سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
برے اخلاق کی مالک بیوی کوطلاق
  • 28477
  • تاریخ اشاعت : 2026-05-22
  • مشاہدات : 3

سوال

میرے سالے کی بیوی اپنی ساس کے ساتھ برے اخلاق اوربے ادبی سے پیش آتی اوراس کی ہمیشہ بے عزتی کرتی ہے ، ساس میری بیوی کوٹیلی فون کرکے بہو سے تنگ آکر روتی ہے میری ساس کی ایک ہی بیٹی اورایک بیٹا ہے ، کئی بار شکوی شکایت کے بعد انہوں نے بہو کے گھروالوں سے بات کرکے ان کی بیٹی معاملات کی شکایت بھی کی لیکن کوئی فائدہ نہیں ۔ اورنہ ہی معاملہ سدھرتا نظر آتا ہے اس لیے انہوں نے طلاق کا سوچا اوراسے طلاق دے دی توکیا ایسا کرنا صحیح تھا ؟

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

الحمدللہ

اصل میں طلاق مکروہ ہے جس کی دلیل اللہ تعالی کا فرمان ہے :

 جولوگ اپنی بیویوں سے ایلاء کرتے ہیں وہ چار مہینے انتظار کریں اگرتووہ باز آجائيں اورواپس آجائيں تو اللہ تعالی بخشنے والا اوررحم کرنے والا ہے ، اوراگروہ طلاق دینے کا عزم کرلیں تو اللہ تعالی سننے اورجاننے والا ہے  ۔

اللہ تعالی نے لوٹنے کےبارہ میں فرمایا کہ  بخشنے والا اوررحم کرنے والا ہے  ، اورطلاق میں فرمایا :  سننے والا اورجاننے والا ہے  تواس میں کچھ تھدید اور ڈراویا ہے جو اس پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالی کے ہاں طلاق مکروہ اورناپسندیدہ ہے ۔

لیکن بعض اوقات حالات ایسے پیدا ہوجاتے ہیں کہ طلاق کے بغیر کوئي چارہ ہی نہيں ہوتا ، بلکہ بعض اوقات تومعاملہ طلاق کے وجوب تک جا پہنچتا ہے ، توجوحالات سائل نے ذکر کیے ہیں اس میں ہوسکتا ہے کہ مناسب حل طلاق ہی ہو ۔

اس لیے کہ خاوند کے بیوی پرحقوق میں شامل ہے کہ وہ اس کے خاندان والوں کی عزت و توقیر اوراحترام کرے ، اورپھر خاص کر ساس جو کہ خاوند کی والدہ بھی ہے کیونکہ آدمی پر والدہ کا حق بیوی کے حق سے مقدم ہے ، تو اس لیے بیوی کوخاوند کی والدہ کے بارہ میں ادب و احترام اورصلہ رحمی میں خاوند کا معاون و مدد گار ہونا چاہیے ۔

علماء رحمہم اللہ تعالی نے ذکر کیا ہے کہ طلاق ضرورت کے وقت مباح ہے ( جب اس کی ضرورت پیش آۓ بیوی کے برے اخلاق اوراس کی بری معاشرت اوررہن سہن اوربغیر کسی غرض کے ضرر اورنقصان دینے کی حالت میں ) دیکھیں المغنی ابن قدامہ ( 10 / 324 ) ۔

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب

34571

تبصرے