سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

عورت کامسجد میں نماز پڑھنے کا حکم

  • 309
  • تاریخ اشاعت : 2011-12-07
  • مشاہدات : 16

سوال

سوال: اسلام و علیکم  کیا عورتیں مسجد میں جا سکتی ہیں؟نماز پڑھ سکتی ہیں؟اس کی دلیل قرآن و حدیث سے چاہیے۔احناف کس بنا پر عورتوں کو مسجد میں جانے سے روکتے ہیں؟  جزاک اللہ

جواب: عورتوں کا مسجد جانا جائز ہے لیکن افضل نہیں ہے۔
عرصہ ہوا، محرمات کے عنوان سے ایک مفصل تحریر مرتب کی تھی، اس میں اختلاط مرد وزن کے عنوان کے تحت اس بارے کچھ مواد جمع کیا تھا۔ اسے یہاں پیش کر رہا ہوں:
١) رسول اللہۖ نے اپنے زمانے میں عورتوں کو مسجد میں آ کر نماز پڑھنے کی اجازت دی تھی' لیکن اس کو افضل قرارنہ دیا تھا۔ حضرت اُمّ حمید الساعدیہ عرض کرتی ہیں کہ میں آپۖ 'کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی: اے اللہ کے رسولۖ! مجھے آپۖ کے ساتھ نماز پڑھنا بہت محبوب ہے 'تو آپۖ نے فرمایا:
 
((عَلِمْتُ اَنَّکِ تُحِبِّیْنَ الصَّلاَةَ مَعِیَ وَصَلَاتُکِ فِیْ بَیْتِکِ خَیْر لَّکِ مِنْ صَلَاتِکِ فِیْ حُجْرَتِکِ وَصَلَاتُکِ فِیْ حُجْرَتِکِ خَیْر لَّکِ مِنْ صَلَاتِکِ فِیْ دَارِکِ وَصَلَاتُکِ فِیْ دَارِکِ خَیْر لَّکِ مِنْ صَلَاتِکِ فِیْ مَسْجِدِ قَوْمِکِ وَصَلَاتُکِ فِیْ مَسْجِدِ قَوْمِکِ خَیْر لَّکِ مِنْ صَلَاتِکِ فِیْ مَسْجِدِیْ)) (٢)
''مجھے یہ معلوم ہے کہ تمہیں میرے ساتھ نماز پڑھنا بہت زیادہ محبوب ہے' لیکن تیری اپنے گھر کے کسی رہائشی کمرے کی نماز تیری اپنے گھر کے صحن کی نماز سے بہتر ہے' اور تیرا اپنے گھر کے صحن میں نمازپڑھنا اپنی حویلی میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے' اور تیرا اپنی حویلی میں نماز پڑھنا اپنے محلے کی مسجد میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور تیرا اپنے محلے کی مسجد میں نماز پڑھنا میری مسجد میں نماز پڑھنے سے بہترہے۔''
٢) اسی طرح رسول اللہۖ نے مسجد میں نماز پڑھنے والوں کی صفوں کے بارے میں فرمایا:
 
((خَیْرُ صُفُوْفِ الرِّجَالِ اَوَّلُھَا وَشَرُّھَا آخِرُھَا وَخَیْرُ صُفُوْفِ النِّسَاء آخِرُھَا وَشَرُّھَا اَوَّلُھَا)) (٣)
''مَردوں کی سب سے بہتر صف وہ ہے جو سب سے پہلی ہے اور سب سے بدتر صف وہ ہے جو کہ آخری ہے (کیونکہ یہ عورتوں کے نزدیک ہے)' اور عورتوں کی بہترین صف سب سے آخری صف ہے اور بدترین صف سب سے پہلی صف ہے (کیونکہ یہ مَردوں کے نزدیک ہے)۔''
٣) رسول اللہۖ کے زمانے میں عورتیں اُن نمازوں کے لیے مسجد میں آتی تھیں جو کہ اندھیرے میں ہوتی ہیں' مثلاً فجر' مغرب اور عشاء۔ آپۖ کی حدیث ہے:
 
((اِئْذَنُوْا لِلنِّسَاء بِاللَّیْلِ اِلَی الْمَسَاجِدِ)) (٤)
''(اپنی) عورتوں کو رات کے اوقات میں نماز کے لیے نکلنے کی اجاز ت دو۔''
٤) رسول اللہۖ کے زمانے میں عورتیں جب نماز کے لیے آتی تھیں تو مکمل حجاب کے ساتھ آتی تھیں۔ حضرت عائشہ سے مروی ایک روایت کے الفاظ ہیں:
 
کُنَّ نِسَائُ الْمُؤْمِنَاتِ یَشْھَدْنَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ۖ صَلَاةَ الْفَجْرِ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوْطِھِنَّ ثُمَّ یَنْقَلِبْنَ اِلٰی بُیُوْتِھِنَّ حِیْنَ یَقْضِیْنَ الصَّلَاةَ لاَ یَعْرِفُھُنَّ اَحَد مِّنَ الْغَلَسِ (٥)
''عورتیں رسول اللہۖ کے ساتھ فجر کی نماز میں حاضر ہوتی تھیں اِس حال میں کہ انہوں نے اپنے سارے جسم کو اچھی طرح اپنی چادروں میں لپیٹا ہوتا تھا' پھر وہ نماز ادا کرنے کے بعد اپنے گھروں کو جاتیں' اور ان کو اندھیرے کی وجہ سے کوئی بھی پہچان نہ سکتا تھا۔''
یعنی اتنا اندھیرا ہوتا تھا کہ یہ بھی پتا نہیں چلتا تھا کہ عورت جا رہی ہے یا مرد۔
٥) اللہ کے رسولۖ نے اپنے زمانے میں مسجد میں عورتوں کے داخل ہونے کے لیے الگ دروازہ مقرر کر دیا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عمرسے روایت ہے کہ رسول اللہۖ نے فرمایا:
 
(( لَوْ تَرَکْنَا ھٰذَا الْبَابَ لِلنِّسَاء)) قَالَ نَافِع تِلْمِیْذُ ابْنِ عُمَرَ فَلَمْ یَدْخُلْ مِنْہُ ابْنُ عُمَرَ حَتّٰی مَاتَ (٦)
''کاش کہ ہم مسجد کا یہ دروازہ عورتوں کے لیے مخصوص کر دیں!'' امام نافع جو کہ حضرت عبداللہ بن عمرکے شاگرد ہیں' فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر وفات تک اُس دروازے سے مسجد نبوی ۖمیں کبھی بھی داخل نہ ہوئے۔''
٦) بعض صحابہ کرام نے رسول اللہۖ کی وفات کے بعد عورتوں کے مسجد میں جا کر نماز پڑھنے کو ناپسند بھی کیا ہے۔ حضرت عائشہ سے روایت ہے' وہ فرماتی ہیں:
 
لَوْ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ۖ رَأَی مَا اَحْدَثَ النِّسَاء لَمَنَعَھُنَّ الْمَسْجِدَ کَمَا مُنِعَتْ نِسَاء بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ (٧)
''اگر اللہ کے رسول ۖ آج کل کی عورتوں کی حالت دیکھ لیتے تو لازماً ان کو مسجد میں جانے سے روک دیتے جیسا کہ بنی اسرائیل کی عورتوں کو روکا گیا تھا۔''
٢) صحیح ابن خزیمہ' کتاب الصلاة۔
٣) رواہ مسلم' کتاب الصلاة' باب تسویة الصفوف واقامتھا وفضل الاول فالاول منھا۔
٤) رواہ مسلم' کتاب الصلاة' باب خروج النساء الی المساجد اذا لم یترتب علیہ فتنة۔
٥) رواہ البخاری' کتاب مواقیت الصلاة' باب وقت الفجر۔
٦) سنن ابی داود' کتاب الصلاة' باب فی اعتزال النساء فی المساجد عن الرجال۔

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ