سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(41) خراجی زمین جو آسمانی پانی سے پیدا ہو الخ۔

  • 3098
  • تاریخ اشاعت : 2013-05-30
  • مشاہدات : 388

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
 خراجی زمین جو آسمانی پانی سے پیدا ہو، اور جو نہر یا تالاب و آسمانی پانی سے مل کر پیدا ہو تو عشر ہے یا نہیں؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 خراجی زمین جو آسمانی پانی سے پیدا ہو، اور جو نہر یا تالاب و آسمانی پانی سے مل کر پیدا ہو تو عشر ہے یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیلکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 قرآن مجید میں ارشاد ہے، جو چیز بھی زمین سے پیدا ہوئی ہو اس میںسے زکوٰۃ دینی چاہیے، عشر اور نصف عشر کا حساب الگ ہے، ہندوستان میں بارانی زمینوں پر بھی سرکاری لگان ہے، جو واجب الادا ہے، اس لے بارانی زمینوں کی پیداوار سے نصف عشر ادا کر دے تو جائز ہے، عشر دیا کرے، تو بہت ہی اچھا ہے۔ (اہل حدیث جلد ۴۰ نمبر۳۲)
شرفیہ:… یہ صحیح نہیں اس لیے کہ عہد نبوی اور عہد خلافت راشدہ میں بھی زمین کا محصول یا معاملہ تھا، اور اس محصول کے باعث پیدوار پر نصف عشر ثابت نہیں، یہ تقسیم عشر یا نصف عشر کی زمین چاہی یا نفع پر ہے محصول پر نہیں:
((عن ابی جعفر قال ما بالمدینة اھل بیت ھجرة الا یزرعون علی الثلث والربع وزارع علی وسعد بن مالک وعبد اللّٰہ بن مسعود و عمر بن عبد العزیز والقاسم وعروة واٰل ابی بکر وال عمرو ال علی وابن سیرین وقال عبد الرحمٰن ابن یزید فی الزوع وعامل عمر رضی اللّٰہ عنه الناس علی ان جائز عمر رضی اللّٰہ عنه بالبذر من عندہ فلہ الشطرون جاؤا بالبذر فلھم کذا)) (رواہ البخاری مشکوٰة ص۱۵۷ تا ص ۱۵۸)
پس ثابت ہوا کہ بارانی اور نہری اور عیونی زمین میں عشر سے نصف عشر جائز نہیں اور محصول کا بھی نصف عشر میں اعتبار نہیں، یہ غلط فہمی سے کتاب و سنت پر زیادتی ہے جو جائز نہیں۔ ((۱۲۰ منه المجتہد قد یخطی ویصیب رَبَّنَا لَا تُؤَاِخِذْنَا اِنْ نَسِیْنَا اَوْ اَخْطَانَا))
جناب نے پرچہ مورخہ ۲۷ جمادی الثانی میں بجواب استفسار یہ ارقام فرمایا ہے آج کل سرکار انگریزی کے ماتحت ہم لوگ رہتے ہیں، ہماری سب زمینیں خراجی ہیں سرکار کی طرف سے مالگذاری جو مقرر ہے دینی ضروری ہے، اس لیے یہ سوال عام طور پر ہوتا ہے کہ آج کل کی زمینوں میں مسلمانوں پر عشر ہے یا کیا ہے۔ میری ناقص تحقیق اس میںیہ ہے۔ کہ ایسی اراضی پر ربع عشر ہے، یعنی چالیسواں حصہ واجب ہے کیونکہ حدیث شریف میں آبپاشی کے اخراجات پر لحاظ رک کے عشر سے نصف عشر آیا ہے، تو سرکاری مال گذاری نہ دے تو جوت بھی نہیں سکتا اس سے معلوم ہوا ہے کہ سرکاری مال گذاری کو اخراجات آبپاشی سے زیادہ دخل ہے، پس جب اس کا لحاظ ہے، تو اس کا کیوں نہیں ہو گا۔
جناب من! ایسا کیوں نہیں کیا جائے کہ زمیندار اس امر کا لحاظ کرے کہ سرکار انگریزی کو مال گذاری ادا کرے اس امر کا خیال کرے کہ سرکاری نے جس قدر کہ مال گذاری مجھ سے لی ہے آیا وہ مال گذاری زمین بارانی کی پیداوار کے عشر کے برابر ہو جاتی ہے یا نہیں۔ اگر عشر کے برابر وہ جاتی ہے، تو اب عشر کے ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اور اگر عشر سے کم مقرر کر دیا ہے ،تو بعد ادائے مالگذاری اتنا حصہ نکال دے کہ عشر پورا ہو جائے۔ (فتاویٰ ثنائیہ جلد اول ص ۴۶۳)

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 7 ص 122۔124

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ