ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:
خاوند اور بیوی کو علم ہونا چاہیے کہ جماع کرتے ہوئے غسل کا موجب بننے والے امور دو ہیں:
امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’’ انزال کے بغیر بھی اگر عضو مخصوص کا اگلا حصہ فرج میں داخل ہو جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے، اور اس مسئلے پر امت کا اجماع ہے۔ اگرچہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور بعد کے بعض اہل علم میں اس پر اختلاف رہا، تاہم بعد میں اس پر مکمل اتفاق ہو گیا، اور اس کی تفصیلات پہلے گزر چکی ہیں۔ ‘‘ شرح صحیح مسلم: (4 / 40، 41)
اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (36865) ، (83570) ، (2458) اور (12317) کا جواب ملاحظہ کریں۔
عورت اور مرد کی منی میں فرق پایا جاتا ہے: مرد کی منی سفید اور گاڑھی ہوتی ہے، جبکہ عورت کی منی زردی مائل اور پتلی۔ جیسے کہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (یقیناً مرد کی منی گاڑھی اور سفید ہوتی ہے جبکہ عورت کی منی پتلی اور زرد ہوتی ہے۔) مسلم(311)
یہی وہ منی ہے جس کے نکلنے پر مرد و عورت دونوں پر غسل فرض ہو جاتا ہے۔
واللہ اعلم