سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(03) ہرن اور بکر ی سے جو بچہ پیدا ہوا اور برس روز کا یا زیادہ کا ..الخ

  • 3348
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-03
  • مشاہدات : 539

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہرن اور بکر ی سے جو بچہ پیدا ہوا اور برس روز کا یا زیادہ کا روز کا ہوگیا تو قربانی و عقیقہ اس بچہ کا درست ہے یا نہیں۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہرن اور بکری سے جو بچہ پیدا ہوا اگر وہ مشابہ ہرن کے ہے۔تو اس کی قربانی و عقیقہ ناجائز ہے۔اور اگر وہ مشابہ ہرن کے نہ ہو تو اس کی قربانی و عقیقہ جائزہے۔لیکن وہ دو برس سےکم کا نہیں ہونا چاہئے۔

ہوا لموفق ہرن اور بکری سے جو بچہ پیدا ہوا اگر وہ بکری ہے تو قربانی درست ہے اور اگر بکری نہیں تو اس کی قربانی درست نہیں فتاوی عالم گیری میں ہے۔یہی قول حق معلوم ہوتا ہے۔کیونکہ بکری کی قربانی کا حکم ہے۔اور ہرن کی قربانی جائز نہیں اور اگر ایسا بچہ ہوا نہ اس کو بکری کہہ سکتے ہیں۔اور نہ ہرن اس کی بھی قربانی جائز نہیں۔(کتبہ محمد عبد الرحمٰن المبارک پوری عفا اللہ عنہ )(فتاویٰ نزیریہ جلد2 ص 424)

 

 

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 13 ص 46

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ