ایک شخص نے تیس روپے من کے حساب سے اور لینے کا بھائو مقرر نہیں کیا اور نہ وقت اورجب لینا چاہا تو اس وقت بھائو دو روپے من کا ہے۔اور وہ اسی وقت کے بھائو سے لینا چاہتا ہے۔یعنی دو ر وپے من کے حساب سے تو اس طرح لینا درست ہے یا نہیں۔؟
اگر اس کی صورت یہ ہے کہ تیس روپے من والے غلے کے عوض میں یہ سودا ہے۔تو جائز نہیں اس سودے کو بالکل الگ سمجھنا چاہیے۔اور یہ سودا بالکل الگ تو جائز ہے۔مگر جب مقرر نہیں تو جو بھائو بازار کا ہوگا اسی سے لے سکے گا۔
(فتاوی ثنائیہ جلد 2 صفحہ 450)