سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(39) گنے میں عشر ہے، یا نہیں-

  • 3138
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-01
  • مشاہدات : 1059

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرح متین اس مسئلہ میں کہ گنے میں عشر ہے، یا نہیں؟ ہمارے دیار میں جا بجا شکر کی ملوں کے قائم ہو جانے سے زمین کے بہت سے حصوں پر گنے کی کاشت نے قبضہ کر لیا ہے، عوام الناس کا خیال ہے کہ گنا ایک ’’خضروات‘‘ سبزیوں کی قسم ہے، اس پر عشر نہیں ہے، تو ایسا خیال صحیح یا نہیں؟ زمین کی ایک پیداوار دھان اور آلو بھی ہے، اس پر عشر ہے یا نہیں، امام ابو حنیفہ کا مذہب اس بارے میں یا دھان، آلو وغیرہ کے بارے میں کیا ہے، اور فرمان نبویﷺ سے اس کو تائید ہوتی ہے، یا نہیں؟ ترمذی شریف کے حاشیہ ص ۹۳ پر امام صاحب کا مذہب وجوب العشر صحیح ہے یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیلکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 نمبر۱: دھان، گندم، گنا، آلو میں عشر نکالنا لازم ہے، یہ چیزیں خضروات میں داخل نہیں ہیں، لہٰذا عشر لازم ہے، البتہ جو زمین نہر یا کنویں سے سینچی جائے، اس کی پیداوار میں نصف عشر ہے، اور بارانی زمین کی پیداوار میں عشر ہے، فقط واللہ اعلم۔
جواب صحیح ہے، البتہ نہری زمین میں جو حکم ہے، وہ محل نظر ہے، فقط
جواب:… نمبر۲: عوام کا خیال غلط ہے، گنوں میں بھی اور دھان اور آلو وغیرہ سب ترکاریوں میں عشر ہوتا ہے، اگر بارش کے پانی سے پیدا ہوتی ہوں، اور اگر رہٹ یا چرس وغیرہ کے ذریعہ سے آب پاشی کی جاتی ہے تو پیداوار میں نصف عشر ہو گا، بشرطیکہ زمین عشری ہو گی۔ عشری زمین وہ ہوتی ہے کہ شاہان اسلام کے وقت سے مسلمانوں کے قبضے میں چلی آ رہی ہو، کسی غیر مسلم کا کسی وقت اس پر قبضہ نہ ہوا ہو۔ فقط واللہ اعلم
جواب صحیح ہے: نہروں سے ہماری اصطلاحی نہریں مراد ہیں جن کے پانی کا محصول دینا ہوتا ہے، فقط
جواب:… نمبر۳: زمین کی پیداوار جو انسان کے کھانے کے کام میں آئے، اور ذخیرہ کے طور رپرکھی جائے، اس میں زکوٰۃ فرض ہے، گنے سے گڑ شکرتیار کرتے ہیں، جو برسوں ذخیرہ کے طور پر رکھے جاتے ہیں، اس لیے اس میں زکوٰۃ فرض ہے،، اور جو دیگر غلہ جات گیہوں، جو، دھان، مٹر چنے وغیرہ کا نصاب ہے، وہی گنے کا بھی خضروات سے مراد وہ سبزیاں اور ترکاریاں ہیں، جو جلد خراب ہو اجاتی ہیں، اور ذخیرہ نہیں کی جاتیں، جیسے آلو۔ بیگن شلغم۔ مولی چقندر اور دیگر ساگ پات، اور ظاہر ہے، راب، گڑھ، شکر ان سبزیوں کی طرح نہیں ہیں، چونکہ آلو خضروات میں داخل ہے، اس لیے اس میں اور اس جیسی ترکاریوں میں مثل ککڑی، خربوزہ ،تربوز وغیرہ زکوٰۃ فرض قرار دینا حدث مذکور فی السوال کی صریح مخالفت موجود ہے۔ (واللہ اعلم بالصواب) 
جواب4:… نمبر: بسم اللہ الرحمن الرحیم - گنے کے متعلق کوئی صریح و صحیح حدیث مخصوص نہیں ملی، ایک روایت میں فقط قصب ہے، جو عموم لفظ کے اعتبار سے گنے کو بھی شامل ہے، جس سے زکوٰۃ کی نفی معلوم ہوتی ہے، مگر حدیث جیسے بعض لفظ کے اعتبار سے گنے کو بھی شامل ہے،جن سے زکوٰۃ کی نفی معلوم ہوتی ہے، مگر حدیث جیسے بعض علماء نے ذکر کیا صحیح نہیں، حافظ ابن حجر اور دیگر علماء نے اس حدیث کو صحیح قرار نہیں دیا، عموم اولہ سے اگر استدلال کیا جائے، تو گنے میں زکوٰۃ واجب معلوم ہوتی ہے، اور نصاب عشرات کی روایت میں بعض ایسے الفاظ موجود ہیں، جیسے ((لَیْسَ فِیْ مَا دُوْنَ خَمْسَة اَوْ سُقٍ صَدَقَة)) ججس سے ہر عشری میں نصاب معلوم ہوتا ہے، اس لیے امام ابو یوسف اور امام محمد نصاب کے قائل ہیں، مگر گنے میں نصاب گڑ شکر کا اعتبار کیا جائے گا، اگرچہ اس میں ان کا اختلاف ہے کہ نصاب ۵ وسق ہے، یا پانچ من، مگر اقرب الصراحۃ یہی معلوم ہوتا ہے کہ گنے میں نصاب ۵ وسق اعتبار کیا جائے، اور زکوٰۃ خواہ گنے سے ادا کرے یا شکر سے، زبیب یعنی منقیٰ جو انگور سے تیار ہوت اہے، اس میں زکوٰۃ خواہ گنے سے اد کرے یا شکر سے۔ زبیب یعنی منقیٰ جو انگور سے تیار ہوتا ہے، اس میں زکوٰۃ کی تصریح موجو دہے، ابو داود کی روایت میں خراج کے بیان میں ابیض بن حمال کی روایت میں کپاس کی کاشت کا ذکر ہے، اس میں رسول اللہ؍ﷺ کے ((لا بَدُّ صدقة)) لفظ موجود ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جن روایات میں صرف چار یا دس میں حصہ معلوم ہوتا ہے، اور ان کی اسانید متکل فیہا ہیں، پایہ ثبوت کو نہیں پہنچی، ابو داؤد کی یہ حدیث ظاہراً صحیح معلوم ہوتی ہے، پس گنے میں شکر کا اندازہ پانچ وسق تک پہنچ جائے تو گنے میں عشر ادا کر دیا جائے۔
جواب:… نمبر۵: عشر پیداوار زمین میں ہے، میں۔ کپاس، گنا ، آلو، وغیرہ سب میں قائل ہوں، نصاب کے بارے میں بہتر ہے کہ اولیٰ نصاب غلہ مثلاً جو قیمت پر عمل کیا جائے، ورنہ ہر جنس کے اعلیٰ اسماء پر مثلاً کپاس کے بورے آلو کے چھکڑے، ٹھیلے علیٰ ہذا القیاس گنے کی تفسیر مظہری میں تحت آیۃ:
 {اَنْفِقُوْا مِنَ الطَّیِّبَاتِ مَا کَسَبْتُمْ وَمِمَّا اَخْرَجْنَا لَکُمْ مِنَ الْاَرْضِ الایة وَاَتُوْا حَقَّه یَوْمَ حَصَادِہٖ الایة}
جواب:… نمبر۶: علامہ مجیب نے جو کچھ لکھا ہے، صحیح ہے، احمد اللہ مدرس مدرسہ زبیدیہ محلہ کشن گنج دہلی۔
عشر پیدوار زمین کی کمائی پر ہے جس کا ذکر قرآن و حدیث میں بالصراحت موجود ہے ظاہر ہے کہ گنا بھی زمین کی کمائی سے حاصل ہوتا ہے، یہ مسئلہ تو متفق ہے، نہ معلوم سائل کو اس فتویٰ کی کیوں ضرورت پڑی، اس میں عشرادا نہ کرے والے اس طرح مستوجب عذاب الٰہی ہوں گے، جس طرح زکوٰۃ کے نہ دینے والے۔
جواب:… نمبر۷: میرے نزدیک گنے میں عشر اسی طرح واجب ہے، جس طرح جو۔ گندم وغیرہ کی پیداوار ہے۔ البتہ بموجب حدیث شریف بخاری بارانی اور غیر بارانی،ا ور محنت آبپاشی کا لحاظ کر کے عشر بارانی زمین میں اور نصف عشر غیر بارانی میں۔ اگر عشر میں قیمت دے دے، تو بھی جائز ہو گا۔
جوا ب صحیح ہے: ہندوستان میں جو مالگذاری زمینداروں پر لگائی جاتی ہے، مؤنۃ الارض ہیں اس کا بھی لحاظ رکھنا چاہیے، بارانی کی نسبت چاہی میں مؤنتہ کا لحاظ رکھا گیا ہے۔و اللہ اعلم
بلوغ المرام کی ایک حدیث میں ابو موسی اشعری سے روایت ہے کہ صرف جو ، گیہوں، انگور، کھجور سے زکوٰۃ لو۔ اس حدیث سے بعض نے استدلال کیا ہے، کہ سب جنسوں میں عشر نہیں ہے، لیکن غلط ہے، کیونکہ ابن ماجہ میں ذرہ کا بھی ذکر ہے، جس کے معنی مکئی اور جوار کے ہیں، اور ذرہ میں عشر ہونے کی بابت اور بھی کئی مرسل روایتیں ہیں، جن کی بابت امام بیہقی فرماتے ہیں ((انه یقوی بعضھا بعضًا)) یعنی سب مل کر ایک دوسرے کی تقویت کرتے ہیں، اور اس کے علاوہ اور بھی روایتیں ایسی ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہے ، کہ عشر چار اشیاء میں منحصر نہیں ہے، چنانچہ ابو داؤد میں ابیض بن حمال کی حدیث ہے کہ جس میں روئی کی پیداوار پر عشر لینے کا ذکر موجود ہے، ملاحظہ ہو ابو داؤد باب فی حکم ارض الیمن جلد دوم ص ۲۵۔ اس سے معلوم ہوا کہ چار ہی چیزیں عشر کا انحصار نہیں ہے، جس میں مکئی اور اس طرح دھان، چنا، گنا وغیرہ بھی ہے، اور دارقطنی کی وہ روایت جو بلوغ المرام میں موجو د ہے جس میں گنے کے اندر عشر نہ ہونے کا ذکر ہے بالکل ضعیف ہے، چنانچہ حافظ ابن حجررحمۃ اللہ علیہ سے بلوغ المرام میں اس کی تصریح موجود ہے، بہرحال جب انحصار غلط ٹھہرا تو جس طرح روئی، مکئی میں عشر ہے، اسی طرح دھان، چنا ،گنا وغیرہ میں بھی عشر ہے۔ عشر کی بابت مفصل مضمون میرے پرچہ ’’اخبار تنظیم اہل حدیث روپڑ یکم دسمبر ۳۳ء میں ملاحظہ ہو۔
جواب:… نمبر۸: گنے میں عشر اسی طرح ہے جس طرح جملہ اقسام غلہ میں ہے، دارقطنی میں ایک روایت میں ہے، جس سے ظاہر معلوم ہوتا ہے، کہ گنے میں عشر نہیں ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس رواتی کے راوی ناقابل سند ہیں، کیونکہ اس روایت میں ہے، راوی اسحق بن یحییٰ ہیں، ان پر امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ، امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے سخت جری کی ہے، اور ان کو متروک اور سیئی الحفظ قرار دیا ہے، دوسرے راوی موسی بن طلحہ ہیں۔ چونکہ ان کا لقاء حضرت معاذ بن جبل سے ثابت نہیں ہے، اس لیے یہ روایت مرسل ہو گئی۔ اور مرسل روایت حجت نہیں ہے، پس یہ حدیث سند نہ رہی (ملاحظہ التعلیق المغنی علی سنن الدارقطنی ص ۲۰۱ ج۱ للفاظل الاجل مولانا شمس الحق صاحب عظیم آبادی رقیمہ العبد الضعیف المدعوبہ عبد الرؤف مدرس مدرسہ جھنڈے نگر ۲۱ فروری ۴۰ئ) گنے میں زکوٰۃ فرض ہے، کیونکہ اس کی بنی ہوئی اشیا، مثل گڑ شکر باقی رہنے والی چیزیں ہیں۔ (فتاویٰ ثنائیہ جلد اول ص ۴۸۴)

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 14

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ