السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
جو اشیاء خاص کر بتوں پر چڑھائی جاتی ہیں اور دوکاندار کو معلوم ہیں کہ یہ اشیاء بت پر چڑھائی جاہیں گی اس کافروخت کرنا شرع میں کیسا ہے۔اور فروخت کرنے والا کس گناہ کا مرتکب ہے۔؟
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اگر وہ ایسی چیز ہے جو سوائے چڑھاوے کے کھانے پینے میں بھی آسکتی ہے جیسے حلوہ وغیرہ تو اس چیز کا بینا جائز ہے چاہے چڑھاوے والا اس کو کسی بت پرچڑھاوےاوراگر ایس یہے کہ خاص شرک میں کام آتی ہے تو اس کا فروخت کرناجائز نہیں لَا تَعَاوَنُوا۟ عَلَى ٱلْإِثْمِ وَٱلْعُدْوَٰنِ (اہلحدیث امرتسر ص13 16 دسمبر 1932ء) (فتاوی ثنائیہ جلد 2 ص 407)