سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(139) اللہ نبی وارث کہنے کی حرمت

  • 2890
  • تاریخ اشاعت : 2013-05-12
  • مشاہدات : 973

سوال




السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
جناب عالی گذارش ہے کہ میرے امی ابو مجھے گھر سے باہر نکلتے ہوئے اللہ نبی وارث کہتے ہیں ۔ میں نے انہیں ایسا کہنے سے روکا ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ اس میں ہرج کیا ہے اور اس سے اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا تو نہیں ہے ۔ تو آپ مجھے بتائیں کہ ایسا کہنا صحیح ہے یا نہیں؟ اور اگر صحیح نہیں ہے تو قرآن و حدیث سے بتائیں کہ کیوں نہیں صحیح تا کہ میں ان کو بھی بتا سکوں۔؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جناب عالی گذارش ہے کہ میرے امی ابو مجھے گھر سے باہر نکلتے ہوئے اللہ نبی وارث کہتے ہیں ۔ میں نے انہیں ایسا کہنے سے روکا ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ اس میں ہرج کیا ہے اور اس سے اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا تو نہیں ہے ۔ تو آپ مجھے بتائیں کہ ایسا کہنا صحیح ہے یا نہیں؟ اور اگر صحیح نہیں ہے تو قرآن و حدیث سے بتائیں کہ کیوں نہیں صحیح تا کہ میں ان کو بھی بتا سکوں۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیلکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ایسا کہنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے اور اس میں شرک کا عنصر پایا جاتاہے۔ کیونکہ یہ دعائیہ الفاظ ہیں جن کے ساتھ کسی کی حفاظت کی لئے دعا کی جاتی ہے۔ اور اللہ کے علاوہ کسی سے بھی دعا کرنا شرک ہے،دعا ایک عبادت ہے جو صرف اللہ تعالیٰ سے کی جاسکتی ہے۔ نیزحفاظت کرنے والا اور نفع و نقصان کا مالک صرف اللہ تعالی ہے،لہذا نبی ،ولی جن اور فرشتے سمیت کسی بھی غیر اللہ کے بارے میں نفع ونقصان کا عقیدہ رکھنا ،یہ بھی شرک کے زمرے میں آتا ہے۔آپ کے والدین کو چاہئے کہ وہ صرف (اللہ وارث) ہی کہہ کر آپ کو رخصت کیا کریں۔

باقی رہی آپ کے والدین کی یہ بات کہ اس سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منع نہیں کیا ہے تو جناب گزارش ہے کہ یہ اردو کے الفاظ ہیں اور اللہ تعالیٰ نے شریعت اسلامیہ کا کوئی ایک حکم بھی اردو میں نازل نہیں کیا اور نہ ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اردو جانتے تھے ،شریعت کی تمام تعلیمات عربی زبان میں ہیں۔ یہاں ہم نے دیکھنا یہ ہے کہ ان الفاظ کا مقصود ومفہوم کیا ہے،اور وہ واضح ہے کہ ان الفاظ کے ساتھ کسی کی حفاظت کے لئے دعا کی جاتی ہے اور دعا ایک عبادت ہے جو صرف اللہ تعالیٰ سے کی جاسکتی ہے۔اس کے علاوہ کسی اور سے کرنا شرک ہے۔اور شرک کی حرمت پر بے شمار دلائل موجود ہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 3

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ