سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(98) دو تین سال پہلے باغات کے ثمر پختہ ہو جانے سے پہلے..الخ

  • 3203
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-02
  • مشاہدات : 347

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

دو تین سال پہلے باغات کے ثمر  پختہ ہو جانے سے پہلے بیع کرنا منع آیا ہے۔امام نے اس کو مشورہ قرار دیا ہے میں بھی اس سے تجاوز نہیں کر سکتا۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شرفیہ۔

امام بخاری نے اس کو مشورہ قرار نہیں دیا۔صحیح میں باب یہ ہے۔باب بيع النمار قبل ان يبدو صلا حها انتهي

پھر حدیث زید بن ثابت لائے ہیں۔عن زيد بن ثابت رضي الله عنه قال كان الناس في عهد رسول الله صلي الله عليه وسلم يتبا يعون الثمار فا ذا جذالناس وحضر و تقاضهم قال المبتا ع انه اصاب الثمر الرمان اصابه مرض اصايه تشام عا ها ت يحتجون بها فقال رسول الله صلي الله عليه وسلم لما كثرت عنه الخصومة في ذالك فا ما لا فلا تبتا عوا حتي يبدو ضلا ح الثمر كالمشورة يشير بها لكثرة خصومة هم انتهي جلد 1 ص 292)

حدیث مرفوع نہیں زید بن ثابت راوی کا قول و اجتہاد ہے۔اور اپنا فہم ہے کہآپﷺ نے بطور مشورہ یہ فرمایا کہ یہ میں نے تم کو مشورہ کے طور پر کہا ہے۔اور شرعی حکم میں جو خصوصاً حکم نہی کا ہو جس کا اصل حرمت ہے۔اور قرینہ حرمت قطعی کا دوسری حدیث میں ہے۔عن انس قال نهي رسول الله صلي الله عليه وسلم لو بعت من اخيك ثمرا فا صابته جائحة فلا يحل لك ان تا خذ منه شيئا بما تا خذ مال اخيك بغير حق رواہ مسلم مشکواۃ جلد 2 صفحۃ 247

یہ سب حدیثیں حرمت کی صریح دلیل ہیں۔مشورہ کا فہم صحیح نہیں ہے۔اور نہ ہی امام بخاری نے اسے مشورہ قرار دیا ہے۔ورنہ وہ ترجمۃ الباب میں اس کی طرف اشارہ کرتے۔از لیس فلیس ۔

(فتاوی ثنائیہ جلد 2 صفحہ 437۔438)

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 14 ص 96

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ