سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(111) صدقہ فطر کے بارے میں جو حدیث کیا آیا ہے ۔

  • 3314
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-03
  • مشاہدات : 601

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

صدقۃ الفطرکے بارے میں جو کچھ حدیث شریف میں آیا ہے وہ صاع اور مد کا ذکر ہے وزن کا ذکر نہیں، اور یہ ظاہر ہے کہ بعض چیز مد اور صاع میں بہ نسبت وزن کے کچھ کم و بیش ہو گی ان وجوہات سے ایک شخص کا قول ہے کہ مد یا صاع سے فطرہ دینا ناجائز ہے وزن کر کے دینا ہو گا آیا اس کا قول موافق شرع شریف کے ہے یا نہیں مدلل بیان فرما کر دل کو تشفی دیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیلکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صاع سے صدقہ فطر ادا کرنا درست ہے، نبی ﷺ نے ہمیشہ صاع سے ادا فرمایا ہے وزن کا کوئی ثبوت نہیں ہے جو شخص یہ کہتا ہے کہ صاع اور مد سے صدقۃ الفطر ادا نہیں کرنا چاہیے اس کا قول غلط ہے البتہ وزن سے بھی ادا کرنا جائز ہے کیونکہ یہاں صاع کا رواج نہیں ہے تو صاع کا اندازہ جو علماء کرام نے پونے تین سیر کا کیا ہو سہولت کے لیے کیا ہے جیسا کہ مسلک الختام شرح بلوغ المرام میں تفصیل کے ساتھ درج ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔(عبد السلام بستوی مدرس ریاض العلوم اردو بازار دہلی۔ اہل حدیث دہلی جلد نمبر۹۔ شمارہ نمبر۸ ۱۳۷۰ئ)

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 7 ص 203

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ