سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(65) ان شہروں میں بیع سلم رس میں اکثر لوگ مبتلا رہیں

  • 3167
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-02
  • مشاہدات : 454

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ما قو لكم رحمكم الله اس صورت میں کہ ان شہروں میں بیع سلم رس میں اکثر لوگ  مبتلا رہیں۔اورعند العقد کسی جگہ موجود نہیں ہوتا۔حضرت امام ابو حنیفہ ؒ کے نزدیک بیع سلم میں موجود ہونا مسلم فیہ کا وقت عقد سے استحاق تک شرط ہے۔بخلاف امام شافعی ؒ کے کہ ان کے نزدیک مسلم فیہ کا موجود ہونا عند العقد شرط نہیں وقت استحقاق کے ہونا اس کا شرط ہے۔سو رس مذکورہ وقت استحقاق  کے بکثرت موجود ہوتا ہے۔اس صورت میں حنفی  المذہب کو براے رفع حرج اور ضرورت صحت بیع سلم کے قول امام شافعی پر عمل کرنا ازروئے اصول  حنفیہ کے جائز ہے یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ملخص۔معاملہ بیع سلم رس میں اوپر مذہب امام شافعی کے بلا تردد کریں۔کیونکہ التزام ایک مذہب معین کا فرض و واجب نہیں۔چنانچہ مسلم الثبوت و تحریر ابن الہمام و شرح  بحر العلوم عبد العلی و مولانا نظام الدین و امیر الحاج۔وعقد الضریر و  شر نبلای۔وطحاوی۔و ردالمختار وغیرہ میں مذکور ہے۔كما لا يخفي علي العالم الماهر بالا صول والفراغ والله اعلم حرره سيد محمد نزير حسين عفي عنه

(فتاوی نزیریہ جلد 2 صفحہ 16)      (فتاوی ثنائیہ جلد 2 صفحہ 140)

 


فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 14 ص 80

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ