سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(143) رضاعی خالہ سے نکاح کا حکم

  • 2894
  • تاریخ اشاعت : 2013-05-13
  • مشاہدات : 929

سوال


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میری شادی ایک ایسی لڑکی سے ہوئی ہے جس نے میری نانی کا دودھ پیا ہوا ہے۔شادی سے پہلے مجھے اس بات کا بالکل علم نہیں تھا۔اب میرے تین بچے بھی ہیں۔ میری دو بہنوں کی شادی میری بیوی کے دو بھائیوں سے ہو چکی ہے۔ اب اگر میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں تو میری بہنوں کو بھی وہ طلاق دے دیں گے،اس طرح ان کے گھر بھی برباد ہو جائیں گے جبکہ میری بہنوں کے بچے بھی ہیں۔ اور میرے والدین بھی میری بیوی کو طلاق دینے سے مجھ سے ناراض ہو جائیں گے،اور مجھے گھر سے بھی نکال سکتے ہیں۔اگر میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں تو بہت تباہی مچتی ہے۔ جناب میں بہت پریشان ہوں قرآن و سنت کی روشنی میں میری مدد کیجئے۔


 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیلکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صورت مسؤلہ میں وہ لڑکی آپ کی والدہ کی رضاعی بہن اور آپ کی رضاعی خالہ لگتی ہے،اوررضاعی خالہ سے نکاح کرنا حقیقی خالہ کی طرح شریعت اسلامیہ میں ناجائز اور حرام ہے۔ کیونکہ رضاعت سے وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 ’’ يَحْرُمُ مِنْ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنْ النَّسَبِ ‘‘ (رواه البخاري:2645) ،و (مسلم: 1447)

 جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہو جاتے ہیں۔

اگر یہ نکاح لاعلمی میں ہوا تھا تو سابقہ غلطی اللہ تعالی معاف کر سکتے ہیں،لیکن علم ہوجانے کے بعد آپ دونوں میاں بیوی کا اکٹھے رہنا حرام عمل ہے۔ آپ کو چاہئے کہ فوری طور پر ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں ۔

باقی رہا مسئلہ والدین کی ناراضگی اور بہنوں کے گھر اجڑنے کا تو میرا نہیں خیال کہ کوئی بھی سمجھدار آدمی یہ حقیقت منکشف ہو جانے کے بعد بھی اعتراض کرے گا۔ آپ باقاعدہ طور پر اہل علم سے فتویٰ حاصل کریں اورعلماء کرام کے ذریعے تمام خاندان کو اس رشتے کی حرمت کے بارے میں بتائیں،ان شاء اللہ کوئی نہ کوئی حل ضرور نکل آئے گا۔اللہ آسانی پیدا کرنے والا ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب


فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 3

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ