سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(145) زکوٰۃ کا مال تبلیغ اسلام پر خرچ ہو سکتا ہے۔

  • 3456
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-04
  • مشاہدات : 454

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 کیا زکوٰۃ کا مال تبلیغ اسلام پر خرچ ہو سکتا ہے؟

حضرت حافظ صاحب مدظلہ العالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ حسب ذیل سوالات کا مفصل جواب مطلوب ہے۔
نمبر۱: آج کل اشاعت اسلام کا ایک طریقہ تبلیغی جلسے بھی ہیں، ان میں دیگر انتظامات کے علاوہ جو علمائے کرام مدعو ہوتے ہیں، ان کو سفر خرچ وغیرہ بھی دیا جاتا ہے۔
نمبر۲: اسلامی مدارس میں خرید کتب و دیگر سامان
نمبر۳: دینی تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کی امداد بذریعہ کتب و خوراک وغیرہ۔
نمبر۴: جو انجمن مدارس دینیہ کے ذریعے اسلامی تعلیم و تبلیغ کا انتظام کرتی ہو۔
کیا ان مقامات پر زکوٰۃ صرف ہو سکتی ہے، قرآن مجید میں مصارف زکوٰۃکے بیان میں فی سبیل اللہ کا لفظ آیا ہے، کیا مذکورہ بالا شقیں اس میں شامل ہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیلکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم ط:  بعض کہتے ہیں ’’فی سبیل اللہ‘‘ کا لفظ عام ہے، کوئی کار خیر ہو اس میں خرچ کر سکتے ہیں، تفسیر فتح البیان جلد ۴ ص ۴۲۴ میں ہے:
((وقیل ان اللفظ عام فلا یجوز قصرہ علی نوع خاص ویدخل فیه جمیع وجوہ الخبر من تکفین الموتیٰ وبناء الجسود والحصون وعمارة المساجد وغیر ذالک والاول۔ ولی لا جماع الجمہور علیه))
’’یعنی کہا گیا ہے کہ فی سبیل اللہ کا لفظ عام ہے، اس کو ایک قسم پر بند کرنا جائز نہیں، اور اس میں تمام کار خیر داخل ہیں، جیسے مردوں کو کفن دینا، پل بنانا، قلعے اور مسجدیں تعمیر کرنا وغیرہ اور پہلی صورت (جہاد مع حج مراد ہونا بہتر ہے) کیوں کہ اس پر جمہور کا اجماع ہے۔‘‘
تفسیر خازن جلد ۲ ص ۲۵۴ میں ہے:
((وقال بعضھم ان اللفظ عام فلا یجوز قصرہ علی الغزاة فقط ولھٰذا اجاز بعض الفقہاء صرف سھم سبیل اللّٰہ الیٰ جمیع وجوہ الخیر من تکفین الموتی وبناء الجسور والحصون وعمارة المساجد وغیرہ ذالک قان لان قوله وفی سبیل اللّٰہ عام فی الکل فلا یختص بصنف دون غیرہ والقول الاول ھو الصحیح لا جماع الجمور علیه))
’’یعنی بعض نے کہا ہے کہ لفظ عام ہے، پس اس کو نمازیوں پر بند کرنا جائز نہیں، اس لیے بعض فقہاء نے سبیل اللہ کا حصہ ہر کار خیر میں صرف کرنا جائز قرار دیا ہے، مثلاً مردوں کو کفن دینا، پل بنانا، قلعے اور مسجدیں تعمیر کرنا وغیرہ۔ انہوں نے یعنی بعض فقہاء (نے) کہا ہے کہ فی سبیل اللہ کا لفظ عام ہے، ایک قسم کے ساتھ بند نہیں ہو گا، اور پہلا قول صحیح ہے، کیونکہ اس پر جمہور کا اجماع ہے۔‘‘
تفسیر کبیر جلد ۴ ص ۴۶۴ میں ہے:
((واعلم ان ظاھر اللفظ فی قوله وفی سبیل اللّٰہ لا یوجب القصر علی کل الغزاة فلھذا المعنی نقل القفال فی تفسیرہ عن بعض الفقہاء وانھم اجازوا صرف الصدقات الی جمیع وجوہ الخیر من تکفین الموتیٰ وبناء الحصون ومارة المساجد لان قوله وفی سبیل اللّٰہ عام))
’’یعنی اس بات کو جان لے کہ لفظ فی سبیل اللہ کا ظاہر عام ہے، غازیوں پر بند کرنے والوں کو واجب نہیں کرتا، اسی وجہ سے قفال نے اپنی تفسیر میں بعض فقہاء سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے تمام امور خیر میں صدقات کا صرف کرنا جائز رکھا ہے، جیسے مردوںکو کفنانا، قلعے اور مسجدیں تعمیر کرنا۔‘‘
ان عبارتوں سے معلوم ہوا کہ لفظ فی سبیل اللہ عام ہے، اور یہ معلوم ہوا کہ بعض فقہاء اس طرف گئے ہیں، اگر اس پر کوئی عمل کرے، تو اس پر اعتراض تو نہیں ہو سکتا، مگر چونکہ زکوٰۃ فرضی صدقہ ہے، اس کو ایسی طرز پر ادا نہیں کرنا چاہیے، کہ جس میں تردد ہے۔
دیکھئے نماز میں جب شک ہو جاتا ہے کہ ایک رکعت پڑھی ہے یا دو تو حکم ہے کہ ایک اور رکعت پڑھے، تاکہ شک نکل جائے، پس زکوٰۃ بھی قرآن میں نماز کے ساتھ ذکر ہوئی ہے، اس لیے اس میں احتیاط ہونی چاہیے، پس بہتر ہے کہ فی سبیل اللہ سے مراد جہاد لیا جائے، یا حج عمرہ کیونکہ جہاد تو بالاتفاق مراد ہے، اور حج عمرہ حدیث نے داخل کر دیا۔ باقی کے داخل ہونے میں شبہ ہے، لفظ اگرچہ عام ہے، مگر جیسا عام ہے، ویسا رکھا جائے، توپھر فقراء و مساکین وغیرہ کے ذکر کی ضرورت نہیں رہتی، حالانکہ اس آیت میں فقراء و مساکین وغیرہ کا الگ ذکر کیا ہے، اس لیے ظاہر یہی ہے کہ اس سے مراد خاص ہے، اور خاص بغیر دلیل کے مراد نہیں ہو سکتا، اور دلیل تو آیت ہے، یا اتفاق مفسرین ہے، جیسا کہ جہاد کے مراد ہونے پر اتفاق ہے، یا حدیث اور تفسیر صحابہ رضی اللہ عنہم ہے، جیس حج عمرہ مراد ہونے پر ہے، باقی کی بابت کوئی دلیل نہیں، اور جہا دجیسا تلوار سے ہوتا ہے، ویسا ہی زبان سے بھی ہوتا ہے، حدیث میں ہے:
((فمن جاھدھم بیدہ فھو مومن ومن جاھدھم بلسانه فھو مومن ومن جاہدھم بقلبه فھو بمومن ولیس وراء ذلک حبة خردل من الایمان رواہ مسلم)) (مشکوٰة ص ۲۹)
’’یعنی جو ہاتھ سے ان کے ساتھ جہاد کرے وہ مومن ہے، اور جو زبان سے ان کے ساتھ جہاد کرے وہ مومن ہے، اور جو دل سے ان کے ساتھ جہاد کرے وہ مومن ہے، اور اس کے ورے رائی برابر بھی ایمان نہیں۔‘‘
پس اس مناظرے اور اشاعت اسلام پر خرچ کرنا داخل ہو گیا، لیکن اس میں تھوڑی سی تفصیل ہے، اور وہ یہ کہ ایسی اشیاء پر صرف نہ کرے جو وقف ہو جیسے مدرسے کی عمارت خرید کتب وغیرہ چونکہ اس سے پھر وہی صورت پیدا ہو جائے گی، جس میں اختلاف ہے، جیسے مسجدوں اور قلعوں کی تعمیر کرنا حالانکہ قلعے دشمن سے جنگ کرنے کے لیے اور اس سے حفاظت کرنے کے لیے بنائے جاتے ہیں، اور مسجدیں نماز اور تعلیم و تعلم کے لیے خاص ہوتی ہے، خاص کر قرآن و حدیث کا پڑھنا پڑھانا عین اشاعت اسلام ہے، مگر پھر بھی جمہور اور مفسرین اس کے خلاف ہیں، اس لیے زکوٰ کا مال مدارس کی بنا پر اور خرید کتب وغیرہ پر صرف ہونے میں ذرا شبہ ہے، اس میں احتیاط چاہیے۔ ہاں زکوٰۃ کی مد سے طلباء کی خوراک کا انتظام ہو، یا ویسے ہی ان کی امداد کی جائے، وہ ا سے کتب خریدیں یا کسی اور ضرورت میں خرچ کریں، تو بہت اچھا ہے،اسی طرح مدرسین کی تنخواہیں اور مناظرین اور مبلغین کا سفر کرایہ اور دیگر ضروری اخراجات جیسے لاؤڈ سپیکر کا کرایہ، اور مبلغین کا سفر خرچ اور زائد خدمت زکوٰۃ سے ادا ہو سکتے ہیں۔
سائبانوں کا کرایہ اور جلسہ گاہ کے دیگر اخراجات زکوٰہ سے ادا نہیں ہو سکتے، کیونکہ یہ اوقات کے حکم میں ہیں، اس سے غریب اور امیر فائدہ اٹھاتے ہیں، اور لاؤڈ سپیکر کا کرایہ چونکہ مبلغین کی آواز میں شامل ہے، اس بناء پر درحقیقت یہ مبلغ کی آواز ہے، جو وعظ میں شامل ہے، اس کا کرایہ زکوٰۃ سے ہو سکتا ہے، لیکن لاؤ ڈسپیکر زکوٰۃ کی مد سے خرید کر وقف نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس میں عام استعمال کی گنجائش ہے، اور جھنڈیاں وغیرہ بھی ایک زائد خرچ ہے، یہ بھی زکوٰۃ کی مد سے نہ ہونا چاہیے، اور مبلغین کا کھانا زکوٰۃ کی مد سے ہو سکتا ہے، لیکن اگر غنی ہو تو اس کو بچنا بہتر ہے، کیونکہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ اس طرف گئے ہیں، کہ جنگ میں وہی شخص زکوٰۃ لے سکتا ہے، جس کے پاس خرچ نہ ہو،پس جنگ میں غنی کی بابت اختلاف ہوا، تو تعلیم و تعلم کا معاملہ تو ا س سے بہت نازک ہے، کیونکہ فی سبیل اللہ سے اصل مراد تو جنگ ہے، اور حدیث کی تصریح نے حج عمرہ کو بھی اس میں داخل کر دیا ہے۔ اور تعلیم و تعلم مناظرہ وغیرہ کی بابت تصریح نہیں آئی۔ صرف ایک رقم جہاد ہونے کی وجہ سے داخل کیا گیا ہے، اس لیے اس میں احتیاط برتنا چاہیے، اور غنی کو پرہیز رکھنا چاہیے، اس کی تائید اس آیت سے بھی ہوتی ہے:
{اَلْفُقَرَاء الَذَّیْنَ اُحْصَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرَبًا فِی الْاَرْضِ} (الآیة)
اس آیت سے پہلے صدقات کا ذکر ہے، پھر فرمایا: یہ صدقات ان فقیروں کے لیے ہیں، جو اللہ کے راستے میں بند ہیں، زمین میں سفر نہیں کر سکتے، کیوں کہ سفر کرنے سے دین کا کام بند ہو جاتا ہے۔
نوٹ… یہ جتنے اخراجات ہیں، ایک بیت المال کی صورت میں ہونے چاہیں، جو مقامی لوگوں کی قید سے آزاد ہو، کیونکہ اگر زکوٰۃ دینے والے خود ہی ان کاموں میں زکوٰۃ صرف کریں تو ایسا ہو جائے گا، جیسے لوگ خود اپنے بچے پڑھانے کے لیے زکوٰۃ کی مد سے تنخواہ دار معلم رکھ کر بچے پڑھائیں، اگرچہ ان میں غریبوں کے بچے ہی پڑھتے ہوں، یا دوسری جگہ کے بچے آ جاتے ہوں، لیکن اول نمبر مقامی لوگ اٹھاتے ہیں، اس لیے زکوٰۃ کی ادائیگی میں شبہ رہتا ہے، بہتر صورت یہی ہے کہ زکوٰۃ مرکز میں بھیجیں، اور مرکز سب انتظامات کرے۔ (عبد اللہ امر تسری روپڑی) (تنظیم اہل حدیث لاہور ۱۸ اکتوبر ۱۹۶۳ئ۔ جلد نمبر ۱۶ شمارہ نمبر ۱۶)

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 7 ص 247۔151

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ