سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(09) بکر کہتا ہے کہ قربانی صرف بعد نماز عید کے عید گاہی میں ذبح سنت ہے

  • 3354
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-03
  • مشاہدات : 387

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بکر کہتا ہے کہ قربانی صرف بعد نماز عید کے عید گاہی میں ذبح سنت نبی ﷺ ہے۔سوائے یوم النحر کے قربانی کرنا نا جائز اور خلاف سنت اور بدعت ہے۔آیا یہ بکر کا کہنا قرآن وحدیث کے موافق ہے یا مخالف اور بکر کے حق میں کیا حکم ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قربانی کو مصلی میں ذبح کرنا سنت ہے اس کی سنیت میں کوئی شک نہیں مگر مصلی پر ذبح کرنا صمت و قبولت قربانی کے لئے شرط نہیں ۔جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔(رواہ مسلم و احمد و ابودائود)

اس حدیث سےمعلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ گھر کا ہے۔عید گاہ پرازدحام و کثرت رجال میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے چھری مانگنی اور تیز کرانا قرین قیاس نہیں۔(حررہ عبدالجبار بن عبد اللہ الغزنوی عفی اللہ عنہا )(فتاوی ٖغزنویہ ص 96)


 

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 13 ص 47

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ