سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

پاک و ہند میں اور سعودیہ میں روزوں کا فرق

  • 341
  • تاریخ اشاعت : 2011-12-07
  • مشاہدات : 156

سوال

سوال: اسلام علیکم  ہمارے ایک دوست انڈیا سے سعودی ہے ہیں وہاں انکا چوتھا روزہ تھا یہاں آے تو ٦ چھٹا روزہ چل رہا تھا اب اگر ٢٩ دیں کا مہینہ ہوا تو انکے ٢٨ روزے ہی ہونگے ایسے میں یہ کیا کریں عید کے دیں بھی روزہ رکھیں یا عید کے بعد یا پھر ٢٨ پر ہی رہیں ؟ اور اسی طرح

جواب: ہمارے ایک دوست انڈیا سے سعودی ہے ہیں وہاں انکا چوہتا روزہ تھا یہاں آے تو ٦ چٹان روزہ چل رہا تھا اب اگر ٢٩ دیں کا مہینہ ہوا تو انکے ٢٨ روزے ہی ہونگے ایسے مے یہ کیا کریں عید کے دیں بھی روزہ رکھیں یا عید کے بعد یا پھر ٢٨ پر ہی رہیں ؟ اس صورت میں اپنے ملک والوں کے ساتھ عید کریں اور عید کے بعد اپنے روزے یا ان کی گنتی مکمل کریں۔
اور اسی طرح سے ایک دوست انڈیا گئے ہیں اور وہاں اگر انکو ٣٠ کا مہینہ ملے تو انکے ٣١ روزے ہونگے اب یہ کیا کریں ؟
قرآن اور حدیث کی روشنی مے جواب دیں
اس صورت میں ۳۱ واں روزہ رکھنے کا انہیں اختیار ہے، اگر رکھیں گے تو نفل روزہ ہو گا اور نہ رکھیں گے تو کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ انہوں نے تیس کی گنتی پوری کر لی ہے لیکن نہ رکھنے کی صورت میں بھی عامۃ الناس کے سامنے کھانے پینے سے رکے رہیں۔
شیخ صالح المنجد اس بارے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
سوال ؛ وہ مسلمان جوکہ رمضان میں ایک ملک سےدوسرے ملک میں جائےجہاں پرروزوں کی ابتداءمیں اختلاف ہوتووہ کیا کرے ؟
الحمد للہ :
جب انسان کسی ملک میں وہاں کےباشندوں کودیکھےکہ انہوں نےروزوں کی ابتدا کردی ہےتواس پر بھی ان کےساتھ روزے رکھناواجب ہےکیونکہ اس کاحکم وہاں کےرہائشی لوگوں کاہوگااس لئےکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے :
( روزہ اس دن ہےجس دن تم روزہ رکھواورعیدالفطراس دن ہےجس دن تم افطارکرو اورعیدالاضحی اس دن ہےجس دن تم عیدالاضحی مناؤ )
سنن ابوداوودمیں اسےجیدسند کےساتھ روایت کیا گیاہے۔ابوداوود میں اوراس کے علاوہ بھی شواہد موجودہیں ۔
اوربالفرض اگروہ اس ملک سےجہاں اس نےاپنےگھروالوں کےساتھ روزوں کی ابتداکی اوردوسرےملک میں منتقل ہواتواس کاروزے رکھنےاورافطارکرنےمیں حکم اس ملک کے باشندوں کےساتھ ہی ہوگاجہاں وہ منتقل ہواہےتووہ عیدالفطران کےساتھ ہی کرےگااگرچہ وہ اس کےملک سےپہلےہی عیدکریں لیکن اگراس نےانتیس دن سےپہلےعیدکرلی تواس کے ذمہ ایک دن کی قضالازم ہوگی کیونکہ مہینہ انتیس دن سےکم نہیں ہوتا .
دیکھیں کتاب : فتاوی اللجنۃ الدائمۃ جلدنمبر۔(10) صفحہ نمبر۔(124)

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ