صورت میں پیش کیا جا رہا ہے۔وہ جو مع جواب سنیے!

جواب۔اہل حدیث کے عوام سے ملتے ہی ان سے کہتے ہیں۔کہ جب تم نے اپنا نام اہل حدیث رکھا ہے او ر حدیث پر عامل ہو تو جتنے مسائل شرعیہ ہیں۔ان سب کی حدیثیں تم نے دیکھ لیں ہیں جو حدیث جس عمل کی تم طلب کی جائے تم پیش کر سکتے ہو۔اہل حدیث جماعت مذہبی مکار نہیں جیسے ان کے مسائل ٹھوس ہیں جیسے ان کا عقیدہ ٖغیر متزلزل ہے جیسے ان کے مذہب کی بناء مظبوط ہے۔ان کا قول بھی جھوٹ سے مکر سے دغا سے فریب سے دجل سے وغل سے پاک ہوتا ہے۔یہ صاف جواب دیتے ہیں۔کہ صاحب بعض حدیثیں ہم نے خود دیکھی ہیں۔بعض علماء سے سنی ہیں۔اصولاً ہم حدیث پرعمل کرتے ہیں۔پس ان حضرات کی باچھیں کھل جاتی ہیں۔آڑھے ہاتھوں لیتے ہیں۔اور ظفر یافتہ لہجے میں کہتے ہیں۔پھر تم اہل حدیث کہاں رہے تم تو ان علماء کے مقلد ہوئے جو تمھیں مسائل بتلاتے ہیں۔پھر اس سے نوید صدہا درجہ بہتر ہے کہ تم ان علماء کی تقلید چھوڑ ہمارے امام کی تقلید کرو۔

یہ ہے وہ بخار جو آج کل عوام کے چہرے پر ملا جاتا ہے۔یہ ہے وہ اندھا کرنے والی پٹی جو روشن آنکھوں پر باندھی جاتی ہے۔لیکن ہماری طرف سے انھیں جواب ہے۔اور ہم چاہتے ہیں کہ جماعت کےجن حضرات کے سامنے یہ دلیل پیش کی جائے وہ بھی یہی جواب دیں پھر دیکھیں کے تقلیدی جادو کے بنائے ہوئےسانپوں کو اژدھا موسوی کس طرھ یہ ایک لقمہ ہضم کر جاتا ہے ۔

ان سب سے کہئے کہ جناب حنفی ہیں۔تقلید امام ابو حنیفہ کے وجوب کے مدعی ہیں۔اپنا نام حنفی رکھ چھوڑا ہے۔تو کیا جن مسائل کو آپ جانتے ہیں۔جن کاموں کو آپ کرتے ہیں ان سب میں امام ابو حنیفہ ؒ کا جو فرمان ہے وہ سب اقوال آپ نے دیکھ لئے ہیں۔ہر ہر مسئلے کی سندامام صاحب سے آپ نے معلوم کر لی ہے۔اپنے عمل کے اور اپنے مسائل کے اقوال امام آپ پیش فرماسکتے ہیں۔ظاہر ہے کہ عوام نا ان منصب پرہے۔نہ ان میں اتنی صلاحیت ہے۔اس  لئے اس کا جواب یہی ہے۔کہ زیادہ سے زیادہ بعض مسائل پراقوال امام ان حضرات نے دیکھے ہوں۔باقی اکثر مسائل اپنے علماء سے سنے ہیں بلکہ حقیقیت  یہ ہے  کہ تمام مسائل صرف اپنے علماء سے ہی سنے ہوئے ہیں۔تو کیا ہم نہیں کہہ سکتے کہ تم حنفی کہاں رہے۔مقلد امام ابو حنیفہ کیسے ہوگئے۔تم اپنے موجودہ علماء کے مقلد ہوئے۔نہ امام ابو حنیفہ کے پھر اس سے تو بہتر ہے کہ آپ اپنے زمانے کے علماء کی تقلید چھوڑ دیں اور براہ ر است حدیث رسول ﷺ پر عمل کریں۔اس لئے کہ اب تو آپ تقلید امام سے آذاد ہو گئے۔اور جب اتنے بڑے امام کی تقلید کوئی چیز نہ رہی تو آج  کل کے علماء کی تقلید کس گنتی میں ہے۔آو سب ہم مل کرپکار اٹھیں۔

ما بلبیم نالاں گلزار ما محمدﷺ

ما عاشقیم بے جاں دلدار ما محمدﷺ

ہم بوجہ کم علمی کے اپنے علماء سے حدیث رسول سن کر اس پر عمل کریں تو اہل حدیث کہلوانے کے مستحق نہ رہیں۔اور آپ بوجہ اپنی کم علمی کے اپنے علماء سے اقوال امام سن کر ان پرعمل کریں۔تو آپ اہل فقہ کہلوانے کے مستحق کیسے ٹھر جایئں۔ہم احادیث رسول کا سوال کر کے اس کا جواب اپنے علماء سے پاکر ان حدیثوں پرعمل کرنے سے محمدی نہ بن سکیں۔تو  آپ اسی طرح اپنے علماء سے اقوال امام سن کر ان پر عمل کرکے حنفی کیسے بن جایئں۔؟

برادران!

بات یہ ہے کہ ہم کہتے ہیں۔جیسے تم کسی مولوی صاحب سے قول امام دریافت کرتے ہو۔کیا ا چھا ہو کہ اس کے بجائے قول امام آئمہ حضرت محمد رسول اللہﷺ دریافت کر لیا کرو۔آخر یہ تو بتلائو۔قول امام کے حق ہونے پر اور حدیث رسولﷺ کے باطل ہونے پر آپ کے پاس کیا دلیل ہے۔قول امام جو امتی ہیں۔وہ حدیث رسولﷺ جو نبی ہیں۔ان میں کیا آپ ک نزدیک کوئی فرق نہیں؟کس قدر اندھیر ہے کہ قول امام سے تسکین ہوجائے۔او ر حدیث رسول سے نہ ہو حنفی کہلوا کر خوش ہو جائو۔اور محمدی نام سن کر ناراض ہو جائو۔ سنو سنو جتنا فرق امام ابو حنیفہ اور محمدرسول اللہ ﷺ میں ہے ۔اتنا ہی فرق قوم امام اور حدیث رسولﷺ میں ہے۔پس ہماری منشا ء تو یہ ہے  کہ دنیا سب کی سب جس طرح کلمہ رسول ﷺ کا پڑھتی ہے۔کہنا بھی آپ کا مانے اور نسبت بھی آپ کی طرف کرے۔ہم سے یہ صریح ظلم برداشت نہیں ہوتا۔کلمہ پڑھتے وقت تو حضور ﷺ کا نام آئے۔اور عمل کرتے وقت کسی او ر کا ہی نام آئے ۔ہم تو اسی کے قائل ہیں جس کا کھائے اسی کا گائے جس کے امتی ہیں اسی کے تابع فرمان بن کر رہیں۔

محترم بھایئو!ہم امامان دین کے دشمنوں کو خدا کا دشمن سمجھتے ہیں۔ ہم امامان دین کی بے حرمتی کرنے والوں کو رحمت رحیم سے محروم  سمجھتے ہیں۔لیکن ہم ان کا  رتبہ مرتبہ رسول ﷺ کے برابر کر دینا بھی پسند  نہیں کرتے جیسے کلام خدا او ر کلام رسولﷺ کے ہم  ماننے کے مکلف ہیں۔ایسے ہی اگر کسی امتی کے کلام کے ماننے کا مکلف اپنے تیئ کرلیں تو پھر امتی اور نبی میں کیا فرق رہا؟

بھائیو! آئو ایک منصفانہ کلام سن لو۔خدائے تعالیٰ عزوجل نے اپنی بات ماننے کا ہمیں حکم دیا نبی ﷺ نے اپنی تابعداری کرنے کا ہمیں حکم دیا کیا اس طرح امام صاحب نے ابھی اپنی رائے قیاس کے ماننے کا ہمیں حکم دیکر کہیں فرمایا ہے کہ میری رائے قیاس کو مانو او کسی کی نہ مانو۔میرے مقلد ہو کر رہو اور کسی کے مقلد نہ بنو۔تو تین اماموں کو چھوڑ کرایک کی ہی کرو تو حنفی کہلوائو۔اور محمدی نہ کہلوائو۔اگر کہیں آپ  کی نگاہ سے یہ حکم گزرا ہے۔ تو ہیں بھی بتا دیجئے ورنہ سن رکھے امام صاحب نے تو صاف فرما دیا ہے کہ اتركو ا قولي بخبر الرسولحدیث کے مقابلے پرمیرے قول کو  ترک کردو ہر گز اس پر عمل نہ کرو۔اسے نہ مانو اس پرعقیدہ نہ رکھو۔پس جو امام صاحب نے فرمایا ہے۔وہی  ہماری طرف سے آپ کو دعوت ہے اللہ بس  باقی ہوس۔(اخبار محمدی دیلی جلد نمبر 17 نمبر 12)

 


فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 11 ص 130-139

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ