سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(98) سکو ل اور کالج میں صدقہ فطر کے مال سے امداد کرنا جائز ہے یا نہیں۔

  • 3576
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-05
  • مشاہدات : 507

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 ۶ اپریل کے پرچہ اہل حدیث میں پوچھا گیا کہ موجودہ زمانہ کے سکو ل اور کالج میں صدقہ فطر کے مال سے امداد کرنا جائز ہے یا نہیں؟ جواب دیا گیا ہے کہ طلباء غریب مسکین ہوںتو جائز ہے، سمجھ میں نہیںآیا۔ اس لیے کہ مصارف بیت المال سے سکول اور کالج خارج ہیں، دیگر یہ کہ جن مدارس عربیہ میں خالص قرآن و حدیث ہی کی تعلیم ہوتی ہو ایسے مدار س عربیہ کو کھینچ تان کر فی سبیل اللہ میں داخل کرنے کی ضرورت پڑتی ہے، مگر سرکاری اسکول اور کالج میں ما سوائے قرآن و حدیث کے تعلیم ہوتی ہے، وہاں اس مد سے امداد کرنے کا جواز بالکل فہم ناقص سے بالاتر ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیلکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 سکول کی امداد اور چیز ہے، اور غریب طالب علم کی امداد اور ہے، ہمارے فتویٰ میں کا تعلق غریب طالب علموں کی ضروریات سے ہے، ان کو مدد دینا اس آیت کے ذیل میں آ سکتا ہے: {اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآئِ وَ الْمَسَاکِیْنِ الایة} باقی رہا ان کا تعلیم حاصل کر کے دنیاوی مشاغل میں لگ جانا اور اعمال شرعیہ سے الگ ہو جانا اس کی ذمہ داری ہم پر نہیں عربی کے بعض طالب علم بعد فراغت شرک و بدعت پھیلانے میں لگ جاتے ہیں، اس کی ذمہ داری زکوٰۃ دہندہ پر نہیں ہے، اس کا فرض شروع میں صرف اتنا ہے کہ پہلے وہ دیکھ لے کہ اس آیت کے مصداق ہیں یا نہیں۔ واللہ اعلم (۱۲ جمادی الآخر ۱۳۶۳ھ) (فتاویٰ ثنائیہ جلد اول ص ۴۷۸)

فتاویٰ علمائے حدیث

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ