سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(157) مال زکوٰۃ کس طرح دینی چاہیے ۔

  • 3468
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-04
  • مشاہدات : 466

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 یہاں اور بعض دوسرے شہروں میں بھی بعض بعض سیٹھ مال زکوٰۃ کو ہفتہ وار غرباء اور مساکین اور عام سائلین کو ایک ایک دو دو پیسے یا ایک ایک دو دو دمڑی کر کے دیتے ہیں، علی العموم اس خیرات کا دن جمعہ کا دن ہوتا ہے، سینکڑوں ہزاروں کی تعداد میں علی اختلاف البلاد والاحوال سائلین جمع ہوتے ہیں، اور یہ خیرات وصول کرتے ہیں، ۲ بجے دن سے شام تک چکر لگانے پر آنے دو آنے چار آنے پاتے ہیں، زید کہتا ہے کہ زکوٰۃ کا مال اس طرح تقسیم کرنا نہیں چاہیے، کیونکہ اس طرح سال میں لاکھوں روپے خرچ ہو جاتے ہیں، مگر اس سے نہ کسی ضرورت مند کی حاجت پوری ہوتی ہے، اور نہ اس سے مسلمانوں کو قومی یا اقتصادی فائدہ ہوتا ہے، مال زکوٰۃ کی یہ تقسیم منشاء اسلام کے خلاف ہے، لہٰذا اس طریقہ کو بند کر کے غرباء و مساکین اور جملہ مستحقین کو سال میں ایک دفعہ یا دو دفعہ یک یک مشت رقم دینی چاہیے، تاکہ یہ مال صحیح مصرف میں آئے، اور لوگوں کی قومی اور اقتصادی حالت درست ہو سکے، ہاں جو لوگ مروجہ طریقہ پر خیرات کرنا چاہیں،ا نہیں چاہیے کہ اپنے ذاتی مال سے اس طرح خیرات کریں، مگر مال زکوٰۃ اس طرح خرچ نہ کریں، اب سوال یہ ہے کہ آیا اس طرح مال زکوٰۃ خرچ کرنا یعنی ہفتہ وار دمڑی پیسہ دینا جائز ہے یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیلکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بہ نیت نیک جائز ہے، کیوں کہ ادائے زکوٰۃ کا حکم عام ہے، اس میں کسی قسم کی تنقید کرنے کی ضرورت نہیں۔ (اہل حدیث امر تسری ۱۴ اپریل: ۱۹۳۹ئ)
شرفیہ:… یہ صحیح ہے، مگر طریق وہ بہتر ہے، جو عہد نبوی اور عہد خلفاء راشدین وغیرہ صحابہ تابعین سے ثابت ہے، لہٰذا وہ وہی افضل ہے، جو عہد نبوی و صحابہ میں تھا۔ (ابو سعید شرف الدین دہلوی) (فتاویٰ ثنائیہ جلد اول ص ۴۴۱)

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 7 ص 269۔270

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ