سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(08) مسلک اہل حدیث کے بارے میں چند سوالات کے جوابات

  • 3476
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-04
  • مشاہدات : 2892

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مسلک اہل حدیث کے بارے میں چند سوالات کے  جوابات

مسلک اہل حدیث کے بارے میں جناب عبد الخالق صاحب بے اے ایل ایل بی نے چند اہم سوالات شیخ محمد اسماعیل ؒصاحب سلفی امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث کی خدمت میں ارسال کیے تھے۔آپ نے اُن کے نہایت تشفی بخش جوابات دیے ہیں۔

سوالات

1۔مسلک اہل حدیث کی بحیثیت فقہی مذاہب )تعریف کیا ہے۔مختصر اور جامع الفاظ میں تحریر فرمایئے۔

2۔مسلک اہل حدیث کی اصول فقہ کی کتاب کونسی ہے۔کتاب کا نام اور مصنف کا نام تحریر فر مائیں۔

3۔اہل حدیث کے اصول فقہ کونسے ہیں۔

4۔مذہب اہل حدیث کے مجتہدین کونسے ہیں۔جن کی فقہ اہل حدیث میں جامع تصانیف موجود  ہیں۔

5۔مذہب اہل حدیث میں مجتہدین کے لئے اقسام ہیں۔اور ہر قسم کےلئے کونسے اوصاف ضروری اور لازمی ہیں۔

6۔مسلک اہل حدیث میں مفتی کے لیے کیا شرائط ہیں۔کیا مجتہد ہونا ضروری ہے۔؟

7۔ہندو پاکستان میں ایسے کتنے علماء موجود ہیں۔ جن کو مسلک اہل حدیث کا مجتہد مانا جاتا ہو۔نام اور مصنف کا نام تحریر فرمایئں۔

8۔کیا مسلک اہل حدیث کی فقہ مدون اور مرتب صورت میں موجود ہے۔اگر ہے تو اس فقہ کی تدوین کن حضرات نے کی اور کب ہوئی۔؟فقہ اہل حدیث کی کوئی جامع کتاب موجود ہو۔تو  اس کا نام اور مصنف کا نام تحریر فرمایئں۔

9۔کیا ایسی  مرتب اور مدون فقہ اہل حدیث پر ہمیشہ عمل کرتے رہنا عامی کے لئے حنفی شافعی بنے رہنے کے مترادف تو نہیں ہے۔؟ایسے مقلد اور حنفی شافعی میں کیا فرق ہے۔؟

10۔مسلک اہل حدیث کی اگر فقہ مرتب و مدون نہیں ہے۔تو علماء اہل حدیث اجتہادی مسائل میں جن کی تعداد لاکھوں تک پہنچ سکتی ہے۔کیسے فتویٰ دیتے ہیں۔کیا وہ خود اجتہاد کر کے فتویٰ دیتے ہیں۔یا کسی امام فقہ کے قول و اجتہاد پر فتویٰ دیتے ہیں۔اگردوسر ی صورت ہے تو کیا یہ اُس امام فقہ کی تقلید کروانی نہیں ہے اگر پہلی صورت ہے تو کیا ایسا کرنے سےامت میں وہ نظم اور  یکجہتی قائم رہ سکتی ہے جو ایک مسلک متعین کی اتباع میں نصیب ہوتی ہے۔کیونکہ مختلف علماء اہل حدیث کا ذاتی اجتہاد باہم دیگر  مختلف ہو سکتا ہے۔کیا ایسا کرنے سے اختلاف اور تفرقہ بڑھ تو نہیں جائے گا۔

11۔ایک اہل حدیث عالم دین کے ذاتی اجتہاد اور امام ابو حنیفہ امام شافعی وغیرہم کو مدون اور مرتب فقہ میں سے کون سی چیز عمل کرنے کے لئے افضل ہے۔اگر عامی اجتہادی مسائل میں ان آئمہ میں سے کسی ایک امام فقہ کی اتباع کرتا ہے۔تو کیا ایسا آدمی عامل بالحدیث نہیں ہے۔خصوصاً جب کہ وہ اپنے امام کے خلاف قرآن وحدیث مسائل کو  چھوڑ دینے کے  لئے بھی تیار ہو۔

نوٹ

کتاب معیار الحق مصنف سیدنزیر حسین محدث دہلوی میں مندرجہ تقلید کے چار اقسام نظر میں رکھیں۔

12۔کیا علماء اہل حدیث ہر فقہی مسائل کے  لئے قرآن مجید یا حدیث شریف میں سے نص صریح  پیش کرتے ہیں۔جیس کہ ابن حزم ظاہری کا معمول بتایا جاتا ہے۔نیز اہل حدیث اور ظاہریوں کے مسلک میں کیا فرق ہے۔

13۔اگر مذکورہ بالا سوال کا جواب اثبات میں ہے۔تو براہ کرم ہر فقہی مسئلہ کے لئے صریح آیات و حدیث پیش کرنے کا اعلان فرمایئں۔تاکہ مخالفین کو اعتراض کی گنجائش باقی نہ رہے۔

14۔اگر جواب نفی میں ہے۔تو پھر آپ کو فقہی مسائل کے بارے میں ایسا اجتہادی فتویٰ مخالفین کو پیش کرنا ہوگا جو آئمہ اربعہ میں سے کسی سے منقول نہ ہو۔نیز قرآن وحدیث کے خلاف نہ ہو۔اور علماء اہل حدیث کا معنی یہ قول بھی ہو۔

اگر آپ مجتہدین کے کسی قول کو موافق قرآن وحدیث پا کر اس  پر فتویٰ دیں گے۔تو پھر آپ کو اس قول کا ماخذ قران وحدیث سے ضرور پیش کرنا ہوگا۔ورنہ اس مسئلہ میں اسی امام کی اندھی تقلید ہوگی۔(بخلاف اتباع کے)جوکہ آپ کے نزدیک خود ان آئمہ مجتہدین کے قول (کہ دلیل کے بغیر ہمارے قول پر فتویٰ دینا حرام ہے وغیرہ) کے مطابق جائز ہیں۔والسلام

(عبد الخالق کندہ کوٹ)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جوابات

محترم!السلام و علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاۃ!مکتوب گرامی سے مسرت ہوئی کے آپ قانون کے ساتھ شغف کے باوجود مذہب سے لگائو رکھتے ہیں۔سوالات سے ظاہر ہے کہ ان فقہی اختلافات میں بھی آپ کا مطالعہ کا انداز مناظرانہ ہے۔آپ نے سوالات کی ترتیب میں قانون اور مناظرہ دونوں کو ملحوظ رکھا ہے۔نیز سوالات اس ذہن کی ٖغمازی کرتے ہیں۔کہ اہل حدیث کو آپ ایک ایسا  فرقہ سمجھتے ہیں۔جو آئمہ اجتہاد کی ضد ہے۔اور شاید ہر مسئلے  میں ان سے الگ ہے۔آجکل دیوبند اوربریلی سے جس طرح جمود کی دعوت دی جارہی ہے۔اور متاخرین شوافع بھی قریباً اسی انداز سے دعوت دیتے ہیں۔ اس سے تو اہل حدیث کا کلی اختلاف ہے۔ہم اس جمود کو واقعی قطعاً پسند نہیں کرتے۔بلکہ اس جمود کو اسلام کی دعوت کے بھی خلاف سمجھتے ہیں۔ایک انصاف پسند طالب علم ان حضرات کی اس تعصب آمیز دعوت سے یہی نتیجہ کرے گا۔جو جناب نے اخذ کیاہے۔

لیکن حقیقت میں اہل حدیث کی دعوت عام اور جامع ہے۔اس میں مذاہب اربعہ اور دیگر آئم اجتہاد کی فقہی مساعی بھی شامل ہیں۔اس دعوت کا مقصد یہ ہے کہ ان مقدس مساعی کا تحقیقی جائز ہ لیا جائے۔اور انھیں کتاب اللہ اور سنت کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی جائے۔اور ان اختلافات کی تطبیق اور ترجیح کے وقت آئمہ سلف  کی روش کو سامنے رکھا جائے۔مروجہ فقہوں سے اہل حدیث کو جزوی طور پر یقیناً اختلاف ہے۔لیکن آئمہ اجتہاد کے علوم و آثار سے تحقیقی استفادہ تحریک کا اساسی مقصد ہے۔یعنی فقہی جزیئات کا ترک یا اختیار علم و بصیرت کی بنا پر عمل میں آئے۔اس کے باوجود ان مختلف نظریات کو گوارا کرنا اور آئمہ کے علوم کا  احترام اور ان سے استفادہ اس تحریک کی روح ہے۔اس بنیادی اور اجمالی گزارش کے بعد استفسارات کے جواب ملاحظہ فرمایئں۔

1۔مسلک اہل حدیث کی ایسی دعوت ہے۔جس کی بنیاد اصول اور فروع یعنی عقائد اور اعمال میں ظاہر کتاب و سنت اور آئمہ سلف یعنی صحابہ کرام  رضوان اللہ عنہم اجمعین کی روش پر ہے۔جس میں آنحضرت ﷺ کے بعد کسی شخصیت کے نام پر دعوت کی بنیاد نہیں رکھی گئی۔

2۔اصول فقہ میں۔

روضة الناظرا بن قدامه الرساله للامام الشافعي ارشاد الفحول شوكاني حصول المامول للصديق الحسن احكام الاحكام ابن حزم احكام للاموي التوضيح والتلويح تفتا زاني كشف الاسرار شرع اصول بزودي الاحكام في اصول الاحكام لعزبن عبد السلام القواعد لابن رجب القواعد والفوائدالاصوليه لعلي بن عباس البعلي 803 القواعد التورانيه لابن تيميه مواقفات شاطبي وغيره

احناف کی کتابوں میں اصول کی حیثیت سے بیان ہوئے ہیں۔جیسے مسلم الثبوت وغیرہ۔

متاخرین حنفیہ ملا جیون شاشی وغیرہ کی تصانیف محققانہ نہیں کاتب چلپی حنفی نےکشف الظنون میں فرمایا۔سب سے پہلے اصول فقہ پر معتزلہ اور اہل حدیث نے لکھا۔ لیکن ان کی کتابوں پر اعتماد  نہیں کرنا چاہیے۔اس لئے معتزلہ عقائد میں ہمارے مخالف ہیں۔اور اہل حدیث فروع میں۔

اصول فقہ میں اختلاف خاص نوعیت کا ہے۔فن کے ماہر اس سے غلطی نہیں کھا سکتے۔اس کے علاوہ بھی اہل حدیث نے اصول فقہ میں کافی ذخیرہ جمع فرمایا ہے۔ہر حق پسند آدمی کو اس میں دقت محسوس ہوتی ہے۔اس لیے کہ امام صاحب اور امام یوسف کے تلامذہ عام طور پر اعتزال کا شکار ہوگئے۔قاضی عیسیٰ بن ابان بشر مریسی۔سرخسی۔کرخی۔کم و بیش معتزلہ سے متاثر ہیں۔جو لوگ اعتزال سے متاثر نہیں۔ان کی روش  اصول میں چنداں غلط نہیں۔اس موضوع میں تفصیلاً لکھنا وقت چاہتا ہے۔نیز یہ مسئلہ تدریسی ہے اخباری نہیں۔

2۔3۔سے اس کا جواب کافی حد تک سمجھاجاسکتا ہے۔اس کا مقصد پہلے جواب میں آچکا ہے۔

4۔مجتہدین میں کوئی بٹوارہ نہیں۔مذاہب اربعہ کے مجتہدین اہل حدیث کے بھی امام اور مجتہد ہیں۔آئمہ حدیث بخاری مسلم ۔ابو دائو۔ترمذی۔ابن خذیمہ۔ابن جریر طبری۔ابو عبد الرحمٰن۔اوزاعی۔ابو یوسف محمد۔یہ سب اہل حدیث کے مجتہد ہیں۔البتہ حق کسی میں محصور نہیں۔نہ کسی کو مقام نبوت ملا ہے۔نہ مقام عصمت حاصل ہے۔عظیم وسیع علم کے باجود غلطی ممکن بھی ہے۔اور واقعہ بھی اس لئے کسی کے تمام اجتہادات واجب القبول نہیں ہوسکتے ۔اور نہ واجب الاتباع ۔

5۔مجتہدین کی تقسیم کوئی شرعی مسئلہ نہیں ۔فوق كل ذي عليم کے مطابق اصطلاحی الفاظ وضع کر لیے گئے ہیں۔تقلید کی حفاظت کے لئے یہ اغلال سلاسل بنائے گئے ہیں۔تاکہ ان کے محققانہ اختلافات کو ترک تقلید کا نام دیا جاسکے۔ورنہ یہ سب استاتذہ اور  تلامذہ دلائل کی بناء پر باہم اختلاف فرماتے تھے۔اور ایک دوسرے کی تقلید سے بے نیاز تھے۔

6۔مفتی کے لئے ضروری ہے۔وہ کم از کم آیات احکام۔۔۔اور احادیث احکام کوجانتا ہو۔مذاہب علماء پر اس کی نظر ہو۔عربیت سے آشنا ہو۔اصول فقہ اصول حدیث پر اسکی فی الجملہ نظر اور اس کے ساتھ باعمل اور متقی ہو اجتہاد ضروری نہیں۔

7۔مجتہدین کی مردم شماری نہ پہلے کبھی ہوئی نہ اب اس کی ضرورت علمی فیوض و تدریس و تذکیر سے خود بخود مقام متعین ہوجاتاہے۔مسلمہ مجتہدین کو ان کی زندگی میں ان کے اقرا ن بڑے نہیں سمجھتے تھے۔ جس قدر مقام اب ان کو حاصل ہے۔اہل حدیث علماء کا بھی یہی حال ہے۔مولانا سید نزیر حسین ۔مولانا شمس الحق۔ مولانا شرف الحق ڈیونوی۔مولانا حافظ عبد اللہ غازی پوری مولانا عبد العزیز رحیم آبادی۔مولانا حافظ محمد لکھنوی۔مولانا حافظ  عبد المنان صاحب وزیر آبادی۔مولانا عبد الجبار صاحب غزنوی کو شاید آنے والے لوگ امام سمجھیں۔اور مجتہد ماننے لگیں میں اس معاملہ میں قطعاً مردم شماری یا مجتہد شماری کی ضرورت  نہیں سمجھتا۔

الا نا ء يترشح وتفوح بما فيه

 آپ قانون کے طالب علم ہیں۔مجتہد شماری  سے پہلے اس اصطلاح کے مفہوم پر غور فرمایئں۔مجتہد کو اصطلاحاً جن علوم کا مکلف قرار دیا  گیا ہے۔اس لہاظ سے تو صحابہ کرام  رضوان اللہ عنہم اجمعین میں کوئی مجتہد معلوم نہیں ہوتا۔بلکہ تابعین  میں سے بھی کسی کو مجتہد کہنا مشکل ہے۔حتیٰ کہ مسلمہ آئمہ اجتہاد ان مصطلح راہوں سے مقام اجتہاد پر فائز نہیں ہوئے۔عجیب یہ  ہے کہ یہ اصطلاحی پابندیاں آئمہ اجتہاد پر وہ حضرات عائد فرما رہے ہیں۔جو خود مجتہد نہیں۔آپ ﷺ نے سچ فرمایا!

ان من اشراط الساعة ان تلد الامة ربها

ارباب تقلید آئمہ اجتہاد کے لئے اجتہاد کی راہیں تجویز فرماتے ہیں۔پھر یکم محرم سن401 ہجری سے اجتہاد کو کلیتاً بند فرماتے ہیں۔حالاکہ علوم اجتہاد اب بھی موجود ہیں۔رسالہ حمید یہ صفحہ 328

ولكن من عصر اربععمائمة من الهجرة النبوية علي صاحبها ازكي الصلواة والسلام قال العلماء الاعلام كما ينقل عن علماء الحنفية ان باب الاجتهاد قد انسد من ذالك التاريخ

علماء حنفیہ نے فرمایا کہ چوتھی صدی کے ختم ہوتے ہی اجتہاد کا دروازہ مقفل ہوگیا۔ ہم جب مجتہد کی تقلید کی تقلید ہی پسند نہیں کرتے۔ہم مجتہد شماری کی سردردی  کیوں اختیار کریں۔ہمیں قرون خیر کا ایک غریب مسلمان تصور فرمایئے۔جو اپنے وقت کے علماء سے بلا تعین شخص مسائل دریافت کرتا ہے۔اور اپنے فہم اور بساط کے مطابق ان پرعمل کرتاہے۔وہ تقلید کوواجب سمجھے نہ مجتہد کی تلاش میں نکلے۔

8۔مروجہ مذاہب کی فقہ ہماری ہیں۔ہم بلا تخصیص وقت کے تقاضوں اور اپنے فہم کے مطابق قرآن وسنت کی رہنمائی میں ان  پر عمل کرتے ہیں۔انسے مسائل انتخاب کرتے ہیں۔ایک فقہ کا تعین اصل مرض ہے۔جس نے تقلید کی بندشوں کو مظبوط کیا اور فکر و نظرفہم و شعور کے دروازوں کو مقفل کیا۔زاد المعاد۔نیل الاوطار۔فتح الربانی۔وغیرہ کی کتابیں اسی فقہی نہج پر لکھی گئی ہیں۔لیکن تقلید نہ ہونے کی وجہ سے وہ مروجہ فقہوں کا مقام حاصل نہیں کر سکیں۔نہ ہی حاصل ہونا چاہیے۔علماء کو اپنے علم کے مطابق  تحقیق کرنا چاہیے۔عوام کو بلا تخصیص علماء کی طرف رجو ع کرناچاہیے۔جس طرح قرون خیر میں لوگ کرتے تھے۔شاہ ولی اللہ صاحب نے یہ تذکرہ اس طرح فرمایا ہے۔

وبعد لقرنين حدث فيهم شئ من التخريج غير ان اهل المائةالرابعة لم يكونو امجتمعين علي التقليد علي  مذهب الفقه لهوالحكاية لقوله كما يظهر من التبع بل كان فيهم العلماء والعامة وكان من خبر العامة انهم كانو في المسائل الاجما عية اللتي لا اختلاف فيها بين المسلمين او جمهور المجتهدين لا يقلدون الا صاحب الشرع و كانو ا يتعلمون صفة الوضوء والغسل والصلوات والزكواة من ابائهم ومعلمهم فيمشون حسب ذالك واذا وقعت لهم واقعة استفتوا فيها اي مضت وجدوا من غير تعيين  مذهب وكان من خبر الخاصة انه كان اهل الحديث منهم يشتغلون بالحديث يتخلص اليهم من احاديث النبي صلي الله عليه وسلم واثار الصحابةما لا يتحاجون معه الي شئ اخر الخ

(حجۃ البالغہ ج1 ص 122)

دوسری صدی کے بعد تخریج کاسلسلہ شروع ہوگیا تھا لیکن چوتھی صدی تک لوگ تقلید پر جمع نہیں ہوئے تھے اور نہ ہی ایک مذہب کی تقلید اور اس پر تفقہ کا خیال اورچرچا ہوا تھا اسوقت علماء بھی تھے اوعوام بھی عوام کا یہ حال تھاکہ اتفاقی مسائل اپنے بزرگوں اور اپنے شہر کے علماء سے دریافت کرتے اور صرف آپ ﷺ کا اتباع فرماتے۔جیسے وضو نماز ذکواۃ کے متفقہ مسائل اور جب کوئی خاص حادثہ ہوجاتاہے۔تو بلا تعین کسی مفتی سے دریافت فرما لیتے خواص کا یہ حال تھا۔یعنی وہ اہل حدیث کو حدیث میں غور وفکر کے بعد ایسی احادیث اور آثار انکو مل جاتے۔جس کی وجہ سے کسی دوسری چیز کی انہیں ضرورت ہی نہ رہتی۔یہ صحیح اسلام کی صورت ہی محسوس نہیں ہوتی موجودہ فقہوں پر بلاتعین عمل کیاجائے ۔لوگوں کوایک مذہب کی پابندی  پرخوامخواہ میں تنگ نہ کیا جائے۔ تو مسلک اہل حدیث کا مقصد حاصل ہوجاتاہے۔اسی نہج پر حافظ ابن قیم ؒسن 751 کا ارشاد ملاحظہ فرمایئں۔

فانا نعلم بالضرورةانهلميكن فيعصر الصحابة رجل واحد اتخذ رجلا منهم يقلد في جميع اقواله فلميسقط منها شيئا واسقط اقوال غيره فلم ياخذ منها شيئا وتعلم بالضرورة ان لهذالم يكن في التابعين ولا تابعي التابعين فكذبنا المقلدن برجل واحد سلك لسبيلهم الوحيمة في القران الفضيلةعلي لساني رسول الله صلي الله عليه وسلم وانما حدث هذه البدعةفي القران الرابع علي لسانه صلي الله عليه وسلم ص222

ہم یقین جانتے ہیں کہ ایک آدمی بھی اس وقت اس طرح کا مقلد نہیں تھا۔جو ایک ہی شخص کے تمام مسائل کو قبول کرے۔اور باقی علماء کے فتووں کو رد کر دے۔اورہمیں یقیناً معلوم ہے کہ تابعین اور تبع تابعین کے زمانہ کا بھی یہی حال تھا۔ ایک ایسےآدمی کا پتہ دے۔کہ حضرات مقلدین ہماری تکذیب کریں۔جواسی ناہموار راہ پرچل رہا ہو۔یہ بدعت چوتھی صدی کی پیداوار ہے۔جس کی آپ ﷺ نے مذمت فرمائی ہے۔

ان گزارشات سے آپ  پوری طر ح سوچ لیں۔کہ مجتہدین کی تقسیم اصول فقہ کی تقسیم کاتصور کہاں سے پیدا ہوا۔یہ صرف تارعنکبوت کا ایک حصار ہے۔جوتقلید شخصی کی کمزور عمارت کو بچانے کےلئے بنایا گیا۔جس سے آپ جیسا قانون کا طالب بھی متاثر ہونے سے نہیں بچ سکا۔مجھے تعجب ہے کہ آپ کا زہن اس سوال کی طرف منتقل کیونکر ہوا۔

9۔اس کاجواب تقریباً 8 میں ہوچکاہے۔واقعی اگران مخصوص فقہوں کی طرح فقہ اہل حدیث کی پابندی واجب قرار دی جاتی تو یہ بھی تقلید ہی ہوتی۔

10۔میں نے عرض کیا ہے کہ سابقہ سارے فقہ قابل عمل ہیں۔ظروف و احوال کے لہاظ سے اہل علم ان سب پر بلا تخصیص عمل کریں گے۔فرعی اختلافات کو گواراکرنے کی عادت ڈالیں گے۔اس سے قرون خیر کی وحدت قائم ہوگی۔نزع تقلید کی پیداوارہے۔جس کی وجہ سے تنگ نظری ہم پر محیط ہوچکی ہے۔بیماری کا نام صحت سمجھ لیا گیا ہے۔آپ اس  جامد اختلا ف کا نام یکجہتی فرماتے ہیں۔عجیب ہے۔

جب چاروں مذاہب حق پر ہیں۔اوردنیا میں موجود ہیں۔تویک جہتی جناب  نے کہاں سےسمجھی۔ بلکہ چار جہتی کو توسمجھ کر گوارا کیا گیا۔اگر اس میں مسلک اہل حدیث کو بھی اس طرح گوارا کر لیاجائے۔ تو یہ مصطلح یک جہتی  بھی قائم رہے گی۔زرا اس میں وسعت ہو جائے گی۔کاش کے حضرات علماء کرام اس کو گواراکریں۔پہلی بیماری مروج تقلید ہے۔دوسری بیماری نہ گوارا کرنے کی عادت غرض اس  وجوب اور  پابندی کو آپ ختم کردیں۔ساری دقتیں دور  ہو جایئں گی۔بعض نظریاتی دقتیں عمل سے خود با خود درست ہوچکاہے۔بلکہ اس صدی کے سفر میں بہت کچھ درست ہوچکاہے۔اختلاف رائے کوگوارا فرمایئے۔تفرقہ خود بہ خود ختم ہو جائےگا۔ اختلاف ہرتفرقہ میں لطف تفسیری تھیں۔بلکہ فقہی اختلاف رہنا چاہیے۔اور تفرقہ کے لئے کوئی گنجائش نہیں۔

11۔اجتہاد کسی عالم کا ہو اسے کتاب وسنت پرپیش  کرنا چاہیے۔اگرکتاب و سنت میں صراحت موجود نہ ہو عام کو کسی کے اجتہاد کا پابند نہ کیجئے۔جس پر حسب مصالح حل کرے۔اس  پرکوئی ملامت اور ضیق نہ ہونی چاہیے۔

بحرحال علماء کی طرف رجوع کریں گے۔ انہیں عادت ڈالنی ہے کہ مشہور مجتہدین یا متعارف فقہوں کی بجائے شریعت کتاب وسنت کے نام سے مسائل دریافت کریں۔اورعلماء اپنی صوابدید کے مطابق جواب دیں۔اگر  مقلد قرآن وسنت  کے خلاف مسائل چھوڑنے پر آمادہ ہوجائے تو یہ تقلید جہل برداشت اور مناسب ترین صورت ہے ۔میاں صاحب۔حافظ ابن قیم نے اسے گوارافرمایا ہے۔تجربہ کی بناء پرضروری استفتا مخصوص فقہوں  کی بجائے شریعت کی بنا پر کرنی چاہیے۔میاں صاحب نے معیار کے اس مقام میں یہ شرع فرمادی تھی۔

12۔ابن حزم قیاس کے بالکل منکر ہیں۔اہل حدیث کومانتے ہیں۔نظائر کے حکم میں مساوات کومانتے ہیں۔لیکن اگر قیاس کہیں قرآن وسنت کے متصادم ہو تو  اہل حدیث  نصوص کو مقدم سمجھتے ہیں۔ مدۃ رضاع کے نزدیک 2 سال چھ ماہ اور خمر کا سرکہ  بنانا نصوص کے خلاف ہے۔اس میں نصوص مقدم ہوں گی۔

13۔اسکا جواب نمبر 12 میں آچکا ہے۔قیاس نصوص تابع ہو تو قابل قبول ہے اس لئے ہر پیش آمدہ مسئلہ کا تعلق کسی نئے اعلان کی ضرورت نہیں۔

14۔سابقہ گزارشات کے بعد یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔فرضی شقیں جناب کی قانون دانی کی مرہون ہیں۔کوشش تو یہی ہے کہ آئمہ کرام کے جو اقوال اختیار کیے۔حضرت آئمہ کے ارشاد کے مطابق ان کے نظر ہو۔اس کے  باوجودقصور نظر کا اعتراف ہے غلطی بھی ہوسکتی ہے۔ ممکن ہے مآخذنہ ملے تو کوئی اورراہ اختیار کرنا پڑے۔

من ذالذي ما جاء قط ومن لها لحسني فقط

قلت فرصت کے باوجود انتہائی اختصار سے بھی جوابی گزارشات آپ کے حسب الحکم الاعتصام میں بھیج رہا ہوں۔اُمید ہے بعد ملاحظہ اپنی رائے سےمطلع فرمایئں گے۔یہ ملحوظ رہے کہ مناظرانہ انداز سے ان مباحث کوطول نہیں دینا چاہتا۔نہ ہی اتنی فرصت ہے ۔ورنہ آپ جانتے ہیں۔ان مباحث میں کوئی بھی چیز حرف آخر نہیں سمجھی جاسکتی۔اور مزید درمزید بسط اسی طرح ہوسکتا ہے۔اعلام الموقعین مترجم مل جائے تو ملاحظہ  فرمالیں۔اگرعربی زبان پرعبور ہو تو اعلام ابن عبد البر کی کتاب جامع بیان العلم و فضلہ احکام ابن حزم وغیرہ کتب ملاحظہ فرمایئں۔والسلام۔

(محمد اسماعیل گوجرانوالہ)

(اخبار الاعتصام 3 جون 1973ء)


 

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 12 ص 112-120

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ