سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(55) صدقہ خیرات دینا فرض ہے، یا واجب یا مستحب یا سنت۔

  • 3534
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-05
  • مشاہدات : 514

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
 کیا صدقہ خیرات دینا فرض ہے، یا واجب یا مستحب یا سنت؟ جو شخص صدقہ خیرات دینے کے قابل ہو کہ صدقہ خیرات دے گا، تو کس درجہ کا گناہ گار ہو گا؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 کیا صدقہ خیرات دینا فرض ہے، یا واجب یا مستحب یا سنت؟ جو شخص صدقہ خیرات دینے کے قابل ہو کہ صدقہ خیرات دے گا، تو کس درجہ کا گناہ گار ہو گا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیلکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 زکوٰۃ واجب ہے اور صدقات واجب نہیں، اگرچہ مؤکد اولیٰ، افضل مسنون بڑا ثواب سب کچھ ہے، مگر فرض صدقات میں صرف زکوٰۃ ہی ہے کہ جس کے نہ دینے پر آدمی گناہ گار اور اسلام کے ایک بڑے جز و رکن کا تارک ہوتا ہے، صحیح نسائی مطبوعہ انصاری جلد اول صفحہ ۴۹ میں ہے کہ ایک سائل ضمام بن ثعلبہ نے آپ سے اسلام کا سوال کیا کہ اسلام کیا چیز ہے؟ آپ نے نماز مفروضۃ پنچ وقتہ بتلائی، اور ماہ رمضان کے روزے بتلائے، اور زکوٰۃ بتلائی، سائل نے سوال کیا کہ کیا اور بھی میرے پر فرض ہے، آپ نے فرمایا نہیں، مگر یہ کہ نفل کرے، غرض نفلی صدقہ نکالنا ضرور چاہیے، آپ نے فرمایا کہ جو چیز فرض میں گم ہو گی وہ نفل سے پر ہو گی۔ اور صدقات نفلی کے بہت کچھ فضائل احادیث میں آئے ہیں، بلکہ مستحقین کو غرباء و محتاج کے ہوتے ہوئے روکنے پر بھی وعید شدید بھی آئی ہے، حدیث میں آیا ہے: ((یَا ابْنِ اٰدَمَ اُنْقِقْ اُنْفِقْ عَلَیْکَ)) ’’یعنی اے ابن آدم! تو خرچ کر خدا تجھ پر کرے گا۔ (واللہ اعلم) ‘‘ (فتاویٰ ستاریہ جلد اول ص ۶ مطبوعہ کراچی)

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 7 ص 278

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ