سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(97) غیر مسلم کو فطرہ یا زکوٰۃدینا جائز ہے یا نہیں ۔

  • 3575
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-05
  • مشاہدات : 592

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 ہمارے یہاں دستور ہے کہ فطرہ کا غلہ نکال کر رکھ دیا جاتا ہے، اور فقیروں مسکینوں کو دیا جاتا ہے جن میں بعض غیر مسلم بھی ہوتے ہیں، حتی کہ جو لوگ ہمارے ہاں کھیتی باڑی کے مزدور غیر مسلم ہیں ان کو بھی فطرہ دیا جاتا ہے، کیا غیر مسلم کو فطرہ یا زکوٰۃ دینی جائز ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیلکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 غیر مسلم کو فطرہ یا زکوٰۃ ہر گز نہیں دینی چاہیے، اگر ان کو یہ اموال دئیے گئے تو شرعاً یہ خیرات مردود ہو گی، اموال زکوٰۃ و صدقۃ فطر کے مستحق صرف مسلمان ہیں، یہ عطیے صرف مسلمانوں کے لیے مخصوص ہیں، صدقہ فطر کے متعلق احادیث میں وارد ہے طعمۃ للمساکین اس میں الف اور لام عہد خارجی ہے جس سے مسلمان مساکین مراد ہیں، نہ کہ کافر۔ (اہل حدیث گزٹ ش ۱۶ ص ۱۳) (محمد یونس دہلوی مدرس مدرسہ حضرت میاں صاحب دہلی)

فتاویٰ علمائے حدیث

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ