سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
كيا قاضى خاوند كى غير موجودگى ميں نكاح فسخ كر سكتا ہے
  • 28219
  • تاریخ اشاعت : 2026-04-15
  • مشاہدات : 100

سوال

كيا مسلمان قاضى كے ليے يكطرفہ طور پر ہى بيوى كى جانب سے دائركردہ مقدمہ ميں جو خاوند سے دور اكيلى رہ رہى ہو خلع كى كاروائى كرتے ہوئے نكاح فسخ كرنا جائز ہے ؟

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

جى ہاں ايسا كرنا جائز ہے، كيونكہ جب قاضى كے پاس يہ ثابت ہو جائے كہ خاوند اور بيوى كے مابين بہتر طريقہ سے ازدواجى زندگى بسر كرنا مشكل اور مستحيل ہے، اور خاوند كى جانب سے بيوى كو چھوڑ كر جانے ميں اسے جنسى اور اقتصادى اور معاشرتى طور پر نقصان اور ضرر ہو رہا ہے تو وہ نكاح كو فسخ كر سكتا ہے.

كيونكہ قاضى كو سلطہ اور طاقت حاصل ہے، اور قاضى ہر معاملہ كو ديكھ كر اور اسے معلوم كر كے اور اس كے سارے حالات كى خبر حاصل كر كے پورا مقدمہ سن كر كوئى فيصلہ كريگا، اور وہاں خاوند كى غير موجودگى فسخ نكاح كى كاروائى ميں كوئى اثرانداز نہيں ہوگى.

الشيخ ابراہيم الخضيرى

12179

تبصرے