سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(15) کیا کفار نجس ہوتے ہیں؟

  • 2847
  • تاریخ اشاعت : 2013-04-15
  • مشاہدات : 622

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا کفار نجس ہوتے ہیں۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مشرکین کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلاَ يَقْرَبُواْ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَـذَا. (التوبه، 9 : 28)

’’اے ایمان والو ! مشرک نرے ناپاک ہیں، تو اس سال (سن 9 ھ) کے بعد وہ مسجد حرام کے پاس نہ آنے پائیں‘‘۔

’’فَـلَا يَقْرَبُوا‘‘ نہی ہے، اِسی لیے نون اعرابی گرا ہے۔ مسجد حرام سے مراد تمام حرم ہے۔ یہی مذہب ہے عطاء کا اس قول کے مطابق مشرک کو سارے حرم میں داخل ہونا حرام ہے۔ اگر چھپ کر حدودِ حرم میں داخل ہو گیا وہیں مر گیا اور دفن ہو گیا اس کی قبر اُکھاڑ کر ہڈیاں بھی نکال لی جائیں گی۔ سو مشرک نہ حرم کو وطن بنا سکے نہ وہاں سے گزر سکے۔

اور جمیع قسم کے کفار مشرک ہوتے ہیں،لہذا تمام کفار اس حکم کے عموم میں شمار ہوں گے۔اور نجس قرار پائیں گے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الطہارہ جلد 2

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ