سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(93) فرض کرو غلہ بیس (۲۰) من مئی کے مہینہ میں.....الخ-

  • 3159
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-02
  • مشاہدات : 450

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 فرض کرو غلہ بیس (۲۰) من مئی کے مہینہ میں بارانی زمین سے حاصل ہوا۔ اب زکوٰۃ کا مہینہ ہے، کس حساب سے زکوٰۃ دینی ہے۔ کیا جتنا غلہ اس وقت آیا تھا، اس کا دسواں حصہ یا جتنا اس وقت موجود ہے۔ اس کا دسواں حصہ کیا غلہ جتنا آیا تھا، اس میں سے سال بھر کا خرچ نکال کر زکوٰۃ دینی ہے، یا سارے پر؟
زیور پر ایک ہی دفع زکوٰۃ ہوتی ہے، یا ہر سال اسی زیور کی زکوٰۃ دینی ہے، جو ہمیشہ سے ایک ہی ے، نہ کم ہوا نہ زیادہ۔
فرض کرو کہ اس وقت ایک ہزار روپیہ گھر میں موجود ہے، اور دو صد ادھار پر ہے، جس کا پتہ نہیں، کب وصول ہو گا، کیا صرف ایک ہزار کی زکوٰۃ دینی ہے، یا ادھا ملا کر ۲۰۰ روپے پر دینی ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیلکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 زمین کی پیداوار میں کاٹنے کے وقت بھی زکوٰۃ ادا کرنی پڑتی ہے، اس لیے اب بیس من سے دو(۲) من غلہ ادا کرنا پڑھے گا۔ قرآن مجید میں ہے: {وَأتُوْ حَقَّه یَوْمَ حَصَادِہٖ} اس سے سال بھر کا خرچہ نہیں لیا جائے گا، فیما سقت السمائ… العشر بخاری۔
۲۔ زیور اگر نصاب ۲/۱۔۵۲ تولہ چاندی اور ۲/۱۔۷ تولہ سونا کو پہنچ جائے، تو اس وقت ہر سال زکوٰۃ دینی پڑے گی ، اگرچہ زیور میں زکوٰۃ کے متعلق اختلاف ہے، مگر صحیح بات یہی ہے، اور احادیث صحیحہ سے یہی معلوم ہوتا ہے، (دیکھو ابو داؤد) مائی ام سلمہ رضی اللہ عنہاسے زیور کے بارے میں پوچھا گیا، کیا یہ کنز ہے؟ یعنی اس پر وعید ہے؟ آپ نے فرمایا: ((اِذَا اَدَّیْت زکاته فلیس بکنز)) اور جب زکوٰۃ ادا کی جائے تو اس میں وعید نہیں ہے۔
۳۔ قرض جب وصول ہو گا، تو اس وقت اس سے زکوٰۃ دی جائے گی، صورت مذکورہ میں صرف ایک ہزار کی دینی پڑے گی، کیونکہ زکوٰۃ مال سے ادا کرنی ہوتی ہے، جب موجود نہیں ہے، تو اب اس سے زکوٰۃ ادا نہیں کی جا سکتی۔

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 7 ص 153-154

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ