السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
زید نے اپنا کھیت بکر اس شرط پردیا کہ اس کی پیداوار یا سودو زیاں سے کچھ سروکار نہیں مگر ہمکوسالانہ اتنا پیسہ دے دے ۔آیاایسا کرنا جائز ے یانہیں؟
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
یہ کرایہ آراضی کی صورت ہے جو جائز ہے حدیثوں میں اس کا جواز آیا ہے۔
اراضی کوروپے پیسے کے دعوض کرایہ پر اٹھانے کی حدیث سوار بن ابی وقاص کی روایت سے برواہ ہے ،مسند احمد وغیرہنیل الاوطار جلد نمبر 5 صفحہ پ 236 پ موجود ہےمولف
(فتاوی ثنایئہ جدل 2 ص 141)