سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(87) دینی تعلیم پر اجرت لینا حرام ہے یا حلال؟

  • 3565
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-05
  • مشاہدات : 2452

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیافرماتے ہیں علماء کرام کی تعلیمات و دینیہ قرآن وحدیث فقہ وغیرہ پر اجرت لینا حرام ہے۔یا حلال؟ایک مولوی صاحب تعلیم دینیات پر اجرت لینا حرام بتاتے ہوئے فرماتے ہیں۔کہ جو ملاں مولوی  مذکورہ تعلیم پر اجرت لیتاہے۔وہ حرام کھاتا ہے۔اور دلیل دی کہ جو ابو دائود میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

عن عبادة بن صامت قال  قلت يا رسل الله صلي الله عليه وسلم رجل اهدي الي  قوسا ممن كنت اعلمه الكتب والقران وليست بمالفارهي عليها في سبيل الله قال كنت تحب ان تطزق طوقا طوقا من النار فاقبلها

(ابو دائود۔ابن ماجہ)

اور بیہقی میں ہے۔

من اخذ قوسا علي تعليم القران قدره الله قوما من نار

اب دریافت طلب سائل کی یہ ہے  کہ  تعلیم علم دین پر اجرت لینا حرام ہے۔یا حلال۔اگر حلال ہے۔تو ان حدیثوں کا کیاجواب ہے۔؟جواب سے تسلی فرمایئں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

وہوالموفق للصواب۔

الحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام علي سيد المرسلين اما بعد فاقول و بالله التوفيق

واضح ہو کہ مسئلہ مذکورہ بالا میں اہل حدیث اور حنفی حضرات کا اختلاف ہے۔اہل حدیث اور جمہورعلماء قرآن و حدیث اور دینیات کی تعلیم پراجرت و مشاہرہ لینا جائز سمجھتے ہیں۔اور کہتے ہیں۔اور معتقد میں احناف اس کوناجائز کہتے ہیں۔اورمتاخرین حنفیہ اہل حدیث کے متفق ہوگئے ہیں۔تفصیل اس کی فتاویٰ نزیریہ جلد دوم کتاب الاجارۃ

اب تو مدت مذید سے اس کے جواز  پرقریباً تمام امت محمدیہ ﷺ کا اجماع ہو رہا ہے۔عرب و عجم کے تمام علماء تعلیم و تبلیغ بلکہ آذان و اقامت نماز  پرتنخواہیں۔کھا رہے ہیں۔کسی کی تنخواہ سرکاری بیت المال سے مقرر ہے۔اور کسی کی انجمن یا کسی جماعت  کی طرف سے معین ہے۔کسی کوکوئی ایک ہی مالدار شخص تنخواہ دے رہا ہے۔رمضان شریف میں نماز تراویح میں حفاظ قرآن مجید سناتے ہیں۔جب آخر رمضان میں ختم کرتے ہیں۔تواُن کو بہت کچھ دیاجاتا ہے۔اہل حدیث اور حنفیہ کا اسپرتعامل ہے۔کوئی کسی کوحرام خورنہیں کہتا اسی طرح مدارس عرب و عجم میں تعلیم و تبلیغ پرمشاہرے لئے جارہے ہیں۔اور دئیے جارہے ہیں۔کسی ۔عالم ۔محدث ۔فقیہ۔نےحرام کا فتویٰ دے کر اس کے انسداد کی کوشش نہیں کی۔فرقہ ناجیہ اہل حدیث کابھی یہی تعامل چلا آرہا ہے۔

اب مولوی صاحب مذکور کو کونسی وحی نازل ہوگئی۔جس کی بناء پر وہ اس  تمام سلسلہ کو حرام قرار دے رہے ہیں۔نہ ان کو اتنی علمیت ہے۔کہ وہ تحقیقی مسائل میں محدثین سابقین سے سبقت لے گئے ہوں۔ اور نہ ان کا اتنا تقویٰ ہے۔ کہ وہ ہر قسم کے مسائل مختلف میں احتیاٖط سےکام لے کرشبہات سےبچنے لگے ہوں۔ہاں یہ ممکن ہے کہ وہ اپنی شہرت کرانے کےلئے تمام علماء دین کوحرام خور کہنےلگے ہوں۔ورنہ یہ مسئلہ اجماعی اور اتفاقی بن رہا ہے۔اور جو اسکے خلاف ہے شاز ہے۔

اب اس کی مختصر تحقیق سنیے!بلوغ المرام میں حدیث ہے۔

عن ابن عباس ان رسول لله صلي الله عليه وسلم قال ان احق ما اخذ تم عليه اجراكتاب الله  (اخرجہ بخاری)

حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا!تحقیق بہت ہی لائق چیز جس پر تم مذدوری حاصل کرو۔اللہ کی کتاب ہے۔

(رواہ البخاری)

یہ حدیث نہایت درجہ کی صحیح ہے۔اور اس کتاب کی ہے جس کو کتاب اللہ کے بعد تمام روئے زمین کی کتابوں پر فوقیت حاصل ہے۔لہذا یہ حدیث اس مسئلے میں حجت قوی ہے۔کہ تعلیم قرآن وغیرہ  پر اجرت لینی جائز ہے۔ بلکہ اور ذریعے سے اجرت لینے اور تنخواہ  وغیرہ حاصل کرنے سے اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تعلیم پر اجرت لینا زیادہ لائق ہے۔

امام نووی شرح صحیح مسلم میں فرماتے ہیں۔

هذا تصريح لجواز اخذ الاجرة علي الرقيةبالفاتحة والذنر وانه حلال لا كراهية فيها وكذا الاجرةعلي تعليم القران وهذا مذهب الشافعي وما لك واحمد واسحاق وابي ثور واخرين من السلف ومن بعدهم ومنعها ابوحنيفةفي تعليم القران واجازها في الرقية

یعنی اس حدیث میں صاف صراحت ہے۔کہ فاتحہ اور دم جھاڑ کرکے اجرت لیناجائزہے۔اور وہ حلال ہے۔جس میں کوئی کراہت نہیں۔اور اسی طرح تعلیم قرآن پراجرت لینا حلال ہے۔یہی مذہب آئمہ دین۔شافعی۔مالک۔احمد۔اسحاق۔ابو ثور۔اور دیگرعلماء سلف وخلف کا ہے۔اور تعلیم قرآن پرامام ابو حنیفہ منع کرتے ہیں۔اوردم کرنے پر جائز کہتے ہیں۔اس تصریح سےواضح ہوا کہ اہل حق کاسواد اعظم اس اجرت کے جواز کا قائل ہے۔

علامہ ابن حزم محلی ج8 ص193 میں  فرماتے ہیں!

والاجارة جائزة علي تعليم القران وعلي تعليم العلم مشاهرةوجملةوكل ذالك جائزة وعلي الرقي وعلي نسخ المصاحف ونسخ كتب العلم لانه لم يات في النهي عن ذلك نص بل قد جاء ت الا باحة كما روينا من طريق البخاري الخ

یعنی تعلیم القرآن اور دیگر علوم کی تعلیم پراجرت لین جائز ہے۔ماہوار ہویا اکٹھی سب جائز ہے۔سروم کرنے اورقرآن اور آسمانی کتب تفسیر حدیث کی کتابوں کی کتابت  پر مزدوری لینا بھی درست ہے کیونکہ اس کی ممانعت کی کوئی شرعی دلیل نہیں ہے۔(تو اصل اشیاء میں اباحت)بلکہ اس کے درست ہونے کے متعلق بخاری کی حدیث ہے جس کو ہم نے روایت کیا۔

پھرعلامہ ابن حزم نے حدیث بخاری کو بروایت ابن عباس نقل کر کے اس سےاستدلال کیا  ہے۔پھر د وسری یہ دلیل پیش کی ہے۔

والخبر المشهور ان رسول الله صلي الله عليه وسلم زوج امراة من رجل بما معه من القران اي يعلمها اياه

یعنی یہ حدیث مشہور ہے۔کہ رسول اللہ ﷺ نے قرآن کی تعلیم کے عوض میں ایک مرد سے ایک عورت کا نکاح کرایا تھا۔

میں کہتا ہوں کہ مسلم شریف کے باب الصدق وجوازكونه تعليم القران میں وہ حدیثیں جن میں تعلیم قرآن کے عوض عورت کے نکاح کردینے کا زکر ہے۔وارد ہے ان میں یہ الفاظ موجود ہیں۔

فقد زوجتلها فعلمها من القران

کہ  تجھے یہ عورت نکاح کردی۔تو اسے قرآن کی تعلیم دے۔نیز یہ الفاظ ہیں۔

فقد ملكتلها بها معك من القران

کہ اس عورت کو تیرے قرآن کی تعلیم کے عوض تیری ملک میں کیا جو تجھے یاد ہے۔

ابو دائود میں ہے۔

علمها عشرين ايةوهيامراتك

تو اس کوبیس آیات پڑھا دے۔یہ تیری عورت ہے۔

اب مولوی صاحبان معلوم کریں کہ نکاح ہوگیا تھا یا نہیں۔؟اورزوجین نے اس پرعمل کیا تھا کہ نہیں؟اگر جواب اثبات میں ہے۔تو مدعاہماراثابت ہوا۔کہ تعلیم قرآن پر اجرت لینی اور عورت سے نکاح کرنا اوردیگرمنافع حاصل کرنے جائز ہیں۔اگر یہ نکاح ناجائز ہے۔کیونکہ اجرت اور مہر ناجائز چیز کا باندھ دیا گیا۔پھر یہ اللہ کے رسول ﷺ اورشریعت مطہرہ پر حملہ ہے۔اورمولوی صاحب کے نزدیک سب حرام کار بنتے ہیں۔تو ان کو اسلام کا دعویٰ چھوڑ دینا چاہیے۔اورکوئی دوسرا مذہب پسند کر لینا چاہیے۔

نعوز بالله من ذالك

اب اس حدیث پر امام نووی ؒ کا فرمان سنیے! وہ فرماتے ہیں کہ

وفي هذا الحديث دليل لجواز كون الصداق فعليم القران وجوازالاستيجار التعليم ال قران وكلاهما جائز عند ا لشافيي به قال عطاء والحسن بن صالحو مالك و اسحاق وغيرهم و منعه جماعة منهم الزهري وابو حنيفة وهذا الحديث مع الحديث الصحيح ان احق ما اخذتم عليه اجرا كتاب الله يرد ان قول من منع ذلك ونقل القاضي عياض جواز الاستحبار لتعليم القران عن العلماء كافة سوي ابي حنيفة انتهي  (مسلم ج 1 ص 458)

یعنی اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ تعلیم قرآن کا مہر ہونا جائز ہے۔اور تعلیم قرآن پراجرت لینا بھی جائز ہے۔امام شافعی۔اورعطا  اور حسن بن صالح اورامام مالک اور امام اسحاق وغیرہ کا  یہی مذہب ہے۔ایک شر زمہ قلیل اس سے روکتا ہے جن میں سے زہری اور امام ابو حنیفہ ہیں۔یہ حدیث بمع حدیث ابن عباس مذکور منع کرنے والوں کا رد کرتی  ہے۔

اور قاضی عیاض نے تعلیم قرآن پراجرت لینے والوں کا جواز تمام علماء سے نقل کیا ہے۔سوائے امام ابو حنیفہ کے محلی ابن حزم میں ہے۔

عن الوضين ابن عطاء قال مكان بالمدينةثلاثة معلمين يعلمون الصبيان فكان عمر بن خطاب يرزق كل واحد خمسة عشر كل شهر (محلی ابن حزم ج8 ص190)

یعنی وضین بن عطاءسے روایت ہے کہ مدینہ میں  تین معلم تھے۔جو بچوں کو تعلیم دیا کرتے تھے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہر مدرس کو پندرہ (درہم یا دینار) دیا کرتے تھے۔

نیز لکھا ہے۔

وصح عن عطاء وابي قلابة ابا حة اجر المعلم

یعنی عطا۔ابو قلابہ سے بھی معلم کی اجرت جائز منقول ہے ۔نیل الاوطار میں ہے۔

ذهب الجمهور الي انها تحل علي تعليم القران

یعنی جمہور علماء اس  طرف گئے ہیں کہ تعلیم قرآن پراجرت یا مزدوری حلال ہے۔تنقیح الرواہ تخریج مشکواۃ میں ہے۔

استدل به الجمهور علي جواز اخذ الاجرةعلي تعليم القران

یعنی حدیث ابن عباس سے جمہور علماء نے استدلال کیاہے۔کہ تعلیم قرآن پراجرت لینی روا ہے۔

الٖغرض بخاری ومسلم کی صحیح احادیث سے تعلیم قرآن وغیرہ پراجرت لینا جائز ثابت  ہوا چنانچہ الفاظ صاف ہیں کہ اللہ کی کتاب سب سے  زیادہ حق دار ہے کہ تم اس پر مذدوری حاصل کرو۔

بخاری اور مسلم صحیحین کہلاتی ہیں۔جو طبقہ اولیٰ کی کتابیں کہلاتی ہیں۔ا ن کی حدیث سب کتابوں پرمقدم ہے۔ان کے خلاف اگر طبقہ ثانیہ (ابو داو۔ترمذی۔نسائی)یا طبقہ ثالثہ (سنن دارقطنی بیہقی) کی حدیثیں کی جایئں تو ان کے در یہاں تطبیق دی جائے گی۔ورنہ توقف ہوگا۔حضرت شاہ ولی اللہ  محدث دہلوی فرماتے ہیں۔''ک صحیحین کی شان یہ ہے کہ تمام محدثین کا اتفا ق ہے۔کہ ان میں جو حدیثیں مرفوع متصل ہیں وہ سب یقیناً صحیح ہیں۔یہ کتابیں اپنے اپنے مصنفوں تک متواتر نہیں۔''

(حجۃ البالغہ)

دیگر قاعدہ یہ ہے کہ احکام یعنی فرض واجب۔حلال حرام میں صحیح حدیث قابل استدلال ہے اور ضعیف حدیث قابل حجت نہیں ہے۔ہاں فضائل اعمال میں حجت ہے۔چنانچہ صحیح مسلم جلد اول ص21 کی شرح میں امام نووی فرماتے ہیں۔

ان كان يعرف ضعفه لم يحل له ان يحتج به فانهم متفقون علي انه لا نحتج بالضعيف في الاحمام

یعنی روایت کا اگر ضعف معلوم ہے تو اس سے حجت پکڑنا حلال نہیں ہے۔کیونکہ اکثر آئمہ اس بات پرمتفق ہیں کہ ضعیف حدیث احکام میں حجت نہیں ہے۔پس ان دو قاعدوں کو ایک یہ کہ طبقہ اولیٰ کی حدیثیں دیگر طبقوں پر راحج  ہیں دوم ضعیف حدیث  احکام میں حجت نہیں ذہن نشین فرما کر اب تعلیم قرآن پر اجرت لینی حرام کہنے والوں کے دلائل کےجوابات سنئے ایک حدیث وہ ہے جو سائل نے لکھی ہے۔

عن عباده بن صامت قال قلت يا رسول الله صلي الله عليه وسلم رجل اهدي الي  قوسا ممن كنت اعلمه الكتب والقران وليست بمال ارمي عليها في سبيل الله قال ان كنت تحب ان تطوق طموقا من نار فاقبلها

(ابو دائود۔ابن ماجہ)

عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔کہ میں نے کہا یا رسول اللہﷺ ایک شخص نے کمان ہدیہ بھیجی ہے۔اور یہ اُن شخصوں میں سے ہے۔کہ جن کو میں قرآن و حدیث کی تعلیم دیاکرتا ہوں۔اور کمان کوئی حال نہیں ہے۔میں اس کے ساتھ اللہ کی راہ میں تیر اندازی کروں گا۔آپ ﷺ نے فرمایا! کہ اگر تو یہ دوست رکھتا ہے۔کہ تجھ کو آگ کا طوق پہنایا جائے۔تو اس کو قبول کرے۔اس حدیث کو ابن دائود اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

مانعین اجرت تعلیم اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں۔پس اس حدیث کے تین جواب ہیں۔

1۔یہ حدیث طبقہ ثانیہ کی ہے۔اور حدیث ابن عباس صحیحین طبقہ روئی کی ہے۔لہذا اس کے مقابلہ میں مقدم نہ ہوگی۔

2۔حدیث ابن عباس صحیح بلکہ اصح ہے اورحدیث عبادہ ضعیف ہے ۔چنانچہ تنقیح الرواۃ تخریج المشکواۃ ص196 جلد 2 میں ہے۔

وفي اسناد الحديث مغيرة ابن زياد مختلف فيه وثقه وكيع ويحيي ابن معين وتكلم فيه جماعة والستنكر احمد حديثه وقال ابوزرعة لا يحتبح بحديثه وناقض الحاكم فصح حديثه في المتدرك واتهمه في موضع اخر فقال يقال انه حد عن عبادة ابن نسي بحديث موضوع

یعنی اس حدیث کی سند  میں ایک راوی مغیر ابن زیاد ہے۔جو مختلف فیہ ہے۔وکیع اور یحییٰ ن اسے ثقہ کہا ہے۔ایک جماعت نے اس میں کلام کیا ہے۔یعنی جرح کی ہے۔چنانچہ امام احمد نے اس کی حدیث کو منکر کہا ہے۔اورابوزرعہ نے کہا ہے کہ اس کی حدیث سے دلیل نہیں  لی جاسکتی۔حاکم نے اس  پر مناقصہ ہے۔مستدرک میں کہا ہے کہ اس کی حدیث صحیح ہے مگر دوسری جگہ اس کو مہتم کیا ہے۔کہ وہ عبادہ س موضوع حدیث بیان کرتا ہے۔بہر کیف مغیرہ مختلف فیہ ہے۔اورجرح تعدیل پر مقدم ہے۔لہذا مغیرہ ضعیف ہے۔دوسرا راوی  اس حدیث میں اسود بن ثعلبہ ہے۔ اس کے متعلق محلی ابن حزم میں لکھا ہے۔

وهو مجهول لا يدري قاله علي ابن المديني وغيره

یعنی اسود بن ثعلبہ مجہول ہے۔اس کا حال معلوم نہیں ہوا۔علی بن مدینی نے کہا  ہے۔مجہول راوی جس روایت میں ہو وہ ضعیف ہوتی ہے۔تیسرا راوی بقیہ بن ولید ہے۔جس کے متعلق محلی میں ہے۔کہ وھواضعیف وہ ضعیف ہے۔پس جس حدیث میں تین راوی ضعیف ہوں وہ قابل استدللال نہیں ہوسکتی۔

امام ابن حزم نے امام ابو حنیفہ کا مذہب نقل کر کے پھر لکھا ہے کہ

واحتج له مقلدوه بخبر  روينا

یعنی امام ابو حنیفہ کے مقلد اس کی حمایت کےلئے اس حدیث سے صحبت لیتے ہیں جو ہم نےروایت  کی ہے پھر حدیث قوس وغیرہ لکھ کر ان کی تضعیف کی ہے ابی ابن کعب سے ایک روایت نقل کی ہے اس  کے متعلق لکھاہے کہ اس میں ابو ادریس خولانی ہے جو ابی بن کعب سے رویات کرتا ہے لیکن اس کا سماع ثابت نہیں  لہذا یہ روایت منقطع ہے۔

لايعرف لابي  ادريس سماع من ابي

ابی ابن کعب کا ایک اور طریق ہے جس کے متعلق نیل الاوطار میں ہے۔

اما حديث ابي بن كعب فاخرجه ايضا والبيهقي  والرويا في في مسنده قال  البيهقي وابنعبد البر هو منقطع

یعنی حدیث ابی اببن کعب جس کو بیہقی اور رویانی نے مسند میں روایت  کیاہے۔اس کے متعلق بیہقی اور  ابن عبد البر نے کہا کہ وہ منقطع ہے۔

اس میں عطیہ کلائی اورابن ابی کعب کے درمیان انقطاع ہے پھر اس میں عبد الرحمٰن بن مسلم نے عطیہ سے روایت کیا ہے۔اس کے متعلق لکھا ہے۔

واعله ابن القطان بحال عبد الرحمان بن مسلم الراوي عن عطية

یعنی ابن القطان نے عبد الرحمٰن کی وجہ سے جو عطیہ سے راوی ہے اس حدیث کو معلول کیاہے۔پھر ابی کی حدیث کے کئی طرق ہیں۔نیل الاوطار میں ہے۔ابی کی حدیث کے کئی طرق ہیں اور ابن قطان نے کہا کہ ان میں کوئی بھی ثابت نہیں۔

ایک حدیث عمران بن حصین کی ترمذی  میں ہے۔جس سے دلیل پکڑی جاتی ہے۔امام ترمذی اس کے آخر میں فرماتے ہیں۔

ليس اسناده بذالك

کہ اس کی اسناد صحیح نہیں ہے۔عبادہ والی حدیث کا ایک طریق اسماعیل بن عباس سے ہے اس کے متعلق محلی میں  ہے۔

وهو ضعيف  ثم هو منقطع

یہ راوی  ضعیف بھی ہے۔اور منقطع بھی ہے۔یعنی اس طریق میں دو راوی ضعیف ہیں۔

اسی  طرح ابی ابن کعب کا ایک طریق علی ابن رباح سے آیا ہے۔اس کے متعلق محلی میں ہے۔

والاخر ايضا منقطع لان علي بن رباح لميدرك ابي بن كعب

یہ روایت بھی منقطع ہے۔کیونکہ علی بن رباح نے ابی بن کعب کو نہیں پایا۔

اسی طرح بیہقی اور ابو نعیم نے ابو درداء سے ایک روایت زکر کی ہے۔تنقیح الرواۃ میں ہے۔

فی اسنادہ مقال کہ اس کی سند میں جرح  ہے۔پھر دارمی میں ابو درداء سے ایک روایت ہے تنقیح الرواۃ میں ہے۔

قال وحيم حديث ابي درداء هذا ليس له اصل

یعنی وحیم نے کہا حدیث ابودرداء کی کوئی اصل  نہیں۔

الغرض اجرت منع ہونے کے بارہ میں جس قدر روایتیں ہیں سب کی سب ضعیف ہیں کوئی منکر ہے کوئی منقطع کسی کے راوی ضعیف ہیں کسی میں کوئی علت ہے کسی میں کوئی علت ہے۔لہذا مانعین کادوعویٰ در بارہ اجرت تعلیم القرآن و حدیث کئی وجوہ سے قابل قبول نہیں۔

1۔یہ حدیث طبقہ ثانیہ یا ثالثہ کی ہیں۔جو طبقہ اولیٰ کی احادیث کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔طبقہ اولیٰ کو ترجیح ہے۔

2۔یہ احادیث ٖضعیف ہیں۔اور جواز اجرت کی احادیث نہایت صحیح ہیں ۔ضعیف سے صحیح کا مقابلہ ٹھیک نہیں۔

3۔احادیث جواز اجرت مثبت ہیں۔اور احادیث منع اجرت نافی ہیں ۔قاعدہ یہ ہے کہ اثبات نفی پر مقدم ہے۔

4۔احادیث منع کی موول ہیں۔مثلاً حدیث عبادہ وغیرہ جس میں زکر قوس ہے اس کا مقصد ہے۔

ان النبي صلي الله عليه وسلم علم انهما فعلا ذالك خالصا لله ذكره اخذ العوض عنه (نیل الاوطار)

یعنی  عبادہ اورابی کا حال نبی ﷺ نے معلوم کر لیا تھا۔کہ انہوں نے یہ کام خالص لوجہہ للہ کیا ہے۔اب اس کا بدلہ لینا مکروہ ہے۔پس اب بھی یہی صورت مراد ہے۔

ایک حدیث تحریم سوال بالقرآن پر دلالت کرتی ہے۔اس کو مسئلہ ما بہ النزاع سے کچھ تعلق نہیں ۔ (نیل الاوطار)

ایک اور حدیث میں تاکل بالقرآن کا زکر ہے۔اس کے متعلق نیل میں ہے۔

فهو اخص من يحل  المغزاع لان المنع من التاكل بالقران لايستلزم المنع من قبول ما دفعه المعلمبطيبة من نفسه

یہ حدیث دعویٰ اور مسئلہ متنازع سے  بہت ہی خاص ہے کیونکہ سنیے! تاکل بالقرآن سے طالب علم کااپنی خوشی سے کوئی چیز دینے اور اس کے قبول کرنے سے منع ہوتا۔یا منع کرنا لازم نہیں آتا۔ہر دو مسئلہ علیحدہ علیحدہ میں دعویٰ اور دلیل میں تقریب تمام کا ہونا لازم ہے اجرت آذان کی ممانعت سے استدلال کرنا بھی صحیح نہیں ہے۔کیونکہ یہ قیاس ہے۔اور قیاس بھی فاسد الاعتبار اس لیے صحت نہیں نیل الاوطار میں ہے۔

پھر یہ قیاس بمقابلہ نص ہے جو مردود ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ حدیث بخاری و مسلم سے مسئلہ جواز اجرت تعلیم کا صحیح ثابت ہوا۔

والعمل عليه اكثر اهل العلم

باقی تاویلات مانعین کی ناقابل قبول ہیں۔کیونکہ سب تاویلات بے دلیل ہیں۔مثلاً یہ کہ حدیث

ان اجق ما اخذ تم عليه اجرا كتاب الله

کی تاویل بعض مقلدین نے یہ کی ہے کہ اس اجر اخروی یعنی ثواب آخرت مراد ہے۔چنانچہ تعلیق صحیح شرح مشکواۃ میں مولوی ادریس کاندھلوی نے لکھا ہے کہ

قلنا اراد به الاجرالاخرة

یہ تاویل مردود ہے۔اور یہ تاویل

بما لا برضي به القائل

کی مصداق ہے کیونکہ مورد کے خلاف ہے۔اور سیاق وسباق کے خلاف ہے۔کیونکہ مذدوری موجود ہے اور سوال اس کے متعلق ہے۔اگر جواب اجر آخرت ہو توسائل کے سوال کا اجر کہاں گیا۔اور اس چیز کا حکم کیا ہوا۔یہ تو سوال از آسمان جواب از رثیمان کی مثل ہوگا۔ جو شان نبوت کے خلاف ہوگا۔دوم  یہ کہا جاتا ہے۔اس سے مراد صرف رقیہ   پر اجرت لینا ہے تعلیم پرنہیں میں کہتا ہوں یہ تاول بھی مردو ہے۔کیونکہ مورد اگرچہ خاص ہے۔لیکن جواب عام ہے۔لفظ ما عموم کے لئے ہے۔اور یہ قاعدہ مسلم ہے  کہ

ان العبرة لعموماللفظ لا لخصوص السبب

یعنی لفظوں کے عموم کا اعتبار ہے۔مورد اور سبب کا اعتبار نہیں اگر صرف رقیہ مراد ہو توحدیث میں خاص ہی لفظ بولا جاتا۔

سوم یہ کہا جاتا ہے کہ حدیث ابن عباس عام ہے۔اور حدیث عبادہ خاص ہے۔عام اور خاص کا مقابلہ ہو تو عام کی تخصیص کی جائے گی۔پس حدیث عبادہ حدیث ابن عباس کی مخصص ہے۔چنانچہ علامہ شوکانی نے یہی کہا ہے کہ میں کہتا ہوں کہ یہ تاویل بھی مردود ہے۔جس کی کئی وجوہات ہیں۔

1۔یہ کہ عام اور خاص کا مقابلہ اس وقت صحیح ہوتا ہے۔(جس سے تخصیص کرنی پڑتی ہے۔) جس وقت دونوں یکساں قوی ہوں۔اگر خاص ضعیف و کمزور ہو تو مخصص نہیں ہوسکتا۔جب دس مردے ایک زندہ کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔دس بیمار ایک قوی صحیح وسالم کا مقابلہ نہیں کر سکتے تو ضعیف حدیث صحیح حدیث کا مقابلہ کیسےکر سکتی ہے۔

2۔دوم حدیث نکاح بعض تعلیم قرآن اس تخصیص کی تردید کرتی ہے۔

3۔امت محمدیہ کی اکثریت کا تعامل اور اکابر محدثین کا اس سے استدلال کرنا اس تاویل کو باطل کرتاہے۔

4۔چہارم۔تعامل خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے خلاف ہے۔كما مر سابقا

5۔پنجم ۔یہ کہا جاتا ہے کہ حدیث عبادہ وغیرہ کی منفردات روایتیں تو بے شک ضعیف ہیں۔لیکن تعدادطرق سے  جو مجموعہ تیار ہو جاتا ہے۔وہ حسن لغیرہ کے درجہ کو پہنچ جاتا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ

ان الحوق الضعيف بالضعيف لا يفيد قوة

یعنی ضعیف کو ضعیف سے ملانا قوت کو مفید نہیں۔یہ اس وقت مفید ہے۔ جب ضعف کم ہو۔اگر زیادہ ہو تو مفید نہیں۔یہاں یہی معاملہ ہے۔

(کتبہ۔عبد القادر المہاجر الحصاری ۔فتاویٰ ستاریہ جلد سوم ص73)

 

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 12 ص 168-191

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ