السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اگر کسی شخص پرکسی کا کچھ روپیہ بطور قرض واجب ہو۔اور وہ شخص کا روپیہ قرض ہے۔مر گیا یا لاپتہ ہے۔کیا وہ شخص دیندار اس روپے کو خیرات کر دے تاکہ اس کا مواخذہ ہو یا کیا کرے کیونکہ قرض خواہ کے وارثوں کا بھی پتہ نہیں اور کافر کی طرف سے خیرات قبو ل نہ ہوگی۔؟
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
میرے خیال می یہ نقطہ گری پڑی چیز کے حکم میں جس کی بابت حکم ہے۔کہ ایک سال تک مالک کا انتظار کرے۔ازاں بعد استعمال کر کے اصل مالک کا انتظار کرے۔ آئے تو دیدے ورنہ نیت ادا کی رکھے۔اور بس(18 ربیع الثانی س41ھ) (فتاوی ثنائیہ جلد2 صفحہ 405)