سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(18) قبروں پر پختہ عمارت بنانا یا میلہ و عرس کا انعقاد

  • 3596
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-06
  • مشاہدات : 1100

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

قبروں پر پختہ عمارت بنانا یا میلہ و عرس کا انعقاد


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

چند ماہ پہلے موضع کوٹلہ تحصیل جہلم میں دو گروہوں کے درمیان ایک نزاع رونما ہوا وجہ نزاع یہ  تھی کہ گائوں کے قبرستان میں ایک بزرگ نامی سید میراں چراغعلی شاہ صاحب کی قبر تھی جس پرشاہ صاحب مرھم کے سرثاء پختہ قبر تعمیر کے رککے فاس پر میلہ منعقد کرنا چاہتے تھے۔دوسرا فریق دعوےدار تھا کہ و ہ بشمول اہل گائوں قبرستان کے مالک ہیں لہذا ان کی اجازت کے بغیر قبرستان میں نہ کوئی عمارت تعمیر کی جاسکتی ہے نہ قبر پر میلہ و عرس منایا جاسکتا ہے۔کیونکہ اسلام قبروں پر ایسے افعال کی اجازت نہیں دیتا معاملہ طول پکڑ گیا اور انجام کارنوبت یہاں تک پہنچی کہ قبرستان میں پختہ عمارت بنانے اور اسپر  میلہ لگانے سے روکنے والوں کو فریق ثانی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنا پڑی۔معاملہ جناب نبی احمد صاحب سول جج جہلم کی عدالت میں برائے حکم امتناعی تافیصلہ مقدمہ پیش ہوا مگر عدالت نے اسے منظور نہ کیا اور مقدمہ26 اپریل 76 کو خارج کردیا گیا۔مدعیان نے اس حکم کے خلاف جناب محمد امیر ملک صاحب ڈسٹرکٹ جج جہلم کی عدالت میں اپیل دائر کر دی۔جو برائے سماعت منظور ہوئی۔ازاں بعد عدالت نے جو فیصلہ دیا وہ اسلامی فتاویٰ کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جانے کے قابل ہے۔یہ فیصلہ کتاب وسنت کےمطابق ہے آیئن پاکستان کے صحیح تعبیر و تشریح ہے فقہ اسلامی کے صحت مدانہ درست اورعمیق شعور و ادراک پر مبنی ہے اور ہرمسلمان کے لئے رہنما ہے لہذا قاریئں الاسلام کے استفادہ کے لئے اس کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے۔(ادارہ)بعدالت جناب محمد امیر ملک ڈسڑکٹ جج جہلم متفرق دیوانی اپیل نمبری 59 سال 1976ء تاریخ دعویٰ 20 مئی 1976 ء

مدعیان۔منظور الٰہی ولد احسان الٰہی ۔2۔بشیر احمد۔ولد میاں محمد3۔عبد الغنی ولد میاں عبدالمنان قوم گوجر ساکنان کوٹلہ ایمہ تحصیل جہلم

بنام،۔مدعا علیہم۔محمد یوسف ولد غلام رسول ۔2۔محمد اعظم۔ولد محمد 3۔لال خاں نمبردار 4۔سید ولایت حسین شاہ ولد سید مہتاب شاہ۔5۔مسماۃ ارشاد بیگم بنت محمد شاہ

فیصلہ۔1۔منظور الہٰی وغیرہ۔مدعیان و اپیل کنندگان نے محمد یوسف وغیرہ مسئول الیھان ومدعا علیہم کےخلاف ایک دعویٰ اس امر  کی توثیق کے لئے دائر کیا ہے کے زیر دعویٰ زمین پیمائش 7 کنال اٹھارہ مرے۔خسرہ  247 کھیوٹ 98 کھتونی نمبر 447 جمع بندی برائے سال 1969۔70 ءموضع کوٹلہ ایک قبرستان ہے اور اہل اسلام گائوں کے قبضہ میں ہے اور استدعا کی ہے کہ مدعا علیہم کو اس میں عمارت بنانے یا قبرستان کی بےحرمتی کرنے یا اس میں میلہ و عرس منانے سے روکنے کے لئے حکم امتناعی جاری کیا جائے۔فریقین دعویٰ نے اپنے اپنے دلائل پیش کیے۔مدعیان نے بدیں عرض کرتا فیصلہ دعویٰ قبرستان کی اصل حالت برقرار رکھی جائے۔ضابطہ دیوانی کے حکم نمبر 39قاعدہ نمبر 1۔2۔کے بموجب ایک درخواست گزاری جیسے فاضل سول جج چوہدری نبی احمد سول جج جہلم نے بحکم مجریہ 26 اپریل 1976 میں اس حکم کے خلاف دائر کی گئی ہے۔

2۔دوران کاروائی ولایت حسین شاہ اور مسماۃ ارشاد بیگم نے  عدالت سے استدعا کی کہ ان کو بھی مقدمہ میں فریق بنا لیا جائے۔فاضل سول جج نے ان کی درخواست بحکم مجریہ 26 اپریل 1976 منظور رکر لی۔اس حکم کے خلاف نظر ثانی کی استدعا نمبر 34 سال 1976ء کے تحت دائر کی گئی۔

3۔تجویز کیا جاتا ہے کہ اس فیصلے میں اپیل اور نظر ثانی کی استدعا دونوں کو نمٹا دیا جائے۔

4۔نیز یہ کہ لازمی حقائق و واقعات تسلیم شدہ ہیں اس لئے مقدمہ کا قطعی فیصلہ کیا جاسکتا ہے لہذا عدالت کے ابتدائی اختیار سماعت کو استعمال کرتے ہوئے اس مقدمہ کو اس  عدالت کی فائل میں منتقل کرتا ہوں۔

5۔منظور الٰہی وغیرہ مدعیان کا دعویٰ ہے کہ جائداد دعویٰ ایک قبرستان ہے جو اہل گائوں کی ملکیت ہے۔اور ان کے قبضے میں ہے۔یہ شاملات زمین ہے جس کے مدعیان اور دیگر افراد مالک ہیں مدعیان کے آبائو اجداد جو ملک اہل حدیث سے تعلق رکھتے تھے۔ان کی قبریں اس قبرستان میں ہیں۔تقریبا ایک ماہ سے مدعا علیہم بلا اجازت مدعیان و دیگر مالکان گائوں اس قبرستان میں عمارت  تعمیر کرنے اور وہاں میلہ منعقد کرنے پر آمادہ ہیں  جو کہ مدعیان کے عقائد کے خلاف ہے۔

6۔مدعا علیہم نے دعویٰ میں ابتدائی اعتراضات کے خلاف دلائل پیش کئے کہ ولایت حسین شاہ اور مسماۃ ارشاد بیگم جو کہ صاحب قبر سید میراں چراٖغ علی شاہ کے وارث ہیں۔مقدمہ کے ضروری فریق ہیں۔اور یہ کہ دعویٰ ناقابل فہم اور پایئدار نہیں۔ اور یہ کہ مدعیان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔اور وہ دعویٰ دائر کرنے کے مجاز نہیں بخلاف آں مدعا علیہم چار دیواری پرصرف چھت ڈالنا چاہتے ہیں۔چوں کہ سید میراں چراٖغ علی شاہ کی قبر کے گرد اگر پچاس سال سے 4۔5 فٹ اونچی چار دیواری جس میں لوہے کا گیٹ نصب ہے۔موجودہے۔اس لئے مدعان کا اپنا عمل ہی ان کے اس دعویٰ کی نفی کرتا ہے۔اور انکی اسف نائش کومانع ہے مدعا علییہم سید میراں حیدر شاہ جن کا قرار ٹلہیانوالہ گائوں میں ہے کہ لواحقین میں سے ہیں اور سید چراغ علی شاہ کی قبر اس متنازعہ قبرستان میں ہے۔جو چار دیواری سے گھر ی ہوئی ہے اور اس پر صرف چھت ڈالنا مقصود ہے۔

7۔یہ حقیقت ہے کہ متنازع زمین ایک قبرستان ہے۔فریقین تسلیم کرتے ہیں۔ لہذا مدعیان کا یہ  زمین گائوں کی شاملات ہے۔ یا یہ کہ عمارت تعمیر کرنے کے لئے مدعیان یا  دیگر مالکان کی اجازت لینا ضروری ہے۔بے بنیاد ہے۔زمین ایک دفعہ بطور قبرستان خاص کردی جائے۔تو یہ اللہ تعالیٰ کے لئے قطعی نظر کے طور پر مستقل وقف جا یئداد بن جاتی ہے۔لہذاقبرستان اب جملہ مسلمانوں  کے استعمال کے لئے ہے۔اسی بارے میں کسی دلیل و ثبوت کے پیش کرنے یا سوال اٹھانے کی ضرورت نہیں میرا یہی فیصلہ ہے۔

8۔فاضل سیول جج نے موقع کا معاینہ کیا اور یہ مشاہدہ فرمایا کہ متنازعہ قبر کے گرد اگرد 4 یا 5 فٹ اونچی چار دیواری موجود تھی اور اس میں لوہے کا گیٹ نصب تھا۔اور (مدعا علیہم کی طرف سے)یہ اقرار کیا گیا کہ قبر پر کوئی میلہ منعقد کرنے کی ہرگز کوئی نیت نہیں لہذا دعویٰ کا یہ متنازعہ پہلو بھی طے ہوا۔

9۔اب صرف یہ مسئلہ باقی رہ جاتا ہے۔کہ متنازعہ قبر واقعتاً کس کی ہے۔اور فریقین کے کوئی حقوق اگر اس قبر سے وابستہ ہیں۔تو کیا  ہیں۔؟لہذا آیئے مدعا علیہم کے لئے ایک  کمزور ترین پہلو لیتے ہیں اور اور سمجھ لیتے ہیں کہ متنازع قبر سید چراغ علی شاہ۔مدعا علیہم کے جد امجد کی ہے۔قبر میں چار دیواری موجو دہے۔مدعا علیہم بحیثیت وارثان و پسماندگان سید چراغ علی شاہ اور باایں صورت ملک کےسب مسلمان یہ حق رکھتے ہیں۔کہ قبرستان کی زیارت کریں۔اورفاتحہ پڑھیں۔لیکن کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا۔ کہ وہ کسی قبر خواہ وہ اس کے والد یا کسی اور مسلمان کی ہو۔پر کسی قسم کی عمارت تعمیر کریں۔ہمیں بحیثیت مسلمان قرآن پاک سنت نبوی ﷺ اجماع امت اور قانون ساز اداروں کے منظورکردہ ملکی آیئن میں دیئے گئے۔اصولوں کی اتباع لازم ہے۔قرآن پاک کے مطابق مسلمان کو زمین میں دفن کرنا ہوتا ہے۔اوراس کے ساتھ کسی دوسری شرط کی قید نہیں۔شہرہ آفاق مسلمان عالم و مصنف امام بخاریؒ کی ایک مستند حدیث ریکارڈ پرلائی گئی۔ اور کوئی وجہ نہیں کہ اسے صحیح تسلیم نہ کیاجائے۔اور وہ حدیث یہ ہے قبر زمین سے صرف تقریباً ایک فٹ (ایک بالشت) اونچی ہونا چاہیے۔اور اس پرکسی قسم کی عمارت تعمیر نہ کی جائئے۔ اور نہ اسے عبادت گاہ کے طور  پر  استعمال کیا جائے۔مزارات کی  تعمیر اسلامی معاشرہ میں ما بعد کی سماجی تاریخی اختراع ہے لیکن  کتاب وسنت سے اس کی کوئی ایسی تقدیس ثابت نہیں حتی کہ آیئن  پاکستان میں بھی قبروں پرمزارات تعمیر کرنے کی کوئی شق نہیں ہے آیئن پاکستان میں دیئیے   گئے پالیسی ک بنیادی صولوں میں بھی یہ تحریر ہے کہ اسلام ریاست کا سرکاری مذہب ہے اور مسلمانوں کو اپنی زندگی اسلام کے بنیادی اصولوں اور قطریات کے مطابق بسر کرنا ہوگی۔آیئن پاکستان کے آرٹیکل نمبر 31 میں یہ بھی تحریر ہے کہ ایسی تمام سہولتیں فراہم کی جایئں گی۔جن سے شہریا  ن قرآن وسنت کے  مطابق زندگی کا مفہوم سمجھنے کے اہل ہوسکیں۔لہذا  صورت حال بطریق احسن واضح ہے کہ ہر مسلمان کا حق ہے۔کہ اسے زمین میں دفن کیا جائے۔اور یہ کہ قبر کی زیارت بغرض فاتحہ خوانی کر سکے۔لیکن اسے یہ حق حاصل نہیں کہ وہ قبر کو مزار یا عبادت گاہ میں تبدیل کرے یا اسے میلہ گاہ بنائے میرا یہی فیصلہ ہے۔

10۔نتیجہ یہ ہے کہ دعویٰ کی ڈگری کی جاتی ہے۔مدعیان کے اس حق کی  توثیق کی جاتی ہے۔کہ متنازع زمین اہل اسلام کا قبرستان ہے۔مدعا علیم کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ اسمیں کوئی میلہ منعقد کریں۔ یا قبر پر کسی قسم کی کوئی ایسی عمارت تعمیر کریں جس  سے قبرستان کی اصل صورت تبدیل ہو اور وہ ازرویے قرآن ناجائز مداخلت کے مترادف ہے کیونکہ یہ ایسے امور ہیں جن کا جواز اسلامی شریعت اور ملکی آیئن میں ثابت نہیں اور بالاآخر نتیجہ یہ ہے کہ نظر ثانی کی استدعا منظور کی اجاتی ہے۔اور فاضل سول جج جہلم کا حکم جس میں ولایت حسین شاہ اور مسماۃ ارشاد بیگم کو فریق بنایا گیا ہے۔غیر موثر قرار دیا جاتا ہے۔

ضابطہ دیوانی کے حکم نمبر 39 قواعد نمبر 1 اور 2 کے  تحت کئ گئی استدعا پر بھی کاروائی  تکمیل پزیر ہے۔کیونکہ اصل دعویٰ پرکاروائی مکمل ہوچکی ہے۔اور حسب حال اپیل پر بھی ضروری کاروائی مکمل ہوگئی ہے اخراجات کاحکم نہیں دیا جاتا۔مجریہ 23 جون 1976ءستخط ڈسٹرکٹ جج جہلم ۔

 

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 11 ص 101-105

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ