سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(06) کیا کماد میں عشر واجب ہے ۔

  • 3105
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-01
  • مشاہدات : 412

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
 کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ ہمارے ہاں فصل کماد کثرت سے پیدا ہوتا ہے اور ہمارے زمیندار اکثر کماد مل پر فروخت کرتے ہیں، کیا کماد کی رقم جو بل سے وصول ہو گی، اس سے عشر دینا پڑے گا، یا بصورت دیگر زکوٰۃ جماعت کے اندر اس مسئلے پر اختلاف ہے، براہ کرم مکمل دلائل شرعی کے ساتھ وضاحت فرما دیں، تاکہ پوری پوری تسلی ہو جائے ؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ ہمارے ہاں فصل کماد کثرت سے پیدا ہوتا ہے اور ہمارے زمیندار اکثر کماد مل پر فروخت کرتے ہیں، کیا کماد کی رقم جو بل سے وصول ہو گی، اس سے عشر دینا پڑے گا، یا بصورت دیگر زکوٰۃ جماعت کے اندر اس مسئلے پر اختلاف ہے، براہ کرم مکمل دلائل شرعی کے ساتھ وضاحت فرما دیں، تاکہ پوری پوری تسلی ہو جائے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیلکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 صورت مسئولہ میں واضح ہو کہ زمین کی پیداوار سے صدقہ ادا کرنا کتاب و سنت اور اجماع امت سے ثابت ہے، جس سے کہ کسی مسلمان کو مفر نہیں، قرآن حکیم میں ہے:
{یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا کَسَبْتُمْ وَ مِمَّآ اَخْرَجْنَا لَکُمْ مِّنَ الْاَرْضِ} (البقرة)
’’اے ایمان والو! اپنی حلال اور پاکیزہ کمائی اور زمین کی پیداوار سے خرچ کرو۔‘‘
حدیث شریف میں ہے:
((ان رسول اللّٰہ ﷺ قال فیما سقت السماء والعیون والبعل العشر وما سقی بالنضح نصف العشر کتب حدیث))
’’بارانی چشموں سے سیراب ہونے والی یا زیر زمین نمی والی کھیتی میں عشر ہے، اور جس کھیتی کو کنوؤں سے پانی کھینچ کر سیراب کیا جائے، اس میں نصف عشر ہے۔‘‘
سونا اور چاندی، جانوروں اور تجارتی مال کی زکوٰۃ اور زمین سے حاصل ہونے والی کھیتی (بشرطیکہ وہ سال بھر باقی رہ سکے) کی زکوٰۃ میں فرق یہ ہے کہ اول الذکر چیزوں کی زکوٰۃ سال بعد دی جاتی ہے، اور زمین سے پیدا ہونے والی کھیتی کی زکوٰہ اس وقت دینی پڑتی ہے، جب وہ پک کر تیار ہو۔ قرآن حکیم میں ارشاد ہے:
{وَأاتُوْحَقَّه یَوْمَ حَصَادِہٖ} (الانعام)
’’یعنی کھیتی کی زکوٰۃ اس کی کٹائی اور صفائی کے وقت دو۔‘‘
اب جس طرح کھیتی اور دوسری چیزوں کی زکوٰۃ سال کے بعد اور کھیتی کی زکوٰۃ کٹائی کے وقت ہی دینی پڑتی ہے، اس طرح ان کے نام بھی الگ الگ ہوگئے ہیں، سونا اور چاندی وغیرہ و دوسری چیزوں کے صدقے کا نام زکوٰۃ اور کھیتی کے صدقہ کے نام سے مشہور ہے۔

کماد میں عشر واجب ہے:

عموماً زمیندار کماد سے گڑ، شکر یا چینی وغیرہ گھر پر ہی تیار کرتے ہیں، اس لیے انہیں یقینی طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ ان کے کھیت سے پیدا ہونے والی فصل نصاب کو پہنچی ہے، یا نہیں، اگر نصاب (۲۰ من) کو پہنچ جائے، تو اس سے عشر یا نصف عشر (جو صورت بھی ہو) ادا کریں۔ اگر ان کی پیداوار نصاب کو نہ پہنچی تو ان پر عشر واجب نہں ہے، رہی یہ بات کہ کچھ زمیندار اپنا کماد ملوں میں فروخت کر دیتے ہیں، ان کو گڑ، شکر یا چینی حاصل نہیں ہوتی، تو یہ چیز عشر نہ دینے کی وجہ نہیں بن سکتی، آنحضرتﷺ کے زمانہ میں کھجوروں اور انگوروں کا عشر فصل پکنے اور کٹنے کے بعد خشک کھجوروں اور خشک انگوروں کی صورت میں اد اکیا جاتا تھا، مگر عموماً لوگ اپنے باغ کے پھل تازہ تازہ تر حالت میں فروخت کر دیتے تھے، جیسے آج کل انگور اور تر کھجوریں بازار میں فروخت ہوتی ہیں، ظاہر ہے کہ یہ تر پھل نہ سال بھر رہ سکتے تھے، اور نہ ان سے عشر لیا جاتا تھا۔ پھر انگور اور کھجور کی یہ صور ت ہوتی تھی کہ ماہر فن باغ میں گھوم پھر کر اندازہ لگا سکتے تھے کہ اس باغ میں مثلاً موجودہ حالت میں تر پھل ایک سومن ہیں، جو فصل پکنے اور خشک ہونے پر ۶۰ من رہ جائیں گے، چنانچہ اس اندازے کے مطابق باغ والے ۶۰ من کھجور یا انگور کا عشر لازم ہو جاتا تھا، جسے وہ فصل کی کٹائی کے بعد خشک کھجوروں اور منقیٰ کی صورت میں ادا کرتا تھا، لیکن باغ کا اندازہ ہو جانے کے بعد وہ آزاد ہوتا تھا، کہ اپنے باغ کے پھل تر حالت میں فروخت کرے، یا پکنے اور تیار ہو جانے کے بعد ان کی کٹائی کرے۔
بالکل اسی طرح آج بھی ماہر فن کماد کے کھڑے کھیت سے پیدا ہونے والی چینی یا گڑ شکر کا اندازہ کریں، اگر کھیت کی پیداوار نصاب (۲۰ من) کو پہنچ جائے، تو ا س سے عشر دو من یا نصف عشر ایک من ادا کریں۔ علیٰ ہذا القیاس اگر کسی کھیت کے سو منگڑ شکر پیدا ہونے کا اندازہ ہو تو اس سے عشر دس من یا نصف عشر ۵ من یا ا س کی قیمت ادا کریں۔
نوٹ:… پیداوار کے نصاب (۲۰ من) کو پہنچنے کے بعد ہر تھوڑی یا زیادہ فصل سے اسی حساب سے عشر دینا واجب ہے، اگر ۲۱ من شکر پیدا ہوتی تو اس سے عشر دو من چار سیر یا نصف عشر ایک و من دو سیر دینا لازم آئے گا۔ ھٰذا ما عندی واللّٰہ اعلم بالصواب۔

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد14،

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ