سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(131) زید بیس روپے کا سوت خریدتا ہے۔ اور بکر کے ہاتھ ادھار اکیس روپے کابیچتا ہے..الخ

  • 3241
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-27
  • مشاہدات : 873

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

زید بیس روپے کا سوت خریدتا ہے۔ اور بکر کے ہاتھ ادھار اکیس روپے کابیچتا ہے۔اورروپیہ دینے کی کوئی مدت معین نہیں کرتا۔جب بکر مال یعنی کپڑا تیار کر کے فروخت کر لیتا ہے۔تو روپیہ خرید کا ادا کرتا ہے۔دوسری صورت زید مندرجہ بالا صورت کے مطابق سوت بکر کو دیتاہے۔اورساتھ ہی ساتھ کچھ ر وپیہ ادھار بھی دیتا ہے۔جب بکر مال  تیار کر لیتا ہے۔تو تمام مال زید کے گھر دے آتا ہے۔زید اس کو فروخت کر کے اپنا تمام روپیہ لے لیتا ہے۔اور بقایا منافع بکر کو دے دیتا ہے۔آیا ان صورتوں میں بیع جائز ہے  کہ نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صورت مرقومہ جائز ہے۔منع کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔ مگر بحکم قرآن مجید مدت مقررہ کی تحریر ہونی چاہیے۔ لقوله تعالي يَاـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا تَدَايَنتُم بِدَيْنٍ إِلَىٰٓ أَجَلٍ مُّسَمًّى فَٱكْتُبُوهُ

 (اہل حدیث جلد نمبر 20 صفحہ نمبر 37 ) (فتاوی ثنائیہ جلد 2 صفحہ ۔395)


فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 14 ص 114

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ