زید نے کہا بعد تعمیر مکان دعوت ضروری ہے ورنہ نقصان یا کسی آفت کا اندیشہ ہے بکر برخلاف ہے اور ایسی دعوت کو ریا کاری کی غرض بتلاتا ہے فقراء کا ایسی دعوت میں حصہ نہیں ہوتا صحت پر کون ہے؟
۔ قاضی شوکانی نے بیل الاوطار میں سلف کا قول لکھا ہے کہ تعمیر مکان کا بھی ولیمہ مستحب ہےریا کار کو تو ہرجگہ دخل ہے اور ہر جگہ معیوب ہے۔واللہ اعلم( 23 دسمبر 1932) (فتاوی ثنایئہ جلد 2 ص 407)
تو ضیح
مشکواۃ شریف میں حدیث ہے۔آپ ﷺ نے نبوت کی مثال مکان نوکے ساتھ بیان فرمائی ہے۔جیسا کہ ایک سردار نے ایک مکان تیار کیااو پھر اس میں دعوت کی اور اپنا ایک ایلچی لوگوں کو دعوت کی طرف بلانے کیلئے بھیجا کہ ہر شخص کو دعوت کی طرف بلائو جو شخص اُس ایلچی کے بلانے پر دعوت کی طرف آگیا اس نے کھانا کھیا اور جو نہ آیا وہ محروم رہا۔
اللہ تعالیٰ کا دین بمثل طعام ہے اللہ تعالیٰ دعوت کرنے والا اور محمد ﷺداعی الی الطعام ہے۔جو آپ کے بلانے پر آگیاوہ دعوت کھاگیا اگر نئی مکان کی دعوت ناجائز ہوتی تو آپ ﷺ مثال بیان نہ فرماتے۔فافہم و تقدیر(سعیدی)