سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(21) ایام حیض میں بے قاعدگی کا حکم

  • 2853
  • تاریخ اشاعت : 2013-04-17
  • مشاہدات : 2776

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محترم بھائی اگر عورت کی ماہواری میں بے قاعدگی ہو یعنی حیض شروع ہوجائے ہفتہ سے کچھ دن کم کے بعد رک جائے اور اسی طرح پھر ہفتہ دس دن رکے رہنے کے بعد دوبارہ 2-4 دن کے لیے شروع ہو جائے تو قرآن و حدیث کے حوالے سے اسکا کیا حکم ہے۔؟ استحاضہ سے کیا مراد ہے، حیض اور استحاضہ میں فرق کس طرح کیا جائے گا۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

'استحاضہ' ایک قسم کی بیماری ہے۔ استحاضہ میں عورت کو ایام حیض کے علاوہ بھی خون آتا رہتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب قرآن مجید نے حیض کو ناپاکی قرار دیا ہے تو یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ چونکہ استحاضہ میں بھی عورتوں کو خون آتا ہے، اس وجہ سے اس کا حکم بھی شاید وہی ہو گا جو حیض کا ہے، یعنی ایک مستحاضہ کے لیے بھی وہ سب کچھ ممنوع ہو گا جس سے حائضہ کو روکا گیا ہے۔

اگرچہ مستحاضہ حائضہ کے حکم میں نہیں ہوتی، مگر چونکہ اسے بے وقت خون آتا رہتا ہے، اس وجہ سے اس کا وضو قائم نہیں رہ سکتا، تو کیا اس کو عبادات ترک کر دینی چاہییں ؟ اس سلسلے میں صحیح موقف یہی ہے کہ وہ استحاضہ کے ایام میں ہر نماز کے لءے وضو کر کے اپنی تمام نمازیں ادا کرے گی،روزے بھی رکھے گی اور دیگر تمام امور انجام دے گی۔

اس رخصت کی اساس قرآن مجید ہی میں موجود ہے۔ قرآن مجید کے سارے احکام، خواہ وہ معاملات سے متعلق ہوں یا عبادات سے، خود قرآن ہی کی رو سے ایک استثنا کے ساتھ مشروط ہیں۔ قرآن مجید کا ارشاد ہے:

’’ لاَ تُکَلَّفُ نَفْسٌ اِلاَّ وُسْعَهَا ‘‘ (البقره٢: ٢٣٣)

''کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر کسی چیز کا مکلف نہیں ٹھہرایا جاتا۔''

اسی طرح وضو، غسل اور تیمم کے حکم کے بعد اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’ مَا يُرِيدُ اللّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَجٍ وَلَـكِن يُرِيدُ لِيُطَهَّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ‘‘ (المائده ٥: ٦)

''اللہ یہ نہیں چاہتا کہ تمھارے لیے کوئی تنگی پیدا کرے، بلکہ وہ چاہتا ہے کہ تمھیں پاک کرے اور تم پر اپنی نعمت تمام کرے تاکہ تم اس کے شکر گزار ہو۔''

چنانچہ اس اصول پر مستحاضہ عورت ، سلسل البول کے مریض اور ایسے شخص جس کی ہوا خارج ہوتی رہتی ہو، کی مانند ہے،جسے ہر نماز سے پہلے وضو کر لینا چاہیے۔ اس کے بعد اگر نماز کے دوران میں اس کو اپنی علت کے مطابق سبیلین سے کوئی چیز خارج ہوتی محسوس ہو تو اس کو وضو اور نماز دہرانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ بخاری کی روایت ہے:

’’ عن عائشة قالت: إعتکفت مع النبی صلی اللّٰه عليه وسلم إمرأة من أزواجه فکانت تری الدم والصفرة، والطست تحتها وهی تصلی ‘‘ (رقم ٢٩٩)

''حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا) فرماتی ہیں : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے ایک آپ کے ساتھ اعتکاف میں بیٹھیں۔ انھیں استحاضہ کا خون آیا کرتا تھا۔ چنانچہ نماز پڑھتے ہوئے وہ اپنے نیچے ایک برتن رکھ لیا کرتی تھیں۔'' 

اس قسم کی بیماری میں یہ رخصت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی روایات سے بھی معلوم ہوتی ہے۔ابن ماجہ کی روایت ہے:

’’ عن عائشة قالت: جاء ت فاطمة بنت أبی حبيش إلی النبی صلی اللّٰه عليه وسلم فقالت: إنی إمرأة أستحاض فلا أطهر أفأدع الصلٰوة؟ فقال لها: لا، إجتنبی الصلٰوة أيام محيضك. ثم اغتسلی و توضئی لکل صلٰوة ثم صلی وإن قطر الدم علی الحصير ‘‘ (نيل الاوطار١/ ٣٢٣)

''حضرت عائشہ( رضی اللہ عنہا) کہتی ہیں : فاطمہ بنت ابی حبیش نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور انھیں بتایا کہ مجھے استحاضہ ہے اور میں پاک نہیں رہتی، کیا اس وجہ سے مجھے نماز چھوڑ دینی چاہیے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دو، پھر غسل کر کے ہر نماز سے پہلے وضو کر لو اورپوری نمازیں پڑھو، خواہ چٹائی (یعنی جاے نماز) پر خون ہی کیوں نہ ٹپکتا رہے۔''

مستحاضہ کے لیے حیض کی تعیین

شریعت نے جن کاموں سے حائضہ کو الگ رہنے کا حکم دیا ہے، ظاہر ہے کہ وہ سب ایک مستحاضہ پر بھی اس کے ایام حیض میں ممنوع ہیں۔ ہم پہلے یہ بیان کر چکے ہیں کہ استحاضہ میں عورت کو وقت بے وقت خون آتا رہتا ہے۔ چنانچہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک مستحاضہ اپنے ایام حیض کی تعیین کس طرح کرے گی؟

عام طور پر ایک مستحاضہ خون کی رنگت اور کثافت کے ذریعے سے حیض اور استحاضہ میں فرق کر سکتی ہے۔ حیض کا خون زیادہ گہرے رنگ کا اور گاڑھا ہوتا ہے، جبکہ استحاضہ کا خون زردی مائل اور پتلا ہوتا ہے۔ چنانچہ مستحاضہ کو چاہیے کہ وہ خون کی رنگت کے لحاظ سے حیض اور استحاضہ میں فرق کر کے حیض کے دنوں میں اس سے متعلق شریعت کے احکام کی پابندی کرے۔ اس کے بعد جب خون کی رنگت اور کثافت میں کمی ہو جائے تو اسے چاہیے کہ غسل کر کے پاک ہو جائے۔

یہی بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی روایات سے بھی معلوم ہوتی ہے۔ ابوداؤد رحمہ اللہ کی روایت ہے:

’’ عن فاطمة بنت أبی حبيش أنها کانت تستحاض فقال لها النبی صلی اللّٰه عليه وسلم: إذا کان دم الحيضة فإنه أسود يعرف، فإذا کان ذلک فأمسکی عن الصلٰوة، وإذا کان الآخر فتوضئی وصلی فإنما هو عرق ‘‘ (ابوداؤد، رقم ٢٤٧)

''فاطمہ بنت ابی حبیش (رضی اللہ عنہا) سے روایت ہے کہ جب انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے مستحاضہ ہونے کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: حیض کا خون تو سیاہی مائل ہوتا ہے اورپہچانا جاتا ہے، ایسا ہو تو نماز چھوڑ دو، پھر جب اس کی رنگت بدل جائے تو وضو کر کے نماز پڑھ لیا کرو۔ یہ حیض نہیں، یہ تو ایک رگ( کا خون) ہے(جو بہ نکلتی ہے)۔''

مگر یہ بھی ممکن ہے کہ کچھ عورتوں کے لیے خون کی رنگت کے لحاظ سے حیض اور استحاضہ میں فرق کرنا مشکل ہو جائے، ایسی عورتوں کو چاہیے کہ استحاضہ کی بیماری ہونے سے پہلے، انھیں مہینے کے جن دنوں میں حیض آتا تھا، انھی مخصوص دنوں کو وہ آیندہ کے لیے بھی اپنے حیض کے دن شمار کر لیں اور ان دنوں میں ان تمام احکام کی پابندی کریں جو شریعت نے حائضہ پر عائد کیے ہیں۔

یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی روایت سے بھی معلوم ہوتی ہے۔ امام مالک کی موطا میں روایت ہے:

’’ عن أم سلمة زوج النبی صلی اللّٰه عليه وسلم أن امرأة کانت تهراق الدماء فی عهد رسول اللّٰه صلی اللّٰه عليه وسلم فاستفتت لها أم سلمة رسول اللّٰه صلی اللّٰه عليه وسلم فقال: لتنظر إلی عدد الليالی والأيام التی کانت تحيضهن من الشهر قبل أن يصيبها الذی أصابها، فلتترك الصلٰوة قدر ذلك من الشهر فإذا خلفت ذلك فلتغتسل، ثم لتستثفر بثوب، ثم لتصلی ‘‘ (رقم ١٢٣)

''نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام المومنین حضرت ام سلمہ( رضی اللہ عنہا)سے روایت ہے کہ ایک عورت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بہت خون آتا تھا۔ حضرت ام سلمہ نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: وہ غور کرے کہ اس طرح (یعنی استحاضہ) ہونے سے پہلے، ہر ماہ کتنے دن اسے حیض آتا تھا۔ پھر وہ ہر مہینے کے اتنے ہی دن (حیض شمار کر کے) نماز سے الگ رہے۔ پھر جب وہ دن گزر جائیں تو غسل حیض کر لے اور کوئی کپڑا باندھ کر نماز پڑھ لیا کرے۔''

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الطہارہ جلد 2

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ