ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:
’’ طلاق کا اختیار مرد کے ہاتھ میں دیے جانے کی جو حکمت ہے، وہ عدل اور انصاف پر مبنی ہے؛ اس کی چند بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:
یہ تین وجوہات بنیادی حکمتیں ہیں جن کی بنا پر طلاق کا اختیار مرد کو دیا گیا۔ اس کے علاوہ بھی دیگر حکمتیں موجود ہیں، مگر یہ سب سے نمایاں اور اہم ہیں۔
جہاں تک بغیر کسی وجہ کے طلاق دینے کا تعلق ہے، تو علما نے فرمایا ہے کہ طلاق کے احکام پانچ مختلف صورتوں پر منقسم ہوتے ہیں:
یعنی یہ پانچ شرعی احکام میں سے کسی ایک کے تحت آ سکتا ہے:
اصل میں طلاق پسندیدہ عمل نہیں ہے، کیونکہ یہ اس بندھن کو توڑتا ہے جس کے قائم کرنے کی شریعت نے ترغیب دی ہے، اور جسے برقرار رکھنے کو باعثِ خیر قرار دیا ہے۔
بعض صورتوں میں طلاق کے بہت سے نقصانات اور مفاسد بھی سامنے آتے ہیں، خصوصاً جب عورت کی شوہر سے اولاد ہو، تو طلاق کے نتیجے میں خاندانی نظام بکھر جاتا ہے اور بہت سے سماجی اور نفسیاتی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔
لیکن اگر میاں بیوی کے درمیان خوشگوار زندگی ممکن نہ ہو، اور دونوں کا اکٹھے رہنا مسلسل جھگڑوں اور اذیت کا سبب بنے، تو ایسی صورت میں طلاق جائز بلکہ باعثِ رحمت ہے۔
یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے کہ اس نے ایسی صورت میں طلاق کو جائز رکھا، ورنہ اگر ایسی پریشان کن زندگی کو زبردستی نبھانے پر مجبور کیا جاتا تو دونوں کی زندگی اجیرن بن جاتی۔ ‘‘
ماخوذ از: ’’فتاوی علماء البلد الحرام‘‘ از فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ: صفحہ: 299-300
111881