سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(94) صدقہ فطر کئی سال جمع کر کے مسجد پر لگانا جائز ہے ۔

  • 3572
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-05
  • مشاہدات : 514

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 غریب اہل حدیث جماعت کے لوگ اس علاقہ میں صدقۃ الفطر ایک جگہ جمع کرتے ہیں، یعنی یہ لوگ دھان چاول پیسہ وغیرہ ایک جگہ جمع کر کے تقسیم کرتے ہیں، ایک سال یہ لوگ صدقۃ الفطر سے اپنے گاؤں کے محلہ کی جامع مسجد بنانا چاہتے ہیں، اور سی وجہ سے وہ مال بند کر رکھا ہے، آیا اس مال سے محلہ کی جامع مسجد بنانا جائز ہے یا کہ نہیں؟ یا مال مذکور سے امام مسجد کو کچھ حصہ لینا جائز ہے یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیلکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 مسجد نہیں بنا سکتے، یہ غربا اور مساکین کا حق ہے، اگر امام مسجد غریب مسکین ہے تو لے سکتا ہے۔ اللہ اعلم (اہل حدیث جلد ۴۳ نمبر۱۹) (فتاویٰ ثنائیہ جلد اول ص ۴۶۷)

فتاویٰ علمائے حدیث

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ