سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(148) سادات مساکین کی خدمت گذاری مال زکوٰۃ سے جائز ہے ۔

  • 3459
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-04
  • مشاہدات : 404

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
 سادات مساکین کی خدمت گذاری کی مسلمانوں کو توفیق نہ ہوبجز زکوٰۃ سے امداد کرنے کے اور سادات کے لیے وسیلہ معاش موجود نہ ہو وہ اس بنا پر کہ خمس غنیمت ہمیں نہیں ملتا زکوٰۃ لینے کی ممانعت بنا مذکور تھی، ہمیں زکوٰۃ لینی جائز ہے، اور انہیں حق خیال کر کے زکوٰۃ دی جائے، تو جائز ہے، یا نہیں؟ اور زکوٰۃ ادا ہو گی یا نہیں، اگر ادا نہ ہوئی تو واپسی لازم ہے یا نہیں، اگر واپسی کا مقدور نہ ہو تو کیا کیا جائے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 سادات مساکین کی خدمت گذاری کی مسلمانوں کو توفیق نہ ہوبجز زکوٰۃ سے امداد کرنے کے اور سادات کے لیے وسیلہ معاش موجود نہ ہو وہ اس بنا پر کہ خمس غنیمت ہمیں نہیں ملتا زکوٰۃ لینے کی ممانعت بنا مذکور تھی، ہمیں زکوٰۃ لینی جائز ہے، اور انہیں حق خیال کر کے زکوٰۃ دی جائے، تو جائز ہے، یا نہیں؟ اور زکوٰۃ ادا ہو گی یا نہیں، اگر ادا نہ ہوئی تو واپسی لازم ہے یا نہیں، اگر واپسی کا مقدور نہ ہو تو کیا کیا جائے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیلکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

واضح ہو کہ سادات بنی ہاشم کو زکوٰہ لینا ہمیشہ اور ہر زمانہ میں حرام ہے، احادیث صریحہ صحیحہ سے ثابت ہے، اکثر ائمہ دین کا مذہب ہے، عند الحنفیہ بھی یہ مفتی بہ ہے، اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے ایک روایت آئی ہے کہ اس زمانہ میں سادات بنی ہاشم کو زکوٰۃ لینا جائز ہے، اور ایک روایت یہ بھی آئی ہے ، کہ بنی ہاشم کو بنی ہاشم سے زکوٰۃ لینا جائز ہے، اور غیر بنی ہاشم سے جائز نہیں، مگر یہ دونوں روایتیں عند الحنفیہ نامعتبر و غیر مفتی بہٖ ہیں، کیونکہ احادیث صحیحہ و نیز ظاہر المذہب اور ظاہر الروایت کے خلاف ہیں، دیکھو بحر الرائق ونہر الفائق و رسائل الارکان وغیرہ کتب معتبر حنفیہ، رہا سادات کا خیال کہ ’’ہمیں زکوٰۃ لینے کی ممانعت اس بنا پر تھی، کہ ہمیں خمس مال غنیمت سے ملتا تھا، اور اب خمس نہیں ملتا ہے، تو اب ہمیں زکوٰۃ لینی جائز ہے۔‘‘ سو یہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ سادات بنی ہامش پر زکوٰۃ حرام وہنے کی علت یہ نہیں ہے کہ انہیں غنیمت سے خمس ملتا تھا، بلکہ اس کی علت جو احادیث سے بصراحت ثابت ہے، وہ یہ ہے کہ مال زکوٰۃ  ادساخ الناس وغسالۃ الایدی ہے،
((قال رسول اللّٰہ ﷺ ان الصدقة لا ینبغی لال محمد انما هی ادساخ الناس رواہ مسلم وقال لا یحل لکم اهل البیت لمن الصدقات شیء انماهی غسالة الایدی وان لکم فی اخمس الخمس ما یغلیکم رواہ الطبرانی))
اور یہ علت مصرحہ و منصوصہ زکوۃ کی لازم الماہیۃ ہے، جب اور جس وقت زکوٰۃ پائی گئی، اس کا ادساخ الناس اور غسالۃ الایدی ہونا ضروری اور لازم ہو گا، بناء علیہ سادات بنی ہاشم پر ہمیشہ اور ہر زمانہ میں زکوٰۃ کی حرمت درست ثابت ہو گی، اور اگر سادات پر زکوٰۃ کی حرمت کی علت تقرر خمس الخمس ہونا تسلیم کر لیا جائے، جیسا کہ بعض لوگوں نے خیال کیا ہے، تو اس تقدیر پر حمت کی دو مستقل علت ہوں گی، ایک زکوٰۃ کا ادساخ الناس و غسالۃ الایدی ہونا، اور دوسری تقرر خمس الخمس اور صرف ایک علت کے ارتفاع سے معلول کا ارتفاع نہیں ہو گا، بلکہ جب تک ایک علت (ادساخ الناس) و غسالۃ الایدی ہونا) پائی جائے گی، تب تک معلول (سادات بنی ہاشم پر زکوٰۃ کا حرام ہونا) ضرور پایا جائے گا، اور یہ ایک علت ہر زمانہ میں پائی جائے گی، پس بنی ہاشم پر زکوٰۃ کی حرمت بھی ہمیشہ اور ہر زمانہ میں پائی جائے گی، علامہ محمد بن اسماعیل سبل السلام میں لکھتے ہیں:
((انه ﷺ کرم آله عن ان یکونوا محلاً للغسالة وشرفہم عنہا وہذہٖ هی العلة المنصوصه وقد ورد التعلیل عند ابی نعلیم مرفوعاً بان لہم فی خمس الخمس ما یکفیہم ویغنیہم فہما علتان منصوصتان ولا یلزم من منعہم عن الخمس ان تحل لہم فان من منع الانسان عن ماله وحقه لا یکون مغوله محللا ما حرم علیه وقت بسطنا القول فی رسالة مستقلة انتھیٰ))
پس جب معلوم ہوا کہ سادات بنی ہاشم پر زکوٰۃ حرام ہے، اور وہ زکوٰۃ کے مصرف نہیں ہیں تو زکوٰۃ انہیں دینا جائز نہیں، اگر انہیں کوئی دانستہ دے گا، تو زکوٰۃ ادا ہو گی، اور واپس لے لینا ضروری ہو گا ہے، اور اگر واپسی ممکن ہو تو پھر یہ زکوٰۃ دینا ضروری ہے، اور لا علمی کی وجہ سے دیا ہے، تو زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔ واللہ تعالیٰ اعلم وعلمه اتم۔
(کتبہٗ محمد عبد الرحمان المبارکفوری عفا ء اللہ عنہ) (سید محمد نذیر حسین) (فتاویٰ نذیریہ ص ۴۸۹ جلد نمبر ۱)‘

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 7 ص 253۔255

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ

ABC