سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(166) حدیث میں آیا ہے کہ مقتدی صف میں تنہا نہ کھؔڑا ہو الخ

  • 2917
  • تاریخ اشاعت : 2013-05-16
  • مشاہدات : 517

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

حدیث شریف میں جو وارد ہے کہ مقتدی صف میں تنہا نہ کھڑا ہو بلکہ اگلی صف سے کسی کو کھینچ کر اپنے ساتھ ملاوے اس سے کیا مراد ہے آیا صف کے درمیان سے کھینچے یا کنارہ صف سے اور اگر کنارہ صف سے تو اس کو وسط میں صف کے لاوے یا وہیں کنارہ پر کھڑا ہوا۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیلکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ایسی حالت میں مقتدی کو چاہیے کہ صف کے کنارہ سے کسی کو کھینچ کر اپنے ساتھ شامل کرے کیونکہ اگر درمیان صف سے کھینچے گا تو صف میں خلل اور فصل واقع ہو گا۔ سنن ابودائود میں ابن عمرؓ سے مروی ہے۔ ان النبی صلی اللہ علیه وسلم قال اقیموا الصفوف و حاذواظبین المناکب و سدوا الخلل و لاتذروا فرجات للشیطان و من وصل صفاً وصله اللہ و من قطع صفا قطعه اللہ۔ یعنی فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوف کو درست کرو اور مونڈھو کو برابر رکھو اور درمیان میں جو فاصلہ ہو اس کو بند کرو اور شیطان کے لیے کوئی گنجائش باقی نہ چھوڑو جس نے صف کو ملایا اللہ اس کو ملا دے گا اور جس نے صف کو قطع کیا اللہ اس کو قطع کرے گا۔ یہ حکم یعنی صف کے پیچھے تنہا نہ کھڑا ہونا بلکہ دوسرے کو شامل کرنا خاص مرد کے لیے ہے۔ اگر عورت ہے تو اس کو تنہا کھڑا ہونا حدیث سے ثابت ہے۔ صحیح بخاری میں انس ابن مالکؓ سے مروی ہے قال صلیت انا و یتیم فی بیتنا خلف رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم و امی خلفنا ام سلیم یعنی میں نے ایک یتیم کے ساتھ اپنے مکان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کی میری والدہ ام سلیم پیچھے کھڑی تھیں۔ فتح الباری میں تحت اس حدیث کے مرقوم ہے۔ الاقرب ان البخاری قصد ان یبین ان ھذا مستثنیٰ من عموم الحدیث فیه لاصلٰوة لمنفرد خلف الصف یعنی انه مختص بالرجال و استدل به ابن بطال علی صحة صلٰوة المنفرد خلف الصف خلافا لاحمد لانه لما ثبت للمرأة کان للرجال اولٰی و لکن لمخالفه ان یقول انما ساغ ذلک لامتناع ان تصف مع الرجال بخلاف الرجل فانه له ان یصف معھم و ان یزاحمھ و ان یجدب رجلاً من حاشیة الصف فیقوم معه فافترقا انتہٰی صفحہ ۴۵۱ پارہ سوم یعنی بخاری کا مقصوعد اس امر کا بیان کرنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ صف کے پیچھے تنہا شخص کی نماز نہیں اس حکم سے عورت مستثنیٰ ہے، یہ حکم خاص مردوں کے لیے ہے ابن بطلال نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے اس امر پر کہ صف کے عقب اکیلے آدمی کی نماز جائز ہے خواہ مرد ہو یا عورت کیوں کہ جب عورت کے لیے یہ حکم ثابت ہوا تو مرد کے لیے بطریق اولیٰ ثابت ہو گا۔ لیکن مخالف یہاں پر کہہ سکتا ہے کہ عورت کے لیے تنہا کھڑا ہونا اس لیے جائز ہوا کہ اس کو مردوں کے ہمراہ صف میں شامل ہونا جائز نہیں اور مرد کو درمیان میں داخل ہونے اور صف کے کنارہ سے کسی کو کھینچنے کی گنجائش ہے پس دونوں میں فرق ہو گیا۔ چونکہ جماعت کی ابتداء صف کے وسط اور درمیان سے قائم ہوتی ہے۔ اس لیے صف کے درمیان لا کر کھڑا ہونا چاہیے۔

 

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 3 ص 78۔79

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ