سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(120) وارث کو وصیت میں دیئےجانے والے مال کی واپسی کا مطالبہ اور اس کی تقسیم

  • 2871
  • تاریخ اشاعت : 2013-04-27
  • مشاہدات : 504

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

شوہر نے مرتے ہوئے اپنے ہم زلف کو ڈیڑھ لاکھ روپے دے کر یہ وصیت کی کہ یہ رقم گاؤں میں موجود میری بیوی کو دے دی جائے ۔جب کہ شوہر کے انتقال کے بعد گاؤں میں موجود شوہر کے والد اور بھائیوں نے جائیداد،گھریلو سامان اور گندم وغیرہ کا ایک چوتھائی بیوہ کو دیے دیا کہ وراثت میں تمہارا حصہ اتنا ہی بنتا ہے۔ یاد رہے مذکورہ شوہر اور اس کی بیوی بے اولاد ہیں۔ اب شوہر کے والد اور بھائی اس کی بیوہ سے تقاضا کررہے ہیں کہ ہم زلف کے ذریعے دیے گئے ڈیڑھ لاکھ کا بھی بٹواراہ کیا جائے اور ایک چوتھائی کے علاوہ باقی رقم شوہر کے والد اور بھائیوں کو دی جائے۔ قران و سنت کی روشنی میں اس سلسلے میں رہنمائی فرما دیجیے کہ اس مذکورہ متوفی کی جائیداد اس کی بیوہ اور والدین میں کیسے تقسیم ہوگی اور الگ سے دیے گئے ڈیڑھ لاکھ کا حساب کیسے ہوگا۔ جزاک اللہ خیرا


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

1۔ اللہ رب العٰلمین نے وراثت کی تقسیم کا معاملہ ہمارے اجتہاد پر نہیں چھوڑا بلکہ بذاتِ خود نہایت حکمت کے ساتھ وراثت کے احکام اور تمام ورثا کے حصص تفصیلاً بیان فرمائے، فرمانِ باری ہے:

﴿ ءاباؤُكُم وَأَبناؤُكُم لا تَدر‌ونَ أَيُّهُم أَقرَ‌بُ لَكُم نَفعًا ۚ فَر‌يضَةً مِنَ اللَّـهِ ۗ إِنَّ اللَّـهَ كانَ عَليمًا حَكيمًا ١١ ﴾ ۔۔۔ سورة النساء

جب الله سبحانہ نے تمام ورثا کے حصّے طے کر دئیے تو اب مرنے والے کیلئے جائز نہیں کہ اپنے ورثا کے حق میں مزید کوئی وصیّت کرے، نبی کریمﷺ کا فرمان ہے:

« إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ» ۔۔۔ سنن أبي داؤد علامہ البانی﷫ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

کہ اللہ تعالیٰ نے ہر حق دار کو اس کا حق دے دیا ہے لہٰذا وارث کیلئے وصیت نہیں ہے۔

بیوی بھی ورثا میں سے ہے، اس لئے اس کیلئے وصیت جائز نہیں، الّا یہ کہ دیگر ورثا راضی ہوجائیں۔

2۔ درج بالا سوال سے محسوس ہوتا ہے کہ مرنے والے شخص کے ورثا صرف اس کی بیوہ، والدین اور ایک سے زیادہ بھائی ہیں۔

بیوہ: میت کی اولاد نہ ہونے پر - چوتھائی حصّہ (فرضی) ملے گا۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

﴿ وَلَهُنَّ الرُّ‌بُعُ مِمّا تَرَ‌كتُم إِن لَم يَكُن لَكُم وَلَدٌ ۚ۔۔۔ ١٢ ﴾ ۔۔۔ النساء

کہ ’’ان (بیویوں) کے لئے تمہارے ترکہ کا چوتھائی حصہ ہوگا اگر تمہاری اولاد نہ ہو۔‘‘

ماں: بھائیوں کی موجودگی میں چھٹے حصّے (فرضی) کی وارث ہوگی، فرمانِ باری ہے:

﴿ فَإِن لَم يَكُن لَهُ وَلَدٌ وَوَرِ‌ثَهُ أَبَواهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ ۚ فَإِن كانَ لَهُ إِخوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ﴾ ۔۔۔ النساء

یعنی اگر میت کے (کئی) بھائی ہوں تو ماں کیلئے چھٹا حصہ ہے۔

باپ: اولاد کی عدم موجودگی کی بناء پر - عصبہ ہے، جبکہ بھائی باپ کی وجہ سے محروم ہیں۔ لہٰذا بیوی کا چوتھا اور ماں کا چھٹا حصہ نکالنے کے بعد باقی سارا مال باپ کا ہے۔ نبی کریمﷺ کا فرمان ہے:

« أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا فَمَا بَقِيَ فَلِأَوْلَىٰ رَجُلٍ ذَكَرٍ » ۔۔۔ صحيح البخاري ومسلم

’’مقرر کردہ (فرضی) حصے ان کے مستحقین (اصحاب الفرائض) تک پہنچا دو، اگر کچھ باقی بچ جائے تو وہ سارا قریبی ترین مرد رشتے دار (عصبہ) کیلئے ہے۔‘‘

اس طرح کل جائیداد کے 12 حصّے کیے جائیں گے، جن میں سے بیوہ کو 3 (چوتھائی)، ماں کو 2 (چھٹا) جبکہ باقی 7 حصے باپ کو مل جائیں گے۔


کل حصص ..........12

بیوی ..........4؍1 ..........3

ماں ..........6؍1 ..........2

باپ عصبہ .....................7

بھائی ..........محروم ..........0

لہٰذا مسئلہ ہذا میں شوہر کے گھر والوں نے بالکل شرعی معاملہ کیا ہے اور بیوہ کو اس کا صحیح صحیح حق (چوتھا حصہ) دے دیا ہے اور ان کا ڈیڑھ لاکھ ترکہ میں واپس شامل کرنے کا تقاضا بھی بالکل صحیح ہے، اس ڈیڑھ لاکھ میں سے بھی بیوہ چوتھائی کی حقدار ہوگی۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 3

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ