سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

نماز عیدالاضحیٰ کتنے دن تک پڑھی جا سکتی ہے؟

  • 3429
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-27
  • مشاہدات : 1843

سوال

نماز عیدالاضحیٰ کتنے دن تک پڑھی جا سکتی ہے؟

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
قربانی کے ایام:
عید الاضحی میں قربانی کے ایام چار ہیں، یعنی عید والے دن اور اس کے بعد مزید تین دن تک قربانی کی جا سکتی ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
كلُّ مِنًى منحَرٌ، وكلُّ أيَّامِ التَّشريقِ ذَبْحٌ(السلسلة الصحيحة: 2476)
سارا منی قربان گاہ ہے، اور تمام ایام تشریق ذبح کے ایام ہیں۔
ایام تشریق 11، 12 اور 13 ذوالحج کو کہتے ہیں ۔ (معجم لغة الفقهاء: 97)
نمازعید کا وقت:
عید کی نماز کا وقت سورج طلوع ہونے سے تقریبا 20 منٹ بعد شروع ہوتا ہے اور زوال(سورج کا آسمان میں بالکل درمیان میں آجانا) تک رہتا ہے۔
ایک دفعہ صحابی رسول عبد اللہ بن بسررضی اللہ عنہ لوگوں کے ساتھ عید الفطر یا عید الاضحی کی ادائیگی کے لیے گئے، تو انہوں نے امام کے لیٹ ہونے کو عجیب جانا اور کہا : ہم اس وقت تک نماز سے فارغ ہو چکے ہوتے تھے، اور اس وقت نفلی نماز کا وقت تھا(یعنی سورج طلوع ہونے کے تھوڑا بعد کا وقت تھا)۔ (سننن أبي داود، الصلاة: 1135، سنن ابن ماجه، إقامة الصلوات والسنة فيها:1317) (صحيح)
امام ابن بطال رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
أجمع الفقهاء على أن العيد لا تصلى قبل طلوع الشمس ولا عند طلوعها،وإنما جوزوا عند جواز النافلة. (فتح الباري: 2/457)
تمام فقہاء کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ نمازعید سورج طلوع ہونے سے پہلے اور سورج طلوع ہونے کے وقت ادا نہیں کی جائے گی ۔ انہوں نے نمازعید کا پڑھنا اس وقت جائز قراردیا ہے جب نفلی نماز جائز ہوتی ہے۔
اگر کسی عذر کی بنا پر عید الاضحی کے پہلے دن نمازعید باجماعت نہیں ادا کی جا سکی تو دوسرے دن باجماعت نمازعید ادا کی جا سکتی ہے ، اسی طرح اگردوسرے یا تیسرے دن بھی کوئی عذر(جنگ وغیرہ کے حالات میں) پیدا ہو گیا ہے تو چوتھے دن بھی نمازعید ادا کی جا سکتی ہے۔ جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک قافلہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے گواہی دی کہ ہم نے کل چاند دیکھا ہے یعنی شوال کا چاند نظر آچکا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو حکم دیا:
أن يُفْطِرُوا وإذا أصبَحُوا يَغدُوا إلى مُصَلَّاهُم (سنن أبي داود، الصلاة:1157، سنن النسائي، صلاة العيدين:1556، سنن ابن ماجه، الصيام:1653) (صحيح)

کہ وہ روزہ افطارکرلیں اور کل صبح نماز عید کے لیے عید گاہ آجائیں۔

اگربغیر کسی عذركے نماز عيد نہیں ادا کی گئی تو اس کی قضائی نہیں دی جائے گی بلکہ توبہ استغفار کیا جائے گا، کیوں کہ نمازعید کا وقت متعین ہے، بغیر کسی عذر کے مقررہ وقت سے لیٹ کرنے پر قضائی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

والله أعلم بالصواب

محدث فتویٰ کمیٹی

01. فضیلۃ الشیخ ابومحمد عبدالستار حماد حفظہ اللہ
02. فضیلۃ الشیخ جاوید اقبال سیالکوٹی حفظہ اللہ

تبصرے