سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(62) پیشہ وکالت کا شرعی حکم کیا ہے؟

  • 3164
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-02
  • مشاہدات : 721

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

زید پیش وکالت کو انجام دیتا ہے۔بکر اس پر یہ الزام لگاتا ہے کہ پیشہ وکالت کی مذہباً  سخت ممانعت ہے۔بلکہ حرمت کی حد تک پہہنچ جاتی ہے۔لہذا ترک کر دیا جائے۔پس ایسی صورت میں بروئے قرآن وحدیث شریف میں آیا فی الواقعی پیشہ وکالت بموجب قول بکر مذہباً ناجائز و قابل ترک ہے۔اگر ہے تو کس شرط کے ساتھ اگر نہیں ہے تو کسی طرح بصراحت و تفصیل اس فتاویٰ کو اخبار اہل حدیث میں شائع فرما کرآپ عند اللہ ماجور ہوں۔وعند الناس مشکور ہوں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

پیشہ وکالت کی دو حیثیتیں ہیں۔اصل منصب وکیل۔دوم طریق عمل۔منصب وکیل ہے تو یہ کہ عدالت کو صحیح قانونی مشورہ دے۔اس منصب کے لہاظ سے تو جائز کاموں میں وکالت جائز ہے۔الا ان مقدمات میں جن میں قانون ہی خلاف شریعت ہے۔مثلاً دیوانی میں معیاد قرضہ ما فوجداری میں شراب ۔خمر۔اور زنا کا جواز۔ایسے مقدمات میں بپا بندی قانون پیرعی کرنا بھی خلاف شریعت ہے حق یہ ہے کہ طریق عمل نے اس پیشے کو بہت کچھ مورود الزام بنایا ہے۔جس کی تفصیل کی ضرورت نہیں نہ مناسب ہے۔

درخانہ اگر کس است                             یک حرف پس است

(فتاویٰ ثنائیہ۔جلد2 صفحہ 219)

 


فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 14 ص 77

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ