سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(12) نکاح میں غیر مسلم کی گواہی

  • 2844
  • تاریخ اشاعت : 2013-04-13
  • مشاہدات : 1188

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے یہاں پانچ ماہ قبل ایک شادی ہوئی، جس میں گواہ کے طور پر جن اشخاص کا نام دیا گیا ہے، ان میں سے ایک کا تعلق قادیانیوں سے ہے،(جس کا علم اب ہوا ہے) کیا شرعی اعتبار سے یہ نکاح درست قرار پائے گا یا غیر درست ہوگا۔؟اگر غیر درست ہوگا تو اس کا کوئی متبادل حل بتائیں، فی ا لحال لڑکا اور لڑکی کو علیحدہ کیا گیا ہے۔ اس لئے جواب کا شدید انتظار رہیگا۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نكاح صحيح ہونے كے ليے دو عادل مسلمان گواہوں كا ہونا شرط ہے كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

عمران اور عائشہ رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" ولى اور دو عادل گواہوں كے بغير نكاح نہيں ہوتا "

اسے امام بيہقى نے روايت كيا اور علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح الجامع حديث نمبر ( 7557 ) ميں صحيح قرار ديا ہے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" دو مسلمان گواہوں كے بغير نكاح نہيں ہوتا، چاہے خاوند اور بيوى مسلمان ہوں يا پھر صرف خاوند مسلمان ہو امام احمد كا بيان يہى ہے، اور امام شافعى رحمہ اللہ كا بھى قول ہے كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" ولى اور دو عادل گواہوں كے بغير نكاح نہيں ہوتا " انتہى (ديكھيں: ( 7 / 7 ) مختصرا)

جمہور علماء كرام اسے نكاح كے صحيح ہونے كے ليے شرط قرار ديتے ہيں، ليكن مالكيہ كے ہاں عقد نكاح كے وقت واجب نہيں بلكہ رخصتى سے قبل تک گواہى كو مؤخر كرنا جائز ہے، اس ليے اگر آپ كے نكاح پر دخول سے قبل اب دو مسلمان شخص گواہ بن جائيں تو صحيح ہے. (ديكھيں: حاشيۃ الدسوقى ( 2 / 216 )

بعض اہل علم كا كہنا ہے كہ گواہ شرط نہيں بلكہ اعلان نكاح ہى كافى ہے، اس ليے اگر نكاح مشہور ہو گيا ہے اور اس كا اعلان كر ديا گيا جائے تو صحيح ہے، امام مالک اور امام زہرى رحمہم اللہ كا قول يہى ہے.

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ نے بھى يہى قول اختيار كيا ہے، اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ نے اسے ہى راجح قرار ديا ہے (ديكھيں: الشرح الممتع ( 12 / 94 )

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اس ميں شک و شبہ نہيں كہ نكاح كا اعلان كرنے سے نكاح صحيح ہو جاتا ہے، چاہے دو گواہ گواہى نہ بھى ديں، ليكن پوشيدہ نكاح اور گواہى ميں كچھ نظر ہے.

جب گواہى اور اعلان دونوں جمع ہوں تو اس نكاح كے صحيح ہونے ميں كوئى اختلاف نہيں.

اور جب گواہى اور اعلان نہ پايا جائے تو پھر عام علماء كے ہاں يہ نكاح باطل ہے، اگر اس ميں اختلاف فرض كيا جائے تو يہ بہت كم ہے " انتہى (ديكھيں: الاختيارات الفقھيۃ ( 177 )

اس بنا پر اگر نكاح كا اعلان ہو چكا اور مشہور ہوگيا تو يہ صحيح ہے، ليكن بہتر يہى ہے كہ جمہور علماء كے قول كے مطابق ولى اور دو گواہوں كى موجودگى ميں نكاح دوبارہ كيا جائے.

لیکن مذکورہ صورت حال میں لا علمی داخل ہے اور جہالت اللہ کے ہاں معاف ہے،نیز بعض اہل علم (جیسے امام ابن تیمیہ اور شیخ ابن عثیمین رحمہم اللہ )کے نزدیک نکاح میں اعلان ہی کافی ہے جو گواہوں کی عدم موجودگی کو کافی ہو جائے گا۔یہ نکاح ان شاء اللہ درست ہے ،اور اس کی درستگی میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

کتاب الطہارہ جلد 2

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ