سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(108) رشوت،سود،بیاج ،شراب میں کچھ فرق ہے؟

  • 3216
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-02
  • مشاہدات : 354

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلے کے اندر کے رشوت کاکھانا اور سود کا کھانا اوربیاج کا کھانا اورشراب کا پینا اور غیراللہ کے نام کھانا اس میں کچھ فرق ہے یا نہیں بینوا توجروا۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

در صورت مرقومہ معلوم کرنا چاہیے۔کہ رشوت کا کھانا اور سود کا کھانا اورشراب کا پینا حرام ہے۔اور سب حرام ہونے میں برابر ہیں اور علماء کا اتفاق ہے۔کہ مخلوق کی نزر کے حرام ہونے پر او ر یہ نزر منقعد نہیں ہوتی اور وہ حرام ہے۔اورجائزنہیں اس کا لینا اور کھانا بحرائق میں مذکور ہے۔انعقد الاجماع علي حرمة قور المخلوق ولا ينعقد فزر المخلوق و انه حرام بل سحت ولا يجوذ اخذه و اكله انتهياور دلیل الصالحین میں مرقوم ہے۔النذر لا يجوذ الا لله تعالي ومن نذر لنبي وولي لا يلزم عليه شئ فان اعطي ذلك الشئ لا حد من الناس علي تلك النية لا يجوذ اخذ ان علم الاخذ بذالك فان كان طعاما لا يحل اكله وان كان ذبيحةفهو ميتة فان اكلو و سمو الله تعالي عليها كفروا جميعا وان نورو الله تعالي فاكلو ثم وهبوثوابه لا حد من الناس فتلك تجوز انتهي والله اعلم وعلمه اتم

(حررہ السید شریف حسین عفی عنہ )

سید محمد نزیر حسین

خادم شریعت رسول الثقلین لطیف حسین

از شرف سید کرنین شد شریف حسین

(فتاوی ثنائیہ جلد2 صفحہ 144۔145)


فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 14 ص 100

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ