سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
قاضى كى جانب سے دى گئى طلاق كى عدت
  • 28314
  • تاریخ اشاعت : 2026-04-22
  • مشاہدات : 6

سوال

كيا غير شرعى كورٹ كے جج كى جانب سے دى گئى طلاق يا فسخ نكاح كى عدت گزارى جائيگى، وہ اس طرح كہ شرعى عدالت نہ ہونے كى بنا پر خاوند يا بيوى كى جانب سے غير شرعى عدالت ميں ازدواجى تعلقات ختم كرنے كى درخواست دينا اور عدالت كا اس كے متعلق فيصلہ سنانا ؟

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اس عدالت كے بغير ہى شرعى عقد نكاح كرنا ممكن ہے، اور پھر عدالت ميں جا كر اس كى سركارى طور پر تصديق كرائى جا سكتى ہے.

ليكن طلاق كى شروط ميں شامل نہيں كہ اسے عدالت ميں ہى جا كر ديا جائے، بلكہ ممكن ہے كہ خاوند دو عادل گواہوں كے سامنے ايك كاغذ پر طلاق لكھ كر گواہوں كے اس پر دستخط كرا لے تو طلاق ہو جائيگى، ليكن عورت كو حيض كى حالت ميں طلاق نہيں دى جائيگى، اور نہ ہى اس طہر ميں جس ميں خاوند نے بيوى سے جماع كيا ہو، ليكن اگر حمل واضح ہو چكا ہو تو طلاق دى جا سكتى ہے.

ماخوذ از: مجلۃ الدعوۃ عدد نمبر ( 1762 ) صفحہ ( 37 )

11105

تبصرے