سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(20) چرم قربانی اور مال زکوٰۃ مسجد میں لگ سکتا ہے -

  • 3365
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-04
  • مشاہدات : 429

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 کیا فرماتے ہیں علماء دین کیا چرم قربانی اور مال زکوٰۃ مسجد میں لگ سکتا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیلکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 قربانی کی کھالیں حق مساکین کا ہے چنانچہ نبی اکرم ﷺ نے حج کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہی حکم دیا تھا:
((من علی بن ابی طالب رضی اللّٰہ عنه قال امر فی رسول اللّٰہ ﷺ ان اقسم لحومھا وجلودھا وجلالھا علی المساکین ولا اعطی فی جزارتھا شیئاً)) (بلوغ المرام۔ بخاری شریف)
’’یعنی فرمایا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہ حکم دیا مجھ کو رسول اللہﷺ نے یہ کہ تقسیم کروں میں قربانی کے گوشت اور چمڑا اور جھولی کو مسکینوںمیں۔‘‘
اس حدیث شریف سے واضح طور پر معلوم ہو گیا۔ کہ چرم قربانی فقراء و مساکین کا حق ہے اور اس کا بہترین مصرف مدارس اسلامیہ بھی ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ ان میں اکثر افراد مصارف صدقات پائے جاتے ہیں۔ مسجد میں قربانی کی کھالیں ہرگز نہیں لگ سکتیں کیونکہ ان میں اکثر افراد مصارف صدقات پائے جاتے ہیں۔ مسجد میں قربانی کی کھالیں ہر گز نہیں لگ سکتیں کیونکہ حدیث بالا کے صریح خلاف ہے اور زکوٰۃ کے مال بھی مسجد میں نہیں لگ سکتا کیونکہ مصارف زکوٰۃ ایک مشہور چیز ہے۔ مساجد زکوٰۃ کے مصارف سے ہر گز نہیں ہے۔ بعض لوگ فی سبیل اللہ کو عام جان کر زکوٰۃ کے روپوں کو مسجد میں لگانا جائز بتلاتے ہیں ان کی زبردست غلطی ہے بغیر دلیل کے لڑتے ہیں۔ نیز یہ زکوٰۃ اوساخ الناس ہے۔ابو سعید شرف الدین ناظم مدرسہ دارالحدیث سعیدیہ پل بنگلش دہلی۔

فتاویٰ علمائے حدیث

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ