سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(28) طلاق معلق کا حکم

  • 2860
  • تاریخ اشاعت : 2013-04-23
  • مشاہدات : 1255

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرے ساتھ بہت برا ہوا ہے میرے میاں شادی کے ایک مہینے میرے ساتھ ٹھیک رہے تھےپھرآہستہ آہستہ میرے میاں کا رویہ میرے ساتھ بدلتا گیا ہر چھوٹی چھوٹی بات پر مجھ سے لڑتے تھے، کہتے تھے یہ شادی میں نے اپنی ماں کی مرضی سے کی ہے ۔میں نہیں کرنا چاہتاتھا پھر سب گھر والوں کا رویہ میرے ساتھ بدل گیا۔جو ماں بہنیں کہتی تھی وہ میرے ساتھ کرتے تھے میرے میاں نے مجھے جاننا چھوڑ دیا۔ نہ ہی وہ میری عزت کرتے تھے اور نہ ہی قدر کرتے ۔میں نے پھر بھی کچھ نہیں کہا میں خاموش رہی میں نے سوچا سب ٹھیک ہو جائے گا۔ پھر مجھے شادی کے دو مہینے بعد حمل ہو گیا۔میرے ساتھ اور بھی بُرا سلوک کرنے لگے مجھے ذہنی ٹارچر کرنے لگے میرے میاں میرے ساتھ لڑتے جھگڑتے تھے جو کہتے تھے میں کرتی تھی میں اپنے میاں کی ہر بات مانتی تھی آج تک مجھے جیب خرچ بھی نہیں دیا میں بیمار ہوئی یا کوئی بھی خوشی غمی ہوتی تو سارا خرچہ میرے ماں باپ کرتے حمل کے دوران سارا خرچا میرے ماں باپ نے کیا ایک پیسہ بھی میرے میاں نے خرچ نہیں کیا یہاں تک کہ ڈلیوری بھی مہکے میں ہوئی وہ خرچا بھی میرے ماں باپ نے کیا حمل کے دوران میرے میاں اور ان کے گھر والوں نے میرے ساتھ بہت برا سلوک کیا ۔وہ مجھے کھانے کے لیے روٹی بھی صحیح طریقے سے نہیں دیتے تھے مجھے کہتے تھے کہ تم دھوکے باز باپ کی بیٹی۔ گندے باپ کی بیٹی ہو ۔میرے ماں باپ اور میرے بہن بھائیوں کو برا بھلا کہتے تھے۔

میرے میاں نے مجھے کئی بار کہا ہے کہ تم ’’میری طرف سے فارغ ہو ‘‘۔اگر تم اپنے کسی رشتے دار سے ملو گی یا اگر تم ان کے گھر جاؤ گی تو’’میری طرف سے فارغ ہو‘‘ اگر اپنے ماں باپ کے گھر بھی جاؤ گی تو ’’میری طرف سے فارغ ہو ‘‘ تم اپنے ماں باپ کے گھر جا کر کچھ بھی کرو گی تو تم ’’میری طرف سے فارغ ہو‘‘ وہ ہر بات میں مجھ سے یہی کہتے تھے کے تم میری طرف سے فارغ ہو۔

پھر میں ملتان آ گئی ڈلیوری کے لیے جس دن میری ڈلیوری ہونی تھی اُ س دن میں نے میاں کو فون کر کے کہا آپ آجاؤ میری آج ڈلیوری ہے میرے میاں نے جھوٹ بول دیا میں آ رہا ہوں لیکن نہ ہی میرا میاں آیا اور نہ ہی کوئی ساس وغیرہ۔ میری بیٹی پیدا ہوئی کچھ دن بعد میرا میاں اور ساس آئے اور مجھے اپنے ساتھ لے گئے وہاں لے جا کر میرے ساتھ بہت برا سلوک کیا مجھ پر تعویز کئے تاکہ میں مر جاؤں میں نے پورا چلا سسرال میں بہت مشکل سے گزارا یہاں تک کہ میری بیٹی کو بھی میری ساس مار ڈالنا چاہتی تھی میں نے پورا چلا اکیلے کمرے میں گزارا نہ ہی رات کو میرے میاں میرے پاس آتا تھا اور نہ ہی کوئی نند یا ساس ۔

میرے میاں نے کہا کہ میں اب تیرے ساتھ گزارا نہیں کر سکتا تو میرے کسی قابل نہیں اور پھر میرے میاں نے میرے ابو کو تین دن فون کیا کہ اپنی بیٹی کو آکر لے جاؤ ورنہ میں مار ڈالوں گا جب میرے امی ابو میرے سسرال پہنچے تو دیکھا میرے بہت بری حالت تھی میرے امی ابو کے ساتھ لڑنے لگے اور پھر دوسرے دن جب ہم ملتان آنے لگے تو میرے میاں اور ساس وغیرہ ہمیں آنے نہیں دے رہے تھے کہتے تھے کہ اپنی بیٹی کو لے جاؤ ہماری بیٹی کو چھوڑ جاؤ میرے امی ابو مجھے اور میری بیٹی کو بہت مشکل سے ملتان لے کر آئے ہمارے پاس صرف ایک بیگ تھا جس میں صرف دوسوٹ میرے اور دوتین میری بیٹی کے تھے جب ہم ملتان آگئے تو اس ہی دن میرے چچا کو فون کر کے میری ساس اور میرے میاں نے کہا کہ یہ دو تولے سونا اور پانچ تولے چاندی چوری لے گئی ہے مجھ پر الزام لگا دیا جو میری شای پر مجھے پانچ تولے سونا ڈالا تھا وہ میری ساس نے مجھ سے شادی کے دوسرے مہینے اتار لیا تھا مجھے وہ کبھی بھی واپس نہیں دیا اب مجھے اور میری بیٹی کو ملتان آئے ہوئے سات مہینے ہو گئے ہیں نہ ہی میرے میاں نے مجھ آج تک فون کیا اور نہ ہی اپنی بیٹی کا پوچھا ہے اور نہ ہی بیٹی کا خرچا دیتا ہے سب کچھ میرے امی ابو کر رہے ہیں۔ اور جب میں اپنے امی ابو کے ساتھ ملتان آئی تو میرے میاں نے میرے چچا کو فون کر کے کہا میری طرف سے اس کو ایک طلاق ہو گئی ہے مختصر یہ کہ انہوں نے میرے ساتھ بہت برا سلوک کیا ہے۔ اب آپ اس کے بعد بتائیں کے طلاق واقع ہو گئی ہے یا ابھی بھی کوئی گنجائش ہے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ کے سوال کے دو پہلو ہیں۔

1۔ پہلا حصہ تو طلاق معلق سے تعلق رکھتا ہے ،جب آپ کے خاوند نے کہا کہ :

اگر تم اپنے کسی رشتے دار سے ملو گی یا اگر تم ان کے گھر جاؤ گی تو’’میری طرف سے فارغ ہو‘‘ اگر اپنے ماں باپ کے گھر بھی جاؤ گی تو ’’میری طرف سے فارغ ہو ‘‘ تم اپنے ماں باپ کے گھر جا کر کچھ بھی کرو گی تو تم ’’میری طرف سے فارغ ہو۔

ایسے تمام مواقع پر اگر آپ کے خاوند کی نیت طلاق کی تھی تو جب آپ نے وہ قدم اٹھا لیا ،جس سے اس نے منع کیا تو اس سے ایک طلاق واقع ہو گئی تھی ،اور جتنی بار آپ نے اپنے خاوند کی مخالفت کی ہر بار طلاق واقع ہوتی رہی،اگرچہ تین بار طلاق ہوجانے کے بعد طلاق بائنہ ہو جاتی ہے اور اس کے بعد مزید طلاق دینا غیر مفید امر ہے۔لیکن یہ آپ کے خاوند کی نیت اور آپ کی خلاف ورزی پر منحصر ہے کہ اس نے کتنی بار بنیت طلاق یہ لفظ بولے اور آپ نے کتنی مرتبہ اس کی خلاف ورزی کی۔اگر خاوند کی نیت صرف ڈرانا مقصود تھا یا آپ نے کسی موقع پر بھی خلاف ورزی نہیں کی تو کوئی بھی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔

2۔ جبکہ دوسرا حصہ اس فون سے تعلق رکھتا ہے جس میں اس نے آپ کے چچا کو فون پر ایک طلاق کی اطلاع دی ہے۔تو یہ ایک طلاق واقع ہو گئی ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الطہارہ جلد 2

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ