سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(84) نوجوان بالغہ لڑکی کا موجودہ اسکولوں میں انگریزی تعلیم پاناکیسا ہے۔؟

  • 3562
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-05
  • مشاہدات : 1239

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

نوجوان بالغہ لڑکی کا موجودہ اسکولوں میں انگریزی تعلیم پاناکیسا ہے۔؟

کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اندریں مسئلہ کہ ایک نوجوان لڑکی بالغہ کا آجکل کے ماحول میں موجودہ سکولوں میں جاکر انگریزی اور مروجہ سرکاری تعلیم حاصل کرنا کیاہے۔شریعت اسلامیہ کی رو سے جائز ہے یا نہیں۔؟ واضح رہے کہ لڑکیوں کےلئے الگ زنانہ سکول موجود ہیں۔جہاں عورتیں ہی انکو تعلیم دیتی ہیں۔بدلائل شرعیہ وضاحت سے تحریر فرمایئں۔

(از مولانا شرف الحق محمود)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صورت مسئولہ میں واضح ہو کہ دین اسلام پر قائم رہتے ہوئے انگریزی تعلیم حاصل کرنا انہی ضروریات کےلئے جائز ہے۔بشرط یہ کہ پردے کی پابندی ہو۔اور مخلوط تعلیم نہ ہو۔یعنی وہاں لڑکے تعلیم نہ  پاتے ہوں۔اگر ایسی تعلیم سے دین  میں کوئی نقصان ہوتو جائز نہیں۔

(فتاوی ستاریہ جلد چہارم ص72)

 


فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 12 ص 166

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ