سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(29) باپ کا اولاد کو جائداد تحفے میں دینا

  • 2861
  • تاریخ اشاعت : 2013-04-24
  • مشاہدات : 884

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا باپ اپنی زندگی میں اپنی جائداد دو بیٹوں کو تحفے میں دے سکتا ہے؟ جبکہ دو بیٹے اور تین بیٹیاں محروم کردی جائیں- فوت ہوئے بیٹے کا حصہ اس کی اولاد اور بیوی کو ملے گا یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

1۔ انسان اپنی زندگی میں اپنے مال میں تصرّف کا حق رکھتا ہے، لہٰذا وہ کسی کو بھی اپنے مال سے کچھ حصہ ہبہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ لیکن یہ ہبہ اگر اولاد کو کرنا ہو تو ان میں عدل اور برابری ضروری ہے بعض کو دینا اور بعض کو نہ دینا ظلم وجور ہے۔

صحیحین میں سیدنا نعمان بن بشیر﷜ سے مروی ہے کہ ان کے باپ (بشیر﷜) نے ان کی ماں کے کہنے پر انہیں کچھ مال ہبہ کر دیا، تو ان کی ماں نے کہا کہ اس پر نبی کریمﷺ کو گواہ بنا لو۔ سیدنا بشیر﷜ نے جب نبی کریمﷺ نے اس کی درخواست کی تو نبی کریمﷺ نے پوچھا کہ کیا تمہاری کوئی اور اولاد بھی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! نبی کریمﷺ نے دریافت فرمایا کہ کیا تم نے سب کو اتنا ہی مال ہبہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں! تو نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ میں ظلم پر گواہ نہیں بن سکتا۔

2۔ اگر کوئی شخص اپنے والدین کی زندگی میں فوت ہوگیا ہو تو وہ اپنے ماں باپ کا وارث نہیں، بلکہ اس کے ماں باپ اس کے وارث ہوں گے۔ کیونکہ وراثت کی شرائط میں سے ہے کہ مورّث کی وفات کے وقت وارث زندہ ہو۔

البتہ اگر یہ شخص اپنی ماں یا باپ کی وفات کے بعد لیکن ان کی وراثت کی تقسیم سے پہلے فوت ہوگیا تو اس کا حصہ بھی نکالا جائے گا جو اس کے ورثا میں تقسیم ہوگا۔ اسے وراثت کی اصطلاح میں مناسخہ کہا جاتا ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الطہارہ جلد 2

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ